موضوع: جاپان اورجنوبی کوریا کے درمیان تجارتی کشیدگی

مشرقی ایشیاء کے دو بڑے ممالک، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارت کو لے کر اس وقت کافی کشیدگی ہے۔ قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے جاپان نے ہائڈروجن فلورائڈ گیس ، فلورینیٹیڈپولیمائڈاور فوٹو ریزسٹس سمیت تین کیمیکل کے جنوبی کوریا کو برآمد کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ کیمیکل اعلیٰ ٹکنالوجی کی صنعتوں میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ جاپان کو خدشہ ہے کہ یہ کیمیکل فوجی مقاصد کیلئے بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان نے جنوبی کوریا کو اس فہرست سے بھی باہر کردیا ہے جو اس کے بھروسے مند تجارتی پارٹنروں کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اگر تجارتی کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو عالمی تجارت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

جاپان جنوبی کوریا کی مشہور ومعروف کمپنیوں کو کیمیکل سپلائی کرتا ہے۔ یہ تمام کمپنیاں کیمیکل کی اپنی ضروریات کیلئے جاپان پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ یہ کیمیکل چپس وغیرہ تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی قلت سے جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ پابندیوں کے تحت جنوبی کوریا سامان بھیجے سے پہلے جاپانی برآمد کاروں کو حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ اجازت حاصل کرنے کےاس عمل میں تقریباً تین ماہ لگ جاتے ہیں۔ جاپان کی موجودہ پابندیوں سے جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے اور پیداوار برقرار رکھنے کیلئے اس وقت وہ ذخیرہ کئے ہوئے کیمیکل پر منحصر ہیں۔ اگر موجودہ کشیدگی دور نہ ہوئی اور حالات یوہی رہے تو اس کے اسمارٹ فون، کمپیوٹر اور الیکٹرانک کے دوسرے سامانوں کی پیداوار پر منفی مضمرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی دوران جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی کوریا نے بھی جاپان کا درجہ کم کرکے اسے تجارتی پارٹنروں کی فہرست میں سب سے نچلے مقام پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اس معاملہ پر عالمی تجارتی تنظیم سے بھی رجوع کیا ہے تاکہ اسے بین الاقوامی حمایت حاصل ہوسکے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی کشیدگی جاری رہنے اور جاپان کے اکسپورٹ کنٹرول سے اہم سازو سامان کی سپلائی بری طرح متاثر ہوسکتی ہےجس کا منفی اثر جنوبی کوریا کی صنعتوں پر پڑے گا۔ جنوبی کوریا نے اس سال کیلئے شرح ترقی دو اعشاریہ چار اور دواعشاریہ پانچ فی صد کےد رمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ اس سے پہلے یہ دو اعشاریہ چھ اور دو اعشاریہ سات فیصد کے درمیان تھی۔ جنوبی کوریا کی حکومت نے مقامی صنعتوں پر ایک اعشاریہ چھ بلین امریکی ڈالر صرف کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تا کہ جاپان کی جانب سے عائد پابندیوں سے پیدا صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکے۔ جنوبی کوریا کی کمپنیاں دوسرے سپلائرز کو بھی تلاش کررہی ہیں تاکہ سپلائی برقرار رہے۔ اس سلسلہ میں وہ چین کے رابطے میں ہیں۔ سیول کا الزام ہے کہ چو نکہ جاپان دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اس لئے وہ جنوبی کوریا کی معیشت کو نقصان پہنچارہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جاپان کی تمام پابندیوں کے پیچھے سیاست کارفرما ہے۔ اس سے قبل دو ہزار اٹھارہ میں جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے جاپانی کمپنی متسو بیشی ہیوی انڈسٹریز کو نوآبادیاتی دور میں لوگوں سے جبراً مزدوری کرانے کیلئے معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد کمپنی کے اثاثے منجمد کردئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جنوبی کوریا میں جاپان کی دو اور کمپنیوں، نپّوں اسٹیل کارپوریشن اور ناچی –فوجی کوشی کارپوریشن

کے اثاثے بھی منجمد کردئے گئے۔ ان دونوں کمپنیوں کو بھی معاوضہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم حکومت جاپان کا کہنا ہے کہ 1965 میں دونوں ملکوں کےدرمیان ہوئے معاہدے کے ساتھ ہی یہ تمام معاوضے ادا کردئے گئے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ اس معاہدے کے بعد ہی دونوں ملکوں کے تعلقات معمول کے مطابق ہوئے تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی کشیدگی اب سکیورٹی کے شعبہ میں بھی داخل ہوگئی ہے۔ جنوبی کوریا نے جاپان کے ساتھ جنرل سکیورٹی آف ملٹری انفارمیشن معاہدے کو بھی معطل کردیا ہے۔ سیول کا کہنا ہے کہ وہ ٹوکیو کے ساتھ خفیہ معلومات ساجھا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ جاپان نے جنوبی کوریا کی حساس مواد کو خفیہ رکھنے کی صلاحیت پر شک کا اظہار کیا ہے۔ یہ معاہدہ خاص طور پر شمالی کوریا کے نیوکلیائی خطرات سے نپٹنے کیلئے کیا گیا تھا۔ اس معاہدے سے پہلے جاپان اور جنوبی کوریا امریکہ کے ذریعہ خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا کرتے تھے۔ ایسے وقت میں جب امریکہ اور چین کےد رمیان تجارتی کشیدگی کا اثر دنیا کی دوسری معیشتوں پر پڑ رہا ہے، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارتی کشیدگی نیک شگن نہیں ہے۔ اس لئے دونوں ملکوں کو اپنے تمام مسائل جلد از جلد حل کرلینا چاہئے۔ جاپان اور جنوبی کوریا دونوں بھارت کے اہم اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔ ان دونوں کا بھارت کی ایکٹ ایسٹ پالیسی میں اہم مقام ہے۔ اس لئے اس کشیدگی کو دور کرنا آزاد تجارت اور کھلے بازاروں کیلئے نہایت ضروری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ