موضوع: افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری
افغانستان میں قیام امن کیلئے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔ بالآخر اس اٹھارہ سالہ لڑائی کو ختم کرنے کیلئے فریقین کے درمیان اس سال فروری میں ایک معاہدہ ہوا۔طالبان کی جانب سے معاہدے کا احترام کئے جانے کی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے ملک سے اپنی تمام فوجوں کی واپسی سے اتفاق کیا۔ معاہدہ میں طالبان نےوعدہ کیا کہ وہ علاقہ میں القاعدہ یا کسی دوسرے شدت پسند گروپ کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس معاہدے کے تحت پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی ہونی تھی لیکن افغان حکومت کا کہنا تھا کہ قیدیوں کو رہا کرنے سے پہلے جنگ بندی ضروری ہے تاہم امریکہ نے صدر اشرف غنی کی بات نہیں مانی اور اس کے دباؤں میںصدر افغانستان کو طالبان قیدیوں کو مرحلہ وار رہائی کا حکم دینا پڑا۔ طالبان نے اس حکم نامہ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بین۔افغان مذاکرات سے قبل ہی تمام طالبان قیدیوں کو دو ہفتہ کے اندر رہا کیا جائے۔ تاہم حکومتِ افغانستان نے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار کردیا۔ معاہدے میں اندرونِ افغانستان مختلف حلقوں کےدرمیان بات چیت کا وسیع تر عمل شروع کرنے کی بات طے ہوئی تھی۔ معاہدے پر دستخط ہونےکے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر اب کوئی برا واقعہ ہوا تو وہ ایسی طاقت کااستعمال کریں گے جسے اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہوگا اور صدر ٹرمپ کی بات صحیح ثابت ہوئی۔ معاہدے کے فوراً بعد ہی طالبان نےایک امریکی فوجی کو ہلاک کردیا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مزید بات چیت سے انکار کردیا۔افغانستان میں اس وقت جو سب سے اہم مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کا معاملہ کس طورپر آگے بڑھایا جائے تاکہ قومی پیمانے پرملک کے مستقبل کے تعلق سے کوئی سیاسی خاکہ تیار کیا جاسکے۔ اسی بات چیت کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر پاکستانی فوج کےسربراہ جنرل قمرجاوید باجوا نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے 9/جون کو افغانستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر اشرف غنی سے بات چیت کی۔ ملاقات کے بعد صدر غنی نےکہاکہ پاکستان کے فوجی حکام نے ایک آزاد افغان ریپبلک کی حمایت کی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس طرح کے معاہدے کامیاب کیوں نہیں ہو پاتے؟ پاکستان کی جانب سے پہلے بھی افغانستان میں قیام امن میں اپنا کردار ادا کرنے کے دعوے کئے جاتے رہے ہیں لیکن اس نےاپنے رخ میں کبھی بھی تبدیلی نہیں کی۔ اُنیس سو نواسی کا راولپنڈی شوریٰ، اُنیس سو بیانوے کا پشاورمعاہدہ اور اُنیس سو تِرانوے کا اسلام آبادسمجھوتہ یہ سب گواہ ہیں کہ افغان مجاہدین کسی سمجھوتے پر تو پہنچ سکتے ہیں لیکن اس کا احترام کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاہدے جھگڑے کی بنیادی وجہ کا حل تلاش نہیں کرپاتے اور یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ عسکریت پسندوں کو پناہ گاہوں کی فراہمی اور ان کی مالی وعسکری امداد۔ مثال کے طور پر راولپنڈی میں بین افغان مذاکرات کے بعد بھی اسلام آباد نے حذب اسلامی کی حمایت جاری رکھی جس کے رہنماگلبدین حکمت یار اعلیٰ ترین عہدے سے کم کچھ بھی منظور کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔2001 میں افغانستان سے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان نے افغانستان سے بھاگ کرآئے طالبان کو اپنے یہاں پناہ دے دی۔ طالبان کو صرف پناہ گاہیں ہی فراہم نہیں کی گئیں بلکہ انہیں مالی اور عسکری امداد بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ 19/مئی کو جاری ہونے والی امریکہ کی ڈیفنس انٹلیجنس کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ابھی بھی طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے دوسرے دہشت گرد گروپوں کو پناہ دئے ہوئے ہے جوافغان مفادات کے خلاف برابر حملے کرتے رہتے ہیں۔افغانستان میں بین-افغان مذاکرات دس مارچ سے شروع ہونے والے تھے لیکن طالبان قیدیوں کی رہائی کےمسئلے اور انتخابات کے نتائج کو لے کر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان پیدا تنازعہ کے باعث یہ مذاکرات شروع نہ ہوسکے لیکن اب چونکہ یہ تنازعہ حل ہوگیاہے اور دونوں حکومت میں شامل ہوگئے ہیں، امید کی جانی چاہئے کہ یہ بات چیت اب جلدشروع ہوجائے۔ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل باجوہ کے حالیہ کابل دورے سے بھی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ مذاکرات جلد شروع ہوسکتے ہیں۔لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ بین-افغان مذاکرات کے بعد جو امن قائم ہوگا کیا وہ دیرپا ثابت ہوگا ؟جب تک پاکستان افغان طالبان کی پناہ گاہوں کو بند کرکے ان کی امداد نہیں روک دیتا،افغانستان میں دیرپا امن کی امید کرنا فضول ہے۔ پاکستان کا اپنا مقصد ہے۔ وہ افغانستان میں اسٹریٹجک طو رپر اپنی موجودگی بڑھانا چاہتا ہے۔ وہ ہندوستان کوافغانستان سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں اپنی پسند کی حکومت کیلئے طالبان اور پشتون آبادی کے ایک بڑے حصہ کو ہمیشہ استعمال کیا ہے۔ اس لئے اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ افغان طالبان کی پناہ گاہیں ختم کرنے اور انکی امداد روکنے کیلئے کیا اقدامات کرتا ہے۔ اگر یہ پناہ گاہیں بند نہیں کی گئیں توافغانستان میں دیرپا امن کے قیام کی امیدصرف خام خیالی ہی ہوگی۔
Comments
Post a Comment