موضوع: کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کا اعتراض بے جواز

پاکستان نے جموں و کشمیر کے تعلق سے لیے گئے مودی حکومت کے فیصلے پر جس طرح کا رد عمل ظاہر کیا ہے اس کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔پاکستان نے اس معاملے پر نہ صرف یہ کہ بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے اپنا احتجا درج کرایا بلکہ بھارت سے اپنے سفارتی اور تجارتی رشتوں میں کمی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کا ہمیشہ سے یہ بجا موقف رہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر پاکستان سے کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ریاست میں پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر جس طرح کشمیری عوام کی زندگی دشوار کرتے رہے ہیں اور ریاست کے امن و چین سے کھلواڑ کرتے رہے ہیں اس سے بھی عالمی برادری پوری طرح واقف ہے۔پاکستان کی ان سرگرمیوں نے کشمیر کی ترقی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔مرکزی حکومت کی یہ واضح رائے ہے کہ پاکستانی سرگرمیوں کو کشمیر کے خصوصی درجے کی آڑ میں پناہ ملتی رہی ہے ۔حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ ریاست کی ترقی کے لیے اور اسے باقی ملک کے برابر لانے کے لیے وہاں کے لیے آئین میں دی گئی دفعہ 370 کی کچھ شقوں کو ختم کیا جانا چاہیے اور ایسا ہی کیا گیا ہے،لیکن اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ امت شاہ نے بہت واضح الفاظ میں یہ بھی کہا ہے کہ مرکز کشمیر کی ہمہ جہت ترقی اور اسے ایک بڑا سیاحتی مرکز بنانے کے وعدے پر قائم ہے ۔حکومت نے کشمیریوں کو روزگار دینے اور ان کے بنیادی مسائل حل کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد حکومت لدّاخ کے علاوہ باقی جموں و کشمیر کو مکمل ریاست بنانےکے لیے قدم اٹھائیگی۔لدّاخ کو وہاں کے عوام کے دیرینہ مطالبے کے مطابق مرکز کے زیر انتظام علاقے کے طور پر ہی باقی رکھا جائیگا۔

سوال یہ ہے کہ بھارت کے فیصلوں میں پاکستان کی مداخلت کا کیا جواز ہے ۔یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اپنے قبضے والے کشمیر میں وہاں کے عوام کے مسائل سے طویل عرصے سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔اس حصے کے کشمیری عوام نہایت تلخ اور خراب زندگی جینے کے لیے مجبور ہیں اور ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے پاکستان کی کسی فیڈرل حکومت نے کبھی کچھ نہیں کیا۔یہی سبب ہے کہ پاکستان کے قبضے والے کشمیر کے عوام میں فیڈرل حکومت کے خلاف غم و غصہ رہا ہے،لیکن اسے فوجی طاقت کے بل پر دبا دیا گیا اور بھارتی کشمیر کے مسئلے کو اٹھا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی رہی۔پاکستان بھارت کے اس داخلی معاملے کو بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر اٹھا کر بھی بھارت کے ساتھ اپنے رشتوں کو قربان کرنے کی حماقت کرتا رہا ہے۔جبکہ بھارت اس معاملے میں کسی بھی بین الاقوامی مداخلت یا ثالثی کی تجویز کو اس لیے مسترد کرتا رہا ہے کہ یہ بھارتی ریاست کے عوام اور مرکز سے اس کے رشتوں سے متعلق ایشو ہے۔یہ ایک گھر کا مسئلہ ہے اور کسی باہری فریق کی اس میں مداخلت بجا طور پر ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔اسی لیے حال ہی میں جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ٹرمپ کی ملاقات کے دوران ٹرمپ کشمیر پر ثالثی سے متعلق ایک دعویٰ سامنے آیا تو بھارت نے بغیر کسی تاخیر کے ٹرمپ کے موقف اور ان کے دعوے کو پوری طرح مسترد کر دیا۔ان تمام باتوں کے باوجود پاکستان کی کشمیر مسئلے میں غیر ضروری مداخلت باعث حیرت بھی ہے اوراس کی سفارتی کوتاہ نظری کی دلیل بھی۔بھارت سے سفارتی رشتوں کو محدود کرنے یا تجارتی رشتوں میں کمی کرنے میں آخر کس کا نقصان ہے؟ظاہر ہے اس کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہی اٹھانا پڑیگا۔خصوصاً موجودہ حالات میں کہ جب پاکستانی معیشت بیحد خستہ حالت میں ہے۔بھارت جیسے اہم پڑوسی سے تجارتی تعلقات کو کم کرنا یا تجارتی و دیگر معاہدوں پر دوبارہ غور کرنا خود پاکستان کو ہی نقصان پہنچانے کا سبب بنےگا۔ اگر پاکستان کو واقعی کشمیر کے عوام سے ہمدردی ہے تو وہ اپنے قبضے والے کشمیری عوام پر کیوں خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہا ہے۔کیوں بھارتی حکومت کے اس وعدے پر خوشی کا اظہار نہیں کر رہا ہے کہ مودی حکومت کے اس ضمن میں لیے گئے فیصلے سے کشمیری عوام کو فایدہ ہوگا؟ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ہر فیصلے کے فوری نتائج بر آمد نہیں ہوتے۔لیکن مرکزی حکومت نے بہرحال یہ وعدہ کیا ہے کہ اس کے فیصلے سے کشمیر اور کشمیر کے عوام کو اقتصادی اور ترقیاتی سطح پر فائدہ ہوگا۔اس سے پورے ملک کے متحد ہونے اور سب کو یکساں مواقع ملنے کا بھی پیغام جائیگا۔یہ بات بے معنی ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کیا موقف رکھتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حکومت کے قدم سے پہلے کے مقابلے میں ایک زیادہ بہتر اور ہندوستان کی تہذیبی یگانگت والے کشمیر کا وعدہ کشمیری عوام سے کیا گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ