موضوع: جموں و کشمیر اور لداخ کی ترقی کیلئے وزیراعظم کی یقین دہانی
وزیراعظم نریندر مودی نے کل شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ ریاست جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کی منسوخی کی وجوہات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس دفعہ کے تحت سابقہ ریاست کو خصوصی درجہ حاصل تھا۔ اسی ہفتہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی منظوری دی تھی ۔ اس طرح سابقہ ریاست مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم ہو گئی ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آرٹیکل370 اور 35 اے نے جموں کشمیر کو دہائیوں کی دہشت گردی، علیحدگی ، بدعنوانی اور کنبہ پروری کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے آزادی اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کی وجہ سے پاکستان لوگوں کے جذبات بھڑکارہا تھا اور اپنا مقصد پورا کرنے کیلئے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ گذشتہ تین دہائیوں میں 42ہزار سے زیادہ ہندوستانی جموں و کشمیر میں مارے گئے ہیں جس کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کی وجہ سے ملک کے قوانین جموں و کشمیر میں موثر طور پر نافذ نہیں ہوپاتے تھے۔ سابقہ ریاست میں سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں ، خواتین اور سماج کے محروم طبقوں کو ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے سردار پٹیل ،بابا صاحب امبیڈکر ، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی، اٹل بہاری واجپئی اور ملک کے کروڑوں لوگوں کا خواب پورا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو سہولتیں اور حقوق ملک کی دوسری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو حاصل ہیں وہی سہولتیں اور حقوق اب مرکز کے زیر انتظام ان دو نئے علاقوں کو بھی حاصل ہونگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان دونوں علاقوں کے عوام جلد ہی دیکھیں گے کہ ان کی ترقی کس طرح ہو تی ہے ۔ انہوں نے قوم اور مرکز کے زیر انتظام ان دونوں علاقوں کو یقین دلایا کہ حکومت ہند ہر وقت ان کے ساتھ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر دہائیوں تک فلموں کی شوٹنگ کا مرکز رہا ہے۔لیکن ہندوستانی فلم انڈسٹری اب وہاں شوٹنگ کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے فلم انڈسٹری سے کشمیر میں شوتنگ کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی تاکہ تمام دنیا کے لوگ یہاں کی خوبصورتی سے محضوض ہو سکیں۔ وزیراعظم نے نئے جموں و کشمیر کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرنے کیلئے نوجوانوں اور خواتین سے اپیل کی۔ انہوں نے کہا اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں انہیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے تاکہ وہ ترقیاتی عمل کا حصہ بن سکیں۔ وزیراعظم نے بھروسہ دلایا کہ کشمیر کی صورتحال جلد ہی معمول کے مطابق ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات جمہوریت کا حصہ ہوتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے تمام لوگوں سے قومی مفاد کو سب سے زیادہ اہمیت دینے اور جموں و کشمیر کو ایک نئی سمت میں لے جانے میں تعاون دینے کی اپیل کی۔
لداخ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ وہاں کے لوگ علاقہ کو مرکز کے زیر انتظام والا علاقہ بنائے جانے پر کافی خوش ہیں۔اب علاقہ میں ترقیاتی پروجیکٹوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مرکزی حکومت کی ہوگی۔ جناب مودی نے وعدہ کیا کہ اب ان نئے علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور ہوائی اڈوں کی جدید کاری ہوگی۔ ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی اور اسپتال اور اسکول کھولے جائیں گے۔ان پروجیکٹوں سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا اس کے علاوہ جموں و کشمیر اور لداخ کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے خصوصی مہم کے تحت فوج اور نیم فوجی دستوں اور پولیس میں بھرتی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت دور نہیں جب جموں و کشمیر اور لداخ دونوں ترقی یافتہ علاقے ہونگے۔
اپنے 38 منٹ کے خطاب میں وزیراعظم نے صرف ترقی کی بات کی اور پاکستان کی ریشہ دوانیوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جب سے آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد سابقہ ریاست جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم ہوئی ہے، پاکستان نے کشمیر مسئلہ کو بین الاقوامی رنگ دینے کا گندا کھیل کھیلنا شروع کردیا ہے۔لیکن اس بار بین الاقوامی برادری پر اسکا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ۔ ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس معاملہ پر اب اسلام آباد کی ڈرامہ بازی سے تنگ آ چکی ہے۔ اس لئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو فضول کی بیان بازی کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی ترقی کا ایجنڈا کیسے نافذ کیا جاتا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو پاکستان کےعوام کو یقیناً فائدہ ہوگا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آرٹیکل370 اور 35 اے نے جموں کشمیر کو دہائیوں کی دہشت گردی، علیحدگی ، بدعنوانی اور کنبہ پروری کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے آزادی اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کی وجہ سے پاکستان لوگوں کے جذبات بھڑکارہا تھا اور اپنا مقصد پورا کرنے کیلئے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ گذشتہ تین دہائیوں میں 42ہزار سے زیادہ ہندوستانی جموں و کشمیر میں مارے گئے ہیں جس کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کی وجہ سے ملک کے قوانین جموں و کشمیر میں موثر طور پر نافذ نہیں ہوپاتے تھے۔ سابقہ ریاست میں سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں ، خواتین اور سماج کے محروم طبقوں کو ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے سردار پٹیل ،بابا صاحب امبیڈکر ، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی، اٹل بہاری واجپئی اور ملک کے کروڑوں لوگوں کا خواب پورا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو سہولتیں اور حقوق ملک کی دوسری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو حاصل ہیں وہی سہولتیں اور حقوق اب مرکز کے زیر انتظام ان دو نئے علاقوں کو بھی حاصل ہونگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان دونوں علاقوں کے عوام جلد ہی دیکھیں گے کہ ان کی ترقی کس طرح ہو تی ہے ۔ انہوں نے قوم اور مرکز کے زیر انتظام ان دونوں علاقوں کو یقین دلایا کہ حکومت ہند ہر وقت ان کے ساتھ ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر دہائیوں تک فلموں کی شوٹنگ کا مرکز رہا ہے۔لیکن ہندوستانی فلم انڈسٹری اب وہاں شوٹنگ کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے فلم انڈسٹری سے کشمیر میں شوتنگ کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی تاکہ تمام دنیا کے لوگ یہاں کی خوبصورتی سے محضوض ہو سکیں۔ وزیراعظم نے نئے جموں و کشمیر کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرنے کیلئے نوجوانوں اور خواتین سے اپیل کی۔ انہوں نے کہا اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں انہیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے تاکہ وہ ترقیاتی عمل کا حصہ بن سکیں۔ وزیراعظم نے بھروسہ دلایا کہ کشمیر کی صورتحال جلد ہی معمول کے مطابق ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات جمہوریت کا حصہ ہوتے ہیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے تمام لوگوں سے قومی مفاد کو سب سے زیادہ اہمیت دینے اور جموں و کشمیر کو ایک نئی سمت میں لے جانے میں تعاون دینے کی اپیل کی۔
لداخ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ وہاں کے لوگ علاقہ کو مرکز کے زیر انتظام والا علاقہ بنائے جانے پر کافی خوش ہیں۔اب علاقہ میں ترقیاتی پروجیکٹوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری مرکزی حکومت کی ہوگی۔ جناب مودی نے وعدہ کیا کہ اب ان نئے علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور ہوائی اڈوں کی جدید کاری ہوگی۔ ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی اور اسپتال اور اسکول کھولے جائیں گے۔ان پروجیکٹوں سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا اس کے علاوہ جموں و کشمیر اور لداخ کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے خصوصی مہم کے تحت فوج اور نیم فوجی دستوں اور پولیس میں بھرتی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت دور نہیں جب جموں و کشمیر اور لداخ دونوں ترقی یافتہ علاقے ہونگے۔
اپنے 38 منٹ کے خطاب میں وزیراعظم نے صرف ترقی کی بات کی اور پاکستان کی ریشہ دوانیوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جب سے آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد سابقہ ریاست جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم ہوئی ہے، پاکستان نے کشمیر مسئلہ کو بین الاقوامی رنگ دینے کا گندا کھیل کھیلنا شروع کردیا ہے۔لیکن اس بار بین الاقوامی برادری پر اسکا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ۔ ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس معاملہ پر اب اسلام آباد کی ڈرامہ بازی سے تنگ آ چکی ہے۔ اس لئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو فضول کی بیان بازی کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی ترقی کا ایجنڈا کیسے نافذ کیا جاتا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو پاکستان کےعوام کو یقیناً فائدہ ہوگا۔
Comments
Post a Comment