موضوع:کشمیر پر پاکستان کی بوکھلاہٹ
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ چھیڑا اور وہ کافی دیر تک اس کا راگ الاپتے رہے۔ اگر ہم ان کی تقریر کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو وہ تضادات کا پلندہ نظر آئے گی۔ انھوں نے جہاں ایک طرف یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی رنگ دے دیا ہے وہیں اس کا شکوہ بھی کیا کہ دنیا بالخصوص مسلم ممالک کشمیریوں کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ انھوں نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس کو اپنی شاندار سفارتی کامیابی قرار دیا وہیں یہ بھی کہا کہ عالمی ادارے عام طور پر طاقتور کا ساتھ دیتے ہیں۔ انھوں نے یہ یاد دلاتے ہوئے کہ سوا ارب مسلمان اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں، کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی مدد کرنے کی ذمہ داری اس پر عاید ہوتی ہے۔ انھوں نے جہاں یہ بتانے اور جتانے کی کوشش کی کہ ان کی سفارتی کوششوں سے دنیا کے ملکوں نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کی حکومت ہند کے اقدام کی مذمت کی ہے وہیں یہ بھی کہا کہ کیا مسلم اور دیگر ممالک صرف اپنے اقتصادی مفادات کو ہی دیکھیں گے۔ ان کی تقریر سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ بالکل کنفیوزڈ ہیں۔ وہ ذہنی طور پر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کو کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا ہے۔ چونکہ کشمیر کے سلسلے میں اپنے عوام کے جذبات کو مشتعل بنائے رکھنا ہے اس لیے انھوں نے اس خطاب کو کشمیر پر فوکس کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں نیوکلیائی قوت کے مالک ہیں اور نیوکلیائی جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی۔ پاکستان تو ایٹم بم رکھنے کی دھمکی دیتا رہتا ہے لیکن اس کی ہلاکت خیزیوں سے چشم پوشی کرتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کے سلسلے میں آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ خود ساختہ طور پر خود کو کشمیر کا ایمبسڈر بھی بتا دیا۔ یعنی اب کشمیر کے بارے میں گفتگو کرنے کا حق صرف انھی کو ہے اور یہ کہ کشمیر کے بارے میں وہ جو بھی بات کہیں گے دنیا کو اسے مستند ماننا چاہیے۔ اگر چہ اس کی کوششوں سے چین نے سلامتی کونسل کے ارکان کو کشمیر پر غیررسمی اجلاس طلب کرنے پر رضامند کر لیا لیکن وہ اجلاس کیسا تھا سب کو معلوم ہے۔ اس معاملے پر بھی جو کانفرنس ہوئی اس میں کوئی قراداد منظور نہیں ہوئی۔ دنیا کی نگاہوں میں ایسی میٹنگوں کی کوئی وقعت یا اہمیت نہیں ہے۔ بیشتر ممالک ہندوستان کے اس موقف کے حامی ہیں کہ یہ مسئلہ عالمی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ ہے۔ اس کو دونوں ملک بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ ہندوستان کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کا باہمی معاملہ ہے اس میں کسی تیسرے فریق کو مداخلت یا ثالثی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ عمران خان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ وہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر ان سے کہیں گے کہ وہ اس معاملے میں ثالثی کریں تو وہ ان کی بات مان لیں گے۔ ٹرمپ نے ایک بار یہ بیان دے بھی دیا کہ وزیر اعظم مودی نے ان سے ثالثی کی درخوات کی ہے۔ لیکن ہندوستان کی جانب سے اس کی سختی سے تردید کیے جانے کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔ نریندر مودی نے گروپ سات کے اجلاس کے موقع پر ان کی موجودگی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کا دو طرفہ مسئلہ ہے اس میں کسی کو مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ہاں یہ دونوں کا آپسی معاملہ ہے اور انھیں امید ہے کہ دونوں مل کر اسے حل کر لیں گے۔ عمران خان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ دنیا مسئلہ کشمیر میں ان کے ساتھ نہیں ہے لہٰذا انھیں اشتعال انگیز بیانات بند کر دینا چاہیے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اپنا گھر سنبھالیں اپنے معاملات دیکھیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک عام پڑوسی کی مانند برتاؤ کرے۔ جس طرح ایک عام پڑوسی اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ معمول کی گفتگو اور معمول کی تجارت کرتا ہے اسی طرح پاکستان کو بھی کرنا چاہیے۔ اسے اپنے پڑوسی ملکوں میں دہشت گرد بھیجنا بند کر دینا چاہیے اسے چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی رنگ دینے کی کوشش کے بجائے ہندوستان کے ساتھ بات چیت کرے۔ اور اس کے ساتھ بات چیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب وہ دہشت گردی کی اعانت بند کر دے۔ کیا پاکستان اس کے لیے تیار ہے؟۔
Comments
Post a Comment