موضوع: ریپوریٹ میں کمی کیوں ضروری تھی؟

گذشتہ کچھ عرصہ سے ہندوستانی معیشت کے بارے میں جو جانکاریاں موصول ہو رہی تھیں ان سے عوام کے ساتھ ساتھ سرکار کا بھی متفکرہونا فطری تھا، بالخصوص اسی لئے کہ ان دنوں جاری مندی کا ماحول ایک اچھی خاصی حد تک بیرونی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جن پر ہمارا کچھ زیادہ اختیار نہیں ہوتا۔ لہذا ابھی حال ہی میں زیزرو بینک آف انڈیا نے اپنے ریپوریٹ میں جو کٹوتی کی ہے وہ ایک حد تک متوقع تھی۔ ریپوریٹ سود کی وہ شرح ہوتی ہے جس پر کسی ملک کا مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو رقم اُدھار دیتا ہے اور یہ تجارتی بینک اس رقم کو قرضہ جات کی شکل میں عوام کی طرف منتقل کرتے ہیں۔

بہر کیف زیزرو بینک نے اس دفعہ ریپوریٹ میں جو 35 پوائنٹ کی کمی کی ہے وہ ضرور غیر متوقع تھی، کیونکہ اس شرح میں عموماً 25 یا 50پوائنٹ کی کمی کرنے کا رواج رہا ہے۔ لیکن ریزرو بینک کے مطابق 25پوائنٹ کی کمی موجودہ حالات میں ناکافی ثابت ہوتی جبکہ بین الاقوامی صورتحال کے مد نظر اور بعض دوسرےحقائق کی روشنی میں 50 پوائنٹ کی کمی قدرے بارآور اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔ غور طلب ہے کہ ریپوریٹ میں 35 پوائنٹ کی کمی کا مطلب 0.35 فیصد کی کمی ہے جس کے بعد ریپوریٹ کم ہو کر 5.4فیصد ہو گیا ہے جو پچھلے 9 برسوں کی سب سے کم شرح ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ ریپوریٹ میں اس کمی کے ذریعے مندی کے موجودہ دور کا سامنا کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ اس کی منطق سیدھی سی ہے۔ ریپوریٹ میں کمی کے سبب بینک سود کی شرحیں بھی کم ہوتی ہیں اور بینکوں سے ملنے والے قرض سستے ہوتے ہیں ، جس کے سبب لوگ مکان یا گاڑی یا دوسری ضروری اشیاء خریدنے کے لئے پہلے سے زیادہ قرض لیتے ہیں۔ پھر اس طرح سے پائیدار اشیاء کی مانگ بڑھتی ہے جس سے مختلف صنعتوں میں تیزی آتی ہے۔ نیز یہی بات زراعت کے لئے ملنے والے قرضوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے اور کسان طبقہ بیجوں سے لے کر ٹریکٹروں تک مختلف اشیاء کے لئے پہلے سے زیادہ قرض لیتا ہے جس سے متعلقہ صنعتوں میں پیداوار کی مقدار بڑھتی ہے۔ اس طرح کل ملا کر معیشت رفتہ رفتہ اپنی پچھلی حالت کی طرف واپس جانے لگتی ہے۔

رواں مالی سال کیلئے ملکی اور بیرونی شماریاتی اداروں نے جو تخمینے پیش کئے تھے ان کی بنا پر حکومت ہند نے بھی کل گھریلو پیداوار کی متوقع شرح کو 7 فیصد سے گھٹا کر 6.9 فیصد کر دیا تھا، اگر چہ بعض ماہرین کی رائے میں آئندہ مارچ کے بعد یہ شرح شاید 6.5 فیصد ہی نظر آئے گی۔ جو بھی ہو، رواں سرد بازاری کے مد نظر بعض اقدامات کی اشد اور فوری ضرورت تھی اور گذشتہ دنوں ریپوریٹ میں کی گئی کٹوتی انہی اقدامات میں ایک تھی۔

بینک سود میں کٹوتی کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ صارفین کو پہلے سے کم سود پر قرض ملتا ہے اور اس کے سبب ان کو ملنے والے قرضوں کی مقدار بھی بڑھ سکتی ہے جس کے چلتے خود کی گئی بچت پر ان کا انحصار کم ہوجاتا ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی فرد کو 5 لاکھ کی کار خریدنی ہے جس میں سے اسے تین کی بجائے ساڑھے تین لاکھ بطور قرض مل سکتے ہیں، تو اس صورت میں وہ اپنی بچت کی کل رقم سے دو لاکھ کی بجائے ڈیڑھ لاکھ روپیہ ہی نکالے گا اور اس طرح بینکوں یا ڈاک خانے میں بچت کھاتوں کے روپ میں سرکار کو جو رقم سرمایہ کاری کے لئے براہ راست دستیاب ہوتی ہے اس میں 50 ہزار روپیہ کا اضافہ ہو جائے گا۔ رہا سوال پہلے سے زیادہ ملنے والے قرض کی خدمات کا تو وہ صارف اس کے لئے آئندہ کی کمائی کا سہارا لے سکتا ہے۔

تاہم یہاں کچھ ایسے پہلو رہ جاتے ہیں جن پر سرکار کی توجہ درکار ہے۔ ایک تو یہ کہ ریزرو بینک ریپوریٹ میں جو کمی کرتا ہے ، اس کے فوائد عام شہریوں تک پہنچتے ہیں یا نہیں ، یہ دیکھنا ضروری ہے۔ موصول خبروں کے مطابق گذشتہ ایک سال میں ریپوریٹ میں 110 پوائنٹ کی کمی کی گئی ہے لیکن صارفین کو محض 29 پوائنٹ کا ہی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ تجارتی بینک اس سلسلے میں ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے ہیں۔ لہذا یہ دیکھنا سرکار اور ریزرو بینک کا کام ہے کہ ریپوریٹ میں کمی کا پورا پورا فائدہ صارفین تک پہنچے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب ریپوریٹ میں کمی ہوتی ہے تو چھوٹے بچت کار بالخصوص نقصان میں رہتے ہیں جن کی بچتوں پر ملنے والے سود کی شرح اور کل مقدار میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس سے بالخصوص پینشن یافتہ طبقہ زیادہ متاثر ہوتا ہے جو ایک بڑی حد تک اپنی بچت کے بل پر زندگی بسر کرتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ سرکار کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ سینئر شہریوں کی بچتوں پر دیئے جانے والے سود کی ایک مخصوص شرح طے کرے تاکہ وہ شہری سود کی شرح میں کمی سے متاثر نہ ہوں۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جب کسی معیشت میں کرنسی کی سپلائی بڑھتی ہے اور اس کے ساتھ اشیاء وخدمات کی مانگ بڑھتی ہے تو قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔ اس طرح سود کی شرحوں میں کمی افراط زر اور مہنگائی میں بھی اضافے کا سبب بنتی ہے ۔ہندوستان میں بھی توقع ہے کہ رواں مالی سال کےآخری 6 ماہ میں یعنی مارچ 2020 تک افراطِ زر کی شرح 3.5 اور 3.7 فی صد کے درمیان ہوگی جو کہ ایک قابل قبول شرح ہے۔ لیکن ساتھ ہی سرکار اور اس کے مختلف اداروں کو بھی محتاط رہنا ہوگا کہ افراط زر کی شرح اس حد سے تجاوز کر کے عام آدمی کی زندگی پر ناموافق اثرات مرتب نہ کرے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ