متحدہ عرب امارات کی جانب سے مودی کو ایوارڈ دیئے جانے پر پاکستان کا فرسٹریشن
پاکستانی حکمرانوں کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے معاملے میں ہر چیز کو مذہب کی عینک سے نہ صرف یہ کہ خود دیکھتے ہیں بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پوری دنیا بالخصوص مسلم ممالک بھی اسی عینک سے دیکھیں۔ نہ صرف کشمیر بلکہ دوسرے تمام معاملات کے بارے میں بھی ان کی ذہنیت یہی ہے کہ مسلم دنیا اپنے تمام قومی مفادات اور بین الاقوامی تعلقات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی ہمنوائی کرتی رہے۔ چنانچہ حال ہی میں ایک ایسے وقت میں جب کشمیر سے متعلق ہندوستان نے کچھ انتظامی نوعیت کے فیصلے کئے اور پاکستان نے ان اندرونی کارروائیوں کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر لاکر اسے بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی کوشش کی تو متحدہ عرب امارات نے ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین سیویلین ایوارڈ یعنی ‘‘آرڈر آف زید’’ سے نوازا۔ ظاہر ہے اس پر پاکستان کے حکمراں تلملا اٹھے۔ پاکستان کا فرسٹریشن کتنا شدید ہے ، اس کا اندازہ اسی بات سے ہوتا ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے متحدہ عرب امارات کا اپنا سرکاری دورہ بھی احتجاجاً منسوخ کردیا، جس کا مطلب یہی ہوا کہ انہوں نے سرکاری طور پر بھی متحدہ عرب امارات سے اپنی ناراضگی درج کرائی۔ سفارتی اور بین الاقوامی رشتوں میں ہر ملک پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے لیکن پاکستانی حکمرانوں کا ایک شیوہ یہ رہا ہے کہ وہ کسی بھی واقعے پر فوری طور پر کچھ ایسا رد عمل ظاہر کرتے ہیں کہ گویا انہیں سفارتی آداب اور بین الاقوامی ضابطوں کا بالکل پاس نہیں رہتا۔ بلاشبہ پاکستان میں اس وقت پریس پر بالواسطہ سنسرشپ نافذ ہے اور بیشتر صحافی یا تو خاموش ہیں یا حکومت کی ہمنوائی کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تجزیہ کار اور آزاد خیال شہری اور سیاسی شعور کے حامل افراد حکمرانوں کی پست ہوتی ہوئی سوچ پر نہ صرف فکرمند ہیں بلکہ خطرات سے کھیلتے ہوئے اپنی بات عوام کے سامنے پیش کرنے میں پس وپیش نہیں کر رہے ہیں۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے توسط سے وہ عوام تک رسائی نہیں حاصل کرسکتے تو سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ چنانچہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے وزیراعظم مودی کو ایوارڈ عطا کئے جانے پر عمران حکومت نے جو رد عمل ظاہر کیا ہے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک پاکستانی تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے ایک بڑی چبھتی ہوئی بات کہی ہے۔ اپنے بلاگ میں وسعت اللہ خان ابتدائی سطور میں کہتے ہیں کہ جو نریندر مودی کو متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ عطاہونے پر بل کھا رہا ہے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ یہی آرڈر آف زید پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کو جنوری 2007میں عطا کیا جاچکا ہے۔ جو اپریل 2016میں مودی کو اعلیٰ ترین سعودی ایوارڈ ‘‘آرڈر آف کنگ عبد العزیز’’دیئے جانے پر معترض تھا شاید اس کے علم میں ہو کہ کسی پاکستانی سیویلین عہدیدار کو یہ اعزاز نہ ملا ہو مگر6پاکستانی جرنیلوں کو پاک سعودی عسکری تعلقات کے استحکام کے اعتراف میں یہ اعلیٰ ترین ایوارڈ عطا ہوچکا ہے۔ وسعت اللہ خان نے ان جرنیلوں کے نام بھی گنوائےہیں۔ ان میں جنرل پرویز مشرف کے علاوہ جنرل راحیل شریف، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے دو سربراہ جنرل طارق مجید اور جنرل زبیر محمود حیات، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل خان اور پاکستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکاء اللہ شامل ہیں۔ یہ سب لوگ رٹائرہوچکے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی بطورخاص قابل ذکر ہے کہ اب تک جتنے بھی ایوارڈ ملے وہ سب کے فوجیوں کو ملے اور فوج کے تینوں بازوؤں کے سربراہ سرفراز کئے گئے لیکن کسی سیویلین کو کوئی بھی اعزاز نہیں ملا۔ یہ بات خود پاکستان کے حکومتی ڈھانچے پر ایک بہت بڑا تبصرہ ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت فوج کے پاس ہوتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی سوچ پر تبصرہ کرتے ہوئے وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ پاکستان کی مشکل یہ ہے کہ وہ پچھلے 72برس سے عالم اسلام کی یکطرفہ محبت میں گرفتار ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں کب آئے گی کہ یہ عالم مفادات ہے، جسے نظریاتی، تہذیبی، تاریخی وجغرافیائی رشتوں کے ریشم میں عارضی طور پر لپیٹ دیا جاتا ہے۔ وسعت اللہ خان کے اس سیاسی جائزے میں پاکستان کی منفی سوچ اور تباہ کن پالیسیوں پر بہت سی باتیں کہی گئی ہیں جن کا احاطہ کرنا اس تبصرے میں ممکن نہیں پھر بھی ہر چیز کو مذہب کی عینک سے دیکھنے کی ذہنیت پرطنز کرتے ہوئے انہوں نے جو کہا ہے ، وہ مختصراً یہ ہے کہ پاکستان کا عالم اسلام سے نام نہاد جذباتی رشتہ اس لئے بھی دوسرے مسلم ممالک بالخصوص خلیجی مماملک کی سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان سے انہیں ایسا کیا مل سکتا ہے جس کی مجبوری میں وہ پاکستان کے خارجہ وداخلہ جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اپنی انڈیا پالیسی بنائیں؟پاکستان سے خلیجی ممالک نے عسکری وغیر عسکری شعبوں میں جو کچھ بھی لیا وہ قیمتاً لیا۔ اسی طرح پاکستان نے امریکہ اور چین کے لئے جو خدمات انجام دیں یا دے رہا ہے وہ بھی فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ جیسا کام، ویسی اجرت! اس میں جذباتی رشتہ کہاں سے آگیا؟بغیر کسی تبصرے کے ، ہم وسعت اللہ خان کی آخری سطور بھی پیش کر رہے ہیں ‘‘آنکھوں میں دھوکہ کھانے والی حسینہ کے آنسو بھرنے کی بجائے کچھ ایسا کیا جائے کہ پاکستان بہت کچھ بیچنے اور خریدنے کے قابل ہو اور لینے والا ہاتھ دینے والے ہاتھ میں بدلتا جائے۔ پلیز بڑے ہوجائیے اور کھڑے ہوجائیے۔ ’’
Comments
Post a Comment