کابل میں شادی کا جشن ماتم اورآہ و زاری میں تبدیل
اسے داعش کا نام اب بھی دیا جاتا ہے یعنی دولت اسلامیہ عراق و شام لیکن عراق اور شام کے ان علاقوں سے اس کا قبضہ ختم ہو چکا ہے جہاں وہ کبھی قابض تھا۔ لیکن اس کے اتحادی اور گرگے کچھ دوسرے علاقوں میں بھی قدم جمانے لگے تھے ۔ جنگ زدہ اور تباہ حال افغانستان بھی انہی علاقوں میں سے ایک ہے جہاں اس گروپ کے منحوس قدم 2014 میں ہی محسوس کئے گئے تھے۔ انگریزی میں اس کا مختصر نام آئی ایس یعنی اسلامک اسٹیٹ ہے لیکن اس مبصر کی ناقص رائے میں اس کا نام سیتنک اسٹیٹ ایس ایس ہونا چاہئے، بلکہ یہ بھی اس کے ساتھ رعایت ہو گی کیونکہ شیطان سے بھی ایسی غیر انسانی اور غیر اسلامی حرکتوں کی امید نہیں کی جا سکتی۔ مذہب یا مسلک کی بنیاد پر انسانی جسم کے چیتھڑے اڑانا کسی ایسے گروپ کا کام نہیں ہو سکتا جو اپنے نام کے ساتھ اسلام کا نام جوڑتا ہو۔ گزشتہ سنیچر یعنی 18 اگست کو کابل کے ایک مغربی حصے میں ایک شادی کی تقریب میں ایک خود کش بمبار نے زبر دست دھماکہ کیا اور شادی کے ہال میں موجود دولہا دلہن کے رشتہ دار اور مہمانوں کی ایک بڑی تعداد لقمہ اجل بن گئی۔ ابتدائی خبروں کے مطابق63 افراد ہلاک اور200 کے قریب زخمی ہوئے، یہ دھماکہ جس نوعیت کا تھا اس کے پیش نظر یہ اندیشہ ہے کہ مہلوکین کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ زخمی افراد میں کئی کی حالت بہت نازک بتائی گئی تھی۔ دولہا دلہن تو بچ گئے لیکن ان کے بہت سے رشتہ دار اور مہمان ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والے امن مذاکرات اپنے اختتامی مرحلے میں ہیں اور سیز فائر کے لئے ایک روڈ میپ وضع کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ طالبان نے تو اس حملے کی مذمت کی لیکن خود طالبان بھی بات چیت میں مصروف ہونے کے باوجود افغانستان میں لگا تار حملے کرتے رہے ہیں۔ بہر حال اس حملے کی ذمہ داری آئی ایس نے لی اور وجہ یہ بتائی کہ انہوں نے شیعہ مسلک کے مسلمانوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا کیونکہ ان کی نظر میں شیعہ کافر ہوتے ہیں۔ ویسے بھی مغربی ایشیا سے تعلق رکھنے والا یہ جلاد صفت گروپ اپنے مسلکی تعصب کے لئے بطور خاص جانا جاتا ہے۔ افغانستان میں پاکستان ہی کی طرح شیعہ مخالف گروپ بہت پہلے سے سر گرم رہے ہیں اور پاکستان کی شیعہ مخالف دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی نے وہاں کئی بار تباہی مچائی ہے۔ جب سے آئی ایس کے گرگوں نے افغانستان میں قدم جمائے ہیں تب سے اب تک انہوں نے شیعہ اقلیت پر متعدد بار بھیانک حملے کئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں افغانستان میں شیعہ مخالف حملوں کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ 6،دسمبر2011 کو عاشورہ کے دن لشکر جھنگوی نے 80 افراد کو فنا کے گھاٹ اتارا تھا۔23 جولائی 2016 کو کابل میں آئی ایس نے ہزارا شیعوں پر دو حملے کئے جن میں 84 افراد نشانہ بنے،یہ اس کا پہلا حملہ تھا۔8 مارچ 2017 کو افغانستان کے سب سے بڑےفوجی اسپتال پر ڈاکٹروں کے بھیس میں آئی ایس نے دھاوا بول دیا تھا اور بندوق برداروں نے 100 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا تھا۔31 مئی 2017 کو آئی ایس نے کابل کے سفارتی کوارٹر کے قریب ٹرک دھماکہ کیا تھا جس میں150 افراد ہلاک اور 400 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔یہ حملہ بہر حال مسلکی نوعیت کا نہیں تھا۔20 اکتوبر2018 کو مغرب کی نماز کے دوران کابل کی ایک شیعہ مسجد کو نشانہ بنایا گیا جس میں 56 نمازی ہلاک ہوئے تھے ۔ اس کی ذمہ داری داعش نے لی تھی۔ مسلکی نوعیت کے حملوں کے علاوہ 2018 میں ہی آئی ایس نے دوسرے حملے بھی کئے جن میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور اب گزشتہ 18 اگست کو شادی کی تقریب میں یہ حملہ ہوا۔گویا افغانستان میں اس بات کے آثار نظر نہیں آتے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان سمجھوتہ ہو جانے اور امریکی فوجوں کی افغانستان سے واپسی کے بعد بھی وہاں امن قائم ہو سکے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا ذہن تو بنا لیا اور اب اس پلان پر عمل کرنے کا وقت بھی قریب آرہا ہے لیکن خود امریکہ میں بھی اس بات پر سخت تشویشات ظاہر کی جا رہی ہے کہ اتنی عجلت میں امریکی فوجوں کی مکمل واپسی کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل میں ریٹائرڈ امریکی جنرل ڈیوڈ پیٹروس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وہ غلطی نہیں کرنی چاہئے جو ان کے پیشرو نے عراق میں یا پھر افغانستان میں کی تھی۔ محکمہ خارجہ کے ایک سابق سینئر اعلی افسر لاریل ملر نے بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ افغانستان کا اگلا منظر نامہ کیا ہوگا کیونکہ طالبان نے امریکی فوجوں کے ساتھ سیز فائر کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے لیکن افغان فوجوں کے ساتھ وہ کسی طرح کی مفاہمت کریں گے یا نہیں۔یہ بات مشکوک ہے۔
ویسے بھی طالبان نے پہلے ہی سے بزور طاقت نصف افغانستان پر اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔2001 کی شکست کے بعد اس وقت اس کی پوزیشن جتنی مضبوط ہے اتنی اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ یہ بات پہلے ہی سے تشویشناک تھی کہ طالبان اور امریکہ کے مابین ہونے والی بات چیت سے اشرف غنی حکومت کوپورے طور پر الگ رکھا گیا۔افغانستان کے حالات اور صورتحال پر نظر رکھنے والے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سب سے کامیاب پلان پاکستان اور طالبان کا ثابت ہونے والا ہے ۔ بہر حال فی الحال کچھ بھی کہنا مشکل ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔
Comments
Post a Comment