وزیراعظم مودی کی جانب سے ثالثی کی تجویز مسترد: ٹرمپ مطمئن


پاکستان نے اپنے ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت کشمیر کے سوال پر جہاں ایک طرف بین الاقوامی برادری میں ہندوستان کے خلاف اپنے سفارتی ترکش سے تیر پر تیر چلائے ہیں ۔ دوسری طرف اندرون پاکستان اشتعال انگیز باتیں کرکے لوگوں کو وہاں کے حکام ورغلاتے اور بھڑکاتے رہے۔ مقصد یہ تھا کہ کشمیر کے معاملے کو کسی صورت بین الاقوامی رنگ دیا جائے اور ہندوستان اس سوال پر عالمی برادری میں الگ تھلگ پڑ جائے۔ پاکستانی حکمراں عالمی برادری کا ایک حصہ ہونے کے باوجود نہ تو عالمی حالات و واقعات کا ادراک کرپائے اور نہ ہی یہ سمجھ پائے کہ دنیا کی اس وقت، سمت اور رفتار کیا ہے یا یہ کہ وہ کون سے مسائل ہیں جن سے دنیا فی الوقت نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ یعنی جب دنیا کے لوگ عالمی برادری کو درپیش بڑے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں تو پاکستان، ہندوستان کے خلاف کشمیر کا سوال اٹھائے اٹھائے پھر رہا ہے۔ پتہ نہیں اب بھی پاکستانی حکمرانوں کو یہ احساس ہوا کہ نہیں کہ ان کی ڈفلی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ ایک کام تو وزیراعظم عمران خان نے یہ کیا کہ چونکہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لئے طالبان سے بات چیت کررہا ہے اور اس حوالے سے اسے پاکستان کی ضرورت پیش آرہی ہے،ا س لئے وہ صورتحال اور موقع کا فائدہ اٹھاکر امریکی صدر کو کشمیر کے معاملے میں اپنا ہمنوا بنالیں گے تاکہ ہندوستان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ امریکہ کی ثالثی قبول کرلے ۔ اس طرح حالات پاکستان کے لئے انتہائی سازگار ہوجائیں گے لیکن خان صاحب یہ بات بھول گئے کہ ہندوستان کا واضح اور اٹل موقف ہے کہ وہ کشمیر سمیت باہمی نوعیت کے جملہ معاملات کو صرف باہمی بات چیت کے ذریعہ ہی سلجھانا پسند کرے گا اور کسی تیسرے ملک کی ثالثی تو قطعی قبول نہیں کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے پہلے بھی ہندوستان سے یہ کہا کہ اگر دونوں ملک چاہیں تو وہ ثالثی کے لئے تیار ہیں لیکن ہندوستان نے پہلے بھی واضح کردیا کہ یہ بات اس کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی غیر رسمی میٹنگ سے قبل بھی عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کرکے ان سے یہ گزارش کی تھی کہ کسی صورت وہ پاکستانی موقف کے حق میں فضا ہموار کریں لیکن وہ معاملہ بھی فلاپ ہوگیا۔ پھر جب جی۔7 کی میٹنگ میں فرانس اور صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی کی ملاقات ہونے والی تھی تب بھی عمران خان کو یہ پوری امید تھی کہ اس موقع پر جب دونوں لیڈران آپس میں ملیں گے تو ٹرمپ، وزیراعظم مودی کو اس بات کے لئے ہموار کرلیں گے کہ وہ امریکہ کی ثالثی کو قبول کریں۔ ملاقات سے پہلے صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہ مودی سے کشمیر کے سوال پر بات چیت کریں گے۔

بہرحال دونوں لیڈروں کی بات چیت ہوئی اور کشمیر کا معاملہ بھی زیر غور آیا لیکن وزیراعظم مودی نے انتہائی واضح لفظوں میں ہندوستان کے نقطہ نظر کا ذکر کیا اور کہا کہ کشمیر کے سوال پر کسی طرح کی ثالثی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ وزیراعظم کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے مابین تمام معاملات باہمی نوعیت کے ہی ہیں اور اس معاملے میں ہم کسی تیسرے ملک کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ ہم خود باہمی طور پر بات چیت کے ذریعہ ان معاملات کو نمٹا سکتے ہیں۔ وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ 1947 سے پہلے ہندوستان اور پاکستان ایک ہی ملک تھے اور انہیں پوری امید ہے کہ دونوں پڑوسی ملک مل کر اپنے باہمی تنازعات سلجھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انتخابات کے نتائج کے بعد انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو غریبی، بیماری اور ناخواندگی جیسی لعنتوں سے لڑنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کا معیار زندگی بلند ہوسکے۔

وزیراعظم مودی نے صدر امریکہ ٹرمپ کے ساتھ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ تمام باتیں غیر مبہم انداز میں کہیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ نے میڈیا سے مخاطب ہوکر کہا کہ اتوار کی رات کو وزیراعظم مودی سے ان کی تفصیلی گفتگو ہوئی تھی اور ان کا خیال ہے کہ دونوں ملک مل کر اپنے طور پر معاملات کو سلجھالیں گے۔ مسٹر ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے عمران خان سے بھی بات کی ہے۔ یہ دونوں وزرائے اعظم ان کے دوست ہیں اور انہیں پوری امید ہے کہ دونوں ملک خوش اسلوبی سے صورتحال کو بہتر بنالیں گے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بات بھی کہی کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ دیگر اہم مسائل مثلاً تجارت، فوج اور دیگر متعدد معاملات پر بھی بات ہوئی۔ حالیہ دنوں کے حالات و واقعات کے پس منظر میں کشمیر سے متعلق جو کچھ وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ نے فرانس کے ٹاؤن بائرز (Biarritz) میں کہا اس پر کیا پاکستان کے ارباب اختیار سنجیدگی سے غور کریں گے اور صورتحال کا غیر جذباتی ہوکر جائزہ لیں گے؟ ہمہ وقت اشتعال انگیز باتیں کرنا اور ایک خاص عینک سے مسائل پر نظر ڈالنا کسی مثبت سوچ کی علامت نہیں ہوتا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ