ہند اور چین کی لیفٹیننٹ جنرل سطح کی بات چیت
ہندوستان اپنے پڑوسی ملکوں سے ہمیشہ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ ہمسائیگی کے تعلق سے اس کا ایک اٹوٹ نظریہ یہ رہا ہے کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جاسکتے۔ جن ملکوں کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں، وہ ایک جغرافیائی حقیقت کی بھی دین ہوتی ہیں لہٰذا پڑوسیوں کے درمیان اچھے تعلقات کا ہونا ، دونوں کے لئے اطمینان کی بات ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کبھی ایسے ملکوں کے درمیان سرحد کے کچھ معاملات بھی وجۂ اختلاف بن سکتے ہیں۔ ایسے تنازعات کو حل کرنے کے لئے بہتر طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ طرفین کی قیادت سوجھ بوجھ کا ثبوت دے اور بات چیت کا ایک ایسا وسیلہ تلاش کرے ، جس سے فوج کے متعلقہ ذمہ دار افسران ملتے جلتے رہیں اور بوقت ضرورت سیاسی قیادت بھی بات چیت کرتی رہے۔ اس طور پر ایک دوسرے کو سمجھنے اور ان کے احساسات کا اندازہ کرکے کشیدگی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور بے وجہ کے ٹکراؤ کے ماحول سے بچاجاسکتا ہے۔ ہندوستان اور چین کے درمیان اکثر ایسا ہوتا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی یکجہتی اور علاقائی سالمیت کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی اپنی زمین کا کوئی حصہ کسی اور کے حوالے کرسکتا۔ لیکن بات چیت کے ذریعے معاملات کو سلجھانا بہت اچھا متبادل ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں مشرقی لداخ کے قریب دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان ماحول تھوڑا کشیدہ ہوگیا۔ ہندوستان نے متعلقہ فوجی افسران کے مابین بات چیت کی تجویز رکھی۔ بات چیت ہوئی بھی۔ ہندوستانی ڈیلی گیشن کی قیادت 14کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ نے کی جبکہ چینی وفد کے سربراہ جنوبی مشن جیانگ ملٹری ضلع کے کمانڈر میجر جنرل لیو لین ( Liu lin) تھے۔ یہ بات چیت کوئی پانچ گھنٹوں پر محیط تھی۔ دراصل یہ بات چیت مقامی سطح کی کئی میٹنگوں کے بعد ہوئی تھی۔ ان میٹنگوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا جس کے باعث کشیدگی میں نسبتاً اضافہ ہوگیا تھا اور جھڑپیں ہونے لگی تھیں۔ یہ خبر بھی موصول ہوئی تھی کہ مئی کے آغاز میں بعض سرحدی علاقوں میں چینی سپاہی گھس آئے تھے۔ یہ بات ان چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کے بعد دیکھنے میں آئی تھی۔ بہر حال گزشتہ سنیچر کو لیفٹیننٹ جنرل سطح کی جو بات ہوئی ، اس کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ہے لیکن ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر صورت حال ویسی ہی برقرار رکھی جانی چاہئے جیسی اپریل کے مہینہ میں تھی اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کو پرانی پوزیشن پر چلے جانا چاہئے۔ ہندوستان نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ سرحد کے اِس پار اس نے اپنے علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام شروع کیا ہوا ہے جیسا کہ چین نے سرحد کے اس پار اپنے علاقے میں کیا ہے۔
ہندوستانی فوج نے اپنے ایک مختصر سے بیان میں اس سلسلے میں یہ بتایا ہے کہ ہندوستانی اور چینی افسران سفارتی اور فوجی رابطوں کے توسط سے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ موجودہ صورت حال سے نمٹا جاسکے اور کشیدگی کا ماحول نہ پیدا ہونے پائے تاکہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر دونوں طرف امن کا ماحول برقرار رہے۔ فوج نے یہ اپیل بھی کی کہ ایسے نازک مرحلے میں صرف قیاس آرائیوں پر مبنی باتوں اور غیر مصدقہ خبروں پر بے وجہ کی رائے زنی نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ اس صورت میں بے وجہ کی باتیں بھی پیدا ہوسکتی ہیں اور اشتعال کی باتیں بھی راہ پاسکتی ہیں۔ اپنے بیان میں فوج کے ترجمان کرنل آنند نے کہا کہ ایسی صورت حال میں غیر ضروری اور غیر مصدقہ رپورٹوں سے گریز کرنا اچھا ہوتا ہے۔
یہ بات بھی اطمینان بخش ہے کہ بات چیت کا چینل کھلا ہوا ہے۔ مثلاً فوجی سطح کی اس میٹنگ سے ایک دن قبل دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کے سینئر افسران کے مابین ایک ویڈیو کانفرنس بھی ہوئی تھی جس میں یہ طے پایا تھا کہ باہمی معاملات میں پرامن طور پر متنازعہ معاملات کا حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ ایسا کرتے وقت دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے احساسات اور تشویش کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے ، جس سے بہتر مفاہمت پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسا کرنے سے باہمی معاملات بحسن وخوبی حل کئے جاسکتے ہیں اور معمولی نوعیت کے تنازعات کسی بڑے ٹکراؤ کی شکل نہیں اختیار کرسکتے۔
ہندوستان نے چین کو اپنی تشویش سے پورے طور پر آگاہ کردیا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول یعنی ایل اے سی پر لداخ اور سکم میں چینی فوجیوں کی بعض سرگرمیاں قابل اعتراض ہیں جبکہ چین کا یہ کہنا ہے کہ سرحد پر دونوں طرف کے فوجیوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی فوجی چین کے علاقے میں دراندازی کر رہے ہیں۔ ہندوستان نے اس بات سے انکار کیا ہے۔ بہرحال امید ہے کہ مختلف سطحوں کی بات چیت کے ذریعہ موجودہ تنازعہ جلد ہی سلجھا لیا جائے گا۔
ہندوستان اور چین ایشیا کے دو بڑے اور مضبوط ملک ہیں۔ ان کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول کسی بھی حال میں نہیں پیدا ہونا چاہئے۔ اس کا اثر نہ صرف علاقائی سیاست پر پڑے گا، بلکہ عالمی پیمانے پر اس کے مضمرات محسوس کئے جائیں گے۔امید یہی کی جانی چاہئے کہ عنقریب سفارتی اور فوجی چینلوں کے ذریعہ معاملات سلجھ جائیں گے۔ دونوں ملکوں کی قیادت اور دوراندیشی کی وجہ سے ہی آج ہندوستان اور چین کے درمیان تجارت سمیت مختلف شعبوں میں اشتراک وتعاون بڑھتا ہی جارہا ہے۔ حالانکہ گزشتہ صدی کی 60 کی دہائی سے ہندوستان اور چین کے تعلقات لمبے عرصے تک کافی کشیدہ رہے اور دونوں فریق ایک دوسرے سے دور دور ہی رہتے تھے لیکن چند دہائیوں بعد دونو ں ملکوں کی قیادت نے محسوس کیا کہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان دوریاں کم ہونی چاہئیں تب سے لگاتار تعلقات بتدریج بہتر ہوتے گئے۔ امید ہے کہ موجودہ ماحول بھی جلد ہی بدل جائے گا۔
Comments
Post a Comment