صدر جمہوریہ کی نئے بھارت کے تعمیر کی اپیل
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے 73 ویں یوم آزادی کی ماقبل شام قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان ایک خاص موقع پر اپنی آزادی کے 72 سال مکمل کررہا ہے۔چند ہی ہفتے بعد 2 اکتوبر کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150 ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ گاندھی جی ہماری جدو جہد آزادی کے سب سے عظیم ہیرو تھے۔وہ سماج کو تمام طرح کی بے انصافی سے نجات دلانے کی کوششوں میں ہمارے رہنما بھی تھے۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج کا ہندوستان مہاتما گاندھی کے زمانے والے ہندوستان سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے باوجود گاندھی جی کی رہنمائی کی معنویت آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔ انہوں نے ماحولیات کے تئیں حساس بننے پر زور دیا اور فطرت کے ساتھ تال میل پیدا کرکے زندگی گزارنے کی تعلیم بھی دی۔اس وقت ملک میں جاری بہت سی کوششیں گاندھی جی کے خیالات کو ہی حقیقت کا روپ دے رہی ہیں۔جناب کووند نے کہا کہ یہ سال گرونانک دیو جی کی 550 ویں جینتی کا سال بھی ہے۔ وہ ہندوستان کے عظیم ترین سنتوں میں سے ایک ہیں۔سکھ پنت کے بانی کے طور پر لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے عقیدت و احترام کا جو جذبہ ہے، وہ صرف ہمارے سکھ بھائی بہنوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ ہندوستان اور پوری دنیا میں رہنے والے کروڑوں عقیدت مند ان پر زبردست اعتقاد رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی سال گرمیوں میں تمام اہل وطن نے 17 ویں عام انتخابات میں حصہ لیکر دنیا کے سب سے بڑے جمہوری عمل کو انجام دیا۔ اس حصولیابی کے لئے انہوں نے تمام رائے دہندگان کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ لوگ بڑی تعداد میں جوش و خروش کے ساتھ پولنگ مراکز تک پہنچے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا بلکہ انتخابات سے متعلق اپنی تمام ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔
ووٹروں اور عوامی نمائندوں کے درمیان، شہریوں اور حکومتوں کے مابین اور سول سوسائٹی اور انتظامہ کے بیچ ایک مثالی شراکت سے ہی قوم کی تعمیر کا ہمارا مشن مضبوط ہوگا۔ اس کے لئے ہمارے ادارے اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ شہریوں سے جو فیڈ بیک انہیں ملتے ہیں، ان پر پوری توجہ دیں اور اہل وطن کے نظریات اور خواہشات کا احترام کریں۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر مجھے ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ ان دوروں کے دوران مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بھی میری ملاقات ہوتی ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کی دلچسپیاں اورعادات بھلے ہی مختلف ہوں، لیکن ان کے خواب ایک جیسے ہیں۔ 1947 سے پہلے تمام ہندوستانیوں کا مقصد تھا، ملک کو آزادی دلانا۔ لیکن آج ہمارا مقصد ہے ترقی کی رفتار تیز کرنا اور انتظامیہ کو شفاف اور اہل بنانا تاکہ لوگوں کی زندگی بہتر ہوسکے۔
جناب کووند نے کہا کہ 130 کروڑ ہندوستانی اپنی ہنر، صلاحیت، کار آفرینی اور اختراعات کے ذریعہ بہت بڑے پیمانے پر ترقی کے مزید مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ ہم ہندوستانیوں میں اس طرح کی صلاحیتیں صدیوں سے موجود رہی ہیں۔ اپنی انہیں صلاحیتوں کی بنا پر ہمارا ملک صدیوں سے آگے بڑھتا رہا ہے اور ہماری تہذیب پھلتی پھولتی رہی ہے۔ ہندوستان کی طویل تاریخ میں ہمارے اہل وطن کو کئی مرتبہ چیلنجوں اور مشکلات سے گزرنا پڑا۔ ایسے مشکل وقت میں بھی ہمارا سماج نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ آج کے سازگار ماحول میں ہمارے اہل وطن جو حصولیابیاں حاصل کرسکتے ہیں، وہ ہماری سوچ سے بھی بہت آگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سماج اور قوم کی ترقی کے لئے تیار کردہ بنیادی ڈھانچے کا بہتر استعمال کرنا اور ان کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچہ ہر ہندوستانی کا ہے، ہم سب کا ہے کیونکہ یہ قوم کی جائیداد ہے۔ قومی جائیداد کی حفاظت بھی آزادی کی حفاظت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کرنے والے ہمارے جو شہری قومی جائیدادوں کی حفاظت کرتے ہیں وہ ملک کے محبت سے اسی جذبے اور عزم کا ثبوت دیتے ہیں، جس کا مظاہرہ ہماری مسلح افواج، نیم فوجی دستے اور پولیس فورس کے بہادر جوان ملک کے قانون اور انتظام کو برقرار رکھنے اور سرحدوں کی حفاظت میں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ہم تعاون کے جذبے کا مظاہر کرتے ہیں۔ ہمارے پاس جو بھی خصوصی تجربہ یا صلاحیتیں ہیں انہیں دوست ملکوں کے ساتھ شریک کرنے میں ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نوجوانوں کا ملک ہے۔ ہمارے سماج کا ڈھانچہ طے کرنے میں نوجوانوں کی شراکت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کی توانائی اسپورٹس سے لیکر سائنس تک اور علم کی تلاش سے لیکر صاف اسکل تک کئی شعبوں میں اپنی صلاحتیں بکھیر رہی ہے۔ آخر میں صدر جمہوریہ نے عظیم شاعر سبرامنیم بھارتی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے پیغام کو مکمل کیا۔سبرامنیم بھارتی نے کہا تھا:
ہم مقدس کتاب اور سائنس دونوں سیکھیں گے
ہم آسمان اور سمندر کی سرحدیں ماپیں گے
ہم چاند کے راز کو افشا کریں گے اور ہم ہمیشہ صفائی ستھرائی رکھنے کا ہنر بھی سیکھیں گے۔
Comments
Post a Comment