کشمیر معاملے کو ‘بین الاقوامی مسئلہ’ بنانے کا پاکستان کا دعوی مضحکہ خیز
اگر گزشتہ جمعہ کو بند کمرے میں ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر رسمی میٹنگ کے بارے میں پاکستان کا یہ دعوی کہ یہ اس کی کامیابی کی علامت ہے تو یہ کامیابی اسے مبارک ہو لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے جو بھرپور سفارتی کوششیں اس بات کے لئے کی تھیں کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل اور غیر مستقل ممبران کوئی باقاعدہ میٹنگ کریں گے اور اس میں ہندوستان کے دفعہ 370 سے متعلق فیصلے کی مذمت کریں گے، یا کوئی قرار داد پاس کریں گے یا ایسا کوئی بیان ہی جاری کریں گے جس میں اس معاملے میں کسی طرح کی تشویش ظاہر کریں گے تو ایسا تو کچھ ہوا ہی نہیں۔ محض ایک غیر رسمی سی بند کمرے میں میٹنگ ہوئی اور پاکستان کے اس مطالبے کو رد کردیا گیا کہ باقاعدہ اور رسمی میٹنگ کی جائے۔ پاکستان کی حمایت میں صرف چین نے ضرور اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی کونسل کے باقی کسی ممبر نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔ حتیٰ کہ میٹنگ کے اختتام پر کوئی غیر رسمی بیان تک جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان کی مستقل نمائندہ ملیحہ لودھی نے بند کمرے میں ہونے والی اس بات چیت کو پاکستان کی فتح سے تعبیر کیا اور پاکستان کے اخبارات جو سخت دباؤ کے تحت کام کررہے ہیں اور آئے دن سنسر شپ کی شکایت کررہے ہیں، بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ یہ خبر چھاپنے میں مصروف ہوگئے کہ پاکستان نے گویا سفارت کاری کا گولڈ میڈل جیت لیا۔ اپنی کامیابی کا راگ الاپنے کا پاکستان نے انوکھا طریقہ اختیار کیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوا م متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں کیا کچھ دیکھنے میں آیا، اس پر ایک نظر ڈالی جائے اور پاکستان کے دعوؤں کو اس تناظر میں پرکھا جائے۔ پاکستانی نمائندہ ملیحہ لودھی نے تو یہ دعوی کردیا کہ پاکستان کشمیر معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے میں کامیاب ہوگیا جس کے جواب میں ہندوستان کے مستقل نمائندے سید اکبر الدین نے یہ تصویر پیش کی کہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ چین اور پاکستان نے مل کر بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کے قومی جذبات کی ترجمانی کی۔ تو کیا ان جذبات کی ترجمانی کو بین ا لاقوامی برادری کی رائے مانا جاسکتا ہے؟ پاکستانی سفارت کاروں نے انتھک کوشش کی کہ ماحول ایسا بن جائے کہ سکیورٹی کونسل کے بیشتر ممبران ہندوستان کے خلاف مورچہ کھول دیں اور ہر طرف سے ہندوستان کے خلاف بیان بازی ہو۔ خود عمران خان نے آخری لمحوں میں صدر ٹرمپ سے کشمیر سے متعلق بات کی اور یہ امید بھی کی کہ پاکستان کے حق میں فضا ہموار ہوگی لیکن منظر یہ تھا کہ چین کے سوا کسی بھی رکن نے ایک لفظ بھی ایسا نہیں کہا جو پاکستان کے لئے باعث اطمینان ہوتا بلکہ ہر زاویہ سے یہی حقیقت ابھر کر سامنے آئی کہ کشمیر کے سوال پر پاکستان الگ تھلگ پڑگیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں دی ۔ پاکستان کی ناکامی کی سب سے بڑی علامت تو یہی ہے کہ چین کے علاوہ کوئی دوسرا ملک اس معاملے پر رسمی میٹنگ کے لئے تیار ہی نہیں ہوا جبکہ غیر رسمی میٹنگ میں نہ تو کوئی منٹ ہوتا ہے نہ ووٹنگ کی گنجائش ہوتی ہے۔ نہ ہی ہاتھ اٹھاکر کوئی کسی موقف کی تائید کرتا ہے، یہاں تو کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ پھر بھی پاکستان کا اصرار ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوا۔ بیشتر ممبر ممالک نے یہی رائے دی کہ ہندوستان اور پاکستان کو خود ہی مل بیٹھ کر باہمی معاملات سلجھانے چاہئیں۔ چین نے پاکستان کے موقف کی حمایت کرنے کے باوجود اس موقف کی بہرحال تائید کی کہ اگر دونوں ملک باہمی طور پر بات چیت کریں تو بہتر ہے۔ ہندوستان باہمی گفت و شنید کے لئے بہرحال ہمہ وقت تیار رہتا ہے بشرطیکہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت اور اعانت بند کرے۔ مختصر یہ کہ اقوام متحدہ میں کشمیر کے سوال پر جو کچھ بھی ہوا، اس سے مجموعی تاثر یہی ابھرا کہ ہند۔ پاک کشیدگی دور کرنے کی بنیادی ذمہ داری پاکستان ہی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اسی نے دہشت گردی کو فروغ دے کر ہندوستان کے لئے قدم قدم پر دشواریاں پیدا کیں۔
دراصل طالبان اور امریکہ کے مابین بات چیت کا جو سلسلہ چل رہا ہے اور قیاس کے مطابق جو آخری مرحلوں میں ہے، افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کی جو بات چل رہی ہے ، اس حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان جو بھی مفاہمت ہوئی ہو، اس سے ہندوستان کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ پاکستان کے تئیں امریکہ کے قدرے بدلے ہوئے رویہ کے پیش نظر پاکستان کو عالمی برادری کی طرف سے ایک نئی توانائی مل گئی ہے جس کے سہارے وہ ہندوستان کو عالمی برادری میں کسی طرح کا جھٹکا دینے میں کامیاب ہوجائے گا۔ لیکن ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا۔ گھوم پھر کر بات وہیں آئی کہ ہندوستان اور پاکستان باہمی طور پر ہی بات کریں۔ امید ہے کہ عمران خان کو یہ پیغام مل ہی گیا ہوگا۔
Comments
Post a Comment