موضوع:پاک کے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا اندیشہ
تقریباً پوری دنیا یہ تسلیم کر چکی ہے کہ دہشت گردی انسانیت کے لئے مہلک ہے، اس کا خاتمہ ضروری ہے، اس لئے دہشت گردی کے حوالے سے عالمی برادری متاثر کن کارروائی چاہتی ہے، باتوں سے بہلنا نہیں چاہتی مگر پاکستان دہشت گردی ختم کرنے کے حوالے سے آج تک باتیں ہی کرتا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کی اس نے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ یہاں تک کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کی نگرانی کرنے والے ادارے فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے، جسے مختصرا ً ایف اے ٹی ایف کہا جاتا ہے، جون 2018 میں پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو ایک سال کی مہلت دی گئی تھی کہ ایک سال میں وہ اس کے دہشت گردی مخالف 27 نکاتی منصوبے کوعملی جامہ پہنائے یا بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے لئے تیار رہے لیکن پاکستان نے اس موقع کو گنوا دیا ہے، کیونکہ دہشت گردی مخالف اقدامات کے سلسلے میں اس نے جو رپورٹ ایف اے ٹی ایف میں جمع کی ہے، اس میں کئی خامیاں پائی گئی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف سے وابستہ 9گروپوں میں سے ایک ایشیا پیسیفک گروپ نے یہ پایا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بے حد اہم 11پیمانوں میں سے 10 میں پاکستان کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں رہی ہے، اس لئے اندیشہ یہ ہے کہ وہ دہشت گردی جسے آج تک پاکستان پڑوسی ملکوں کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے، اس کی تباہی کی وجہ بن جائے گی لیکن پاکستان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے دہشت گردی ختم کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
دراصل دہشت گردی کی سنگینی کو سمجھنے کی پاکستان نے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ پاک لیڈروں نے دہشت گردی پر سیاست کی، اس کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے۔ پاکستان کی کمان کبھی فوج کے پاس رہی، کبھی جمہوری حکومت کے پاس لیکن دہشت گردی کی صورت حال کبھی نہیں بدلی۔ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد ہندوستان اور افغانستان سمیت دیگر ملکوں میں لوگوں کی جانیں لیتے رہے مگر پاک لیڈروں نے اخلاقی دباؤ اپنے اوپر کبھی محسوس نہیں کیا۔ انہیں حالات نے طاقتور ملکوں کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش اپنی سطح پر کریں، دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لئے پاکستان پر دباؤبنائیں ۔ اسی لئے ہندوستان کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کا نام ڈالنے کی کوشش کی تھی مگر اس لسٹ میں شامل ہونے کے بعد بھی پاکستان نے حالات کے تقاضے کو نہیں سمجھا۔
سچ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے ایشو پر پاکستان دنیا سے الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ اس نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ اس کا اثر اس کی اقتصادی حالت پر پڑ رہا ہے۔ لوگ بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں مگر وزیراعظم عمران خان لوگوں کا ذہن بانٹنے کے لئے کشمیر کا راگ الاپ رہےہیں۔ وہ بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں جبکہ دنیا کا کوئی بھی بڑا ملک پاکستان کی سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ چین نے تھوڑا سا پاکستان کا ساتھ دیا لیکن سلامتی کونسل میں وہ سرخرو نہیں ہو پایا۔ اس کے باوجود عمران بضد ہیں کہ کشمیر ایشو کو چھوڑیں گے نہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ وہ اپنے عوام کا ذہن بانٹنا چاہتے ہیں۔ عمران دےکھ رہے ہیں کہ ایک طرف پاکستان کی اقتصادی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے تو دوسری جانب اس کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی قریب میں مشکلات میں اضافے کا ہی اندیشہ ہے، اس کا اشارہ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ نے دے دیا ہے، اس لئے عمران کشمیر کے ایشو کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ وہ یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ پاکستان کے لوگوں کو آخر کب تک بہلائیں گے۔ اپنے عوام کے اس سوال کا جواب عمران کیا دیں گے کہ کشمیر کے لوگوں کی انہیں اتنی فکر کیوں ہے جبکہ وہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اپنے ملک کے لوگوں کی فکر انہیں کیوں نہیں ہے۔ پاکستان میں صحافت آزاد کیوں نہیں؟ بلوچستان میں لوگوں کے اغوا، استحصال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف عمران کی توجہ کیوں نہیں جاتی؟ کیا پاکستان کی تقسیم سے انہوں نے سبق نہیں لیا ہے؟
عمران دنیا سے کچھ بھی کہیں لیکن پاکستان کی امیج بنانا ان کے لئے بہت مشکل ہے۔ عالمی برادری کو یہ منظور نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی فیکٹریاں چلتی رہیں اور ان میں پیدا ہونے والے دہشت گرد انسانوں کا خون بہاتے رہیں، اس لئے دنیا یہ چاہتی ہے کہ پاکستان بھی دہشت گردی کو انسانیت کے خلاف مانے، اس کے خاتمے کے لئے ہر مناسب کارروائی کرے مگر اب تک دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات اطمینان بخش نہیں ہیں، اس لئے تازہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔ توقع یہ ہے کہ سال رواں میں پیرس میں 18 سے 23 اکتوبر کو ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔
دراصل دہشت گردی کی سنگینی کو سمجھنے کی پاکستان نے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ پاک لیڈروں نے دہشت گردی پر سیاست کی، اس کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے۔ پاکستان کی کمان کبھی فوج کے پاس رہی، کبھی جمہوری حکومت کے پاس لیکن دہشت گردی کی صورت حال کبھی نہیں بدلی۔ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد ہندوستان اور افغانستان سمیت دیگر ملکوں میں لوگوں کی جانیں لیتے رہے مگر پاک لیڈروں نے اخلاقی دباؤ اپنے اوپر کبھی محسوس نہیں کیا۔ انہیں حالات نے طاقتور ملکوں کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش اپنی سطح پر کریں، دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لئے پاکستان پر دباؤبنائیں ۔ اسی لئے ہندوستان کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کا نام ڈالنے کی کوشش کی تھی مگر اس لسٹ میں شامل ہونے کے بعد بھی پاکستان نے حالات کے تقاضے کو نہیں سمجھا۔
سچ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے ایشو پر پاکستان دنیا سے الگ تھلگ پڑ گیا ہے۔ اس نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ اس کا اثر اس کی اقتصادی حالت پر پڑ رہا ہے۔ لوگ بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں مگر وزیراعظم عمران خان لوگوں کا ذہن بانٹنے کے لئے کشمیر کا راگ الاپ رہےہیں۔ وہ بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں جبکہ دنیا کا کوئی بھی بڑا ملک پاکستان کی سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ چین نے تھوڑا سا پاکستان کا ساتھ دیا لیکن سلامتی کونسل میں وہ سرخرو نہیں ہو پایا۔ اس کے باوجود عمران بضد ہیں کہ کشمیر ایشو کو چھوڑیں گے نہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ وہ اپنے عوام کا ذہن بانٹنا چاہتے ہیں۔ عمران دےکھ رہے ہیں کہ ایک طرف پاکستان کی اقتصادی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے تو دوسری جانب اس کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی قریب میں مشکلات میں اضافے کا ہی اندیشہ ہے، اس کا اشارہ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ نے دے دیا ہے، اس لئے عمران کشمیر کے ایشو کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ وہ یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ پاکستان کے لوگوں کو آخر کب تک بہلائیں گے۔ اپنے عوام کے اس سوال کا جواب عمران کیا دیں گے کہ کشمیر کے لوگوں کی انہیں اتنی فکر کیوں ہے جبکہ وہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اپنے ملک کے لوگوں کی فکر انہیں کیوں نہیں ہے۔ پاکستان میں صحافت آزاد کیوں نہیں؟ بلوچستان میں لوگوں کے اغوا، استحصال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف عمران کی توجہ کیوں نہیں جاتی؟ کیا پاکستان کی تقسیم سے انہوں نے سبق نہیں لیا ہے؟
عمران دنیا سے کچھ بھی کہیں لیکن پاکستان کی امیج بنانا ان کے لئے بہت مشکل ہے۔ عالمی برادری کو یہ منظور نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی فیکٹریاں چلتی رہیں اور ان میں پیدا ہونے والے دہشت گرد انسانوں کا خون بہاتے رہیں، اس لئے دنیا یہ چاہتی ہے کہ پاکستان بھی دہشت گردی کو انسانیت کے خلاف مانے، اس کے خاتمے کے لئے ہر مناسب کارروائی کرے مگر اب تک دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات اطمینان بخش نہیں ہیں، اس لئے تازہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔ توقع یہ ہے کہ سال رواں میں پیرس میں 18 سے 23 اکتوبر کو ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔
Comments
Post a Comment