موضوع: پاکستان گومگو کی حالت میں
آج کی بات
پاکستان اس وقت ہندوستانی ریاست جموں وکشمیر پر اپنے موقف کو لے کر گومگو کی صورتحال سے دوچار ہے۔ جب سے ہندوستان نے دفعہ تین سو ستّر منسوخ کرکے ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیا ہے، تب سے پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ اسلام آباد تو جنگی جنون پیدا کرنے پر بھی اتر آیا ہے لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود وہ بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ یہاں تک کہ مغربی ایشیاء کے اس کے طاقتور اتحادیوں سے بھی اسے مایوسی ہی حاصل ہوئی۔ یہ پہلی بار ہے جب عالم اسلام کشمیر مسئلہ پر بالکل خاموش ہے اور اگر کچھ باثر ملکوں نے زبان کھولی بھی ہے تو اس نے نئی دہلی کے موقف کی ہی تائید کی ہے کہ یہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔پاکستان کشمیر معاملہ پر اپنا رونا جاری رکھے ہوئے ہے اور اگر کسی ملک نے اس کے اس آہ بکا کا نوٹس لیا ہے تو وہ ہیں ترکی اور ملیشیا۔ لیکن ان ملکوں نے کشمیر معاملہ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ ملیشیاء نے تو ہندوستانی مفرور ذاکر نائک پر پابندی عائد کردی جس نے ملیشیائی سماج کے خلاف بیان دیا تھا اور جس کے باعث لوگوں میں کافی غم وغصہ تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پاکستان کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔ چین کی ایما پر سلامتی کونسل نے ایک غیررسمی میٹنگ تو ضرور بلائی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا اور پھر بند کمرے میں اس طرح کی میٹنگوں کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہوتی۔ اس ناکامی کے بعد پاکستان نے اپنے عوام کو کنفیوز کرنے کیلئے بیان بازی شروع کردی۔ وزیراعظم عمران خان نے اس ہفتے کے اوائل میں جنگ کی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام کشمیر کے ساتھ ہیں لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا کشمیر- عمران خان نے تو جہاد شروع کرنے کی بھی دھمکی دی۔ ان کے کابینی رفیق وزیر ریلوے شیخ راشد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اکتوبر تک جنگ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں ہی حل ہوجائے گا۔ اس طرح کے فضول اور غیرذمہ دارانہ بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان میں طاقتور اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بھی خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اس طرح کے بیانات پاکستانی قیادت کی ذہنی کیفیت کی بھی ترجمانی کرتے ہیں۔ انیس سو سیتالیس میں جموں وکشمیر کے ہندوستان سے الحاق کے بعد سے ہی نئی دہلی کا یہ موقف رہا ہے کہ یہ ریاست ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ پاکستان نے تو ہندوستان کے 13 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس کا کچھ حصہ تو اس نے چین کے حوالے کردیا ہے۔ اس لئے پاکستان کو غیرقانونی طور پر مقبوضہ علاقہ کو ہندوستان کو واپس کرنا ہوگا۔ اب اسلام آباد سے اگر کوئی بات ہوگی تو وہ صرف پاک مقبوضہ کشمیر پر ہی ہوگی۔ یہ بات پاکستان پر بھی واضح کردی گئی ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے علاوہ کسی موضوع پر بات چیت نہیں ہوگی اور اگر کوئی بات چیت ہونی ہے تو سب سے پہلے اسلام آباد کو دہشت گردی کی معاونت بند کرنی ہوگی۔ ہندوستان نے پاکستان سے آنے والے بچکانے بیانات کو غیرذمہ دار، جارحانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ نئی دہلی نے اسلام آباد سے مزید کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی بین الاقوامی تنظیموں سے ناطہ توڑ لے اور ان لوگوں کو سزا دے جو دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ اس وقت پاکستان کی داخلی صورتحال سے سبھی واقف ہیں۔ ملک کی معیشت کا برا حال ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم کا دفتر بجلی کا بل ادا کرنے سے قاصر ہے۔ اسلام آباد الکٹرک سپلائی کمپنی نے دھمکی دی ہے کہ اکتالیس کروڑ روپے کے بقایہ جات اگر ادا نہیں کئےگئے تو وزیراعظم کے سیکریٹریٹ کی بجلی سپلائی کاٹ دی جائے گی۔ سچ ہے ایسا پاکستان میں ہی ممکن ہے۔ پاکستانی عوام کا ذکر کریں تو ان کا اور براحال ہے۔ ہر چیز کے دام آسمان چھورہے ہیں۔ ان کا جینا محال ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی مدد کیلئے کچھ پیکیج دیا تو ہے لیکن اس کے عوض سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اس کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے اسے پریشانیوں کا سامنا ہے۔ اسلام آباد اس کی گرے لسٹ میں پہلے سے ہی شامل ہے اور اگر اس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کیلئے سخت کارروائی نہیں کی تو ٹاسک فورس کی آئندہ میٹنگ میں اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کافی مشکلات میں پڑ جائے گا۔
اس لئے پاکستان کو چاہئے کہ وہ دوسروں کے معاملات میں دخل دینے کے بجائے اپنے داخلی امور پر توجہ دے تاکہ اس کے عوام کا بھلا ہو سکے۔ وہ ایک بہتر زندگی جی سکیں۔
Comments
Post a Comment