امریکہ۔ طالبان بات چیت اختتام پذیر: سمجھوتے کا انتظار
کابل سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق امریکہ اور طالبان کے مابین گزشتہ سال کے اوائل سے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے بات چیت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ بالآخر اختتام پذیر ہوا لیکن سمجھوتے کی تفصیلات کے بارے میں ابھی کسی طرح کا کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے کہ اس بات چیت کا اصل مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ امریکہ نے 2001 میں افغانستان میں جو جنگ چھیڑی تھی، اس کا سلسلہ ختم کرنے کے لئے وہ اپنی قیادت والی فوجیں وہاں سے واپس بلالے گا اور اس کے عوض اسے طالبان سے یہ گارنٹی چاہیے کہ اس کی فوجوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا نیز یہ کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پیر کو کابل میں طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ بات چیت کا آٹھواں اور قطعی دور دوحہ میں ختم ہوا لیکن سمجھوتے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اب دونوں فریقوں کے نمائندے اپنی اپنی قیادت سے رجوع کریں گے۔ اس کے بعد ہی اگلے قدم کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا۔ حالانکہ گزشتہ ہفتہ طالبان کے ایک دوسرے ترجمان نے یہ کہا تھا کہ آٹھویں دور کی بات چیت کے بعد توقع ہے کہ سمجھوتے کی تفصیلات بھی سامنے آجائیں گی۔ بہرحال دونوں طرف یہ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ اگر سمجھوتے کو آخری شکل دی گئی تو اس میں طالبان کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی جائے گی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے انتہاپسند گروپ کا مسکن نہیں بنے گا۔ لیکن افغانستان کی فی الحال زمینی حقیقت یہ ہے کہ داعش اور القاعدہ ،دونوں کے اتحادی افغانستان میں سرگرم ہیں اور خود طالبان بھی تقریباً ہر روز افغانستان میں کہیں نہ کہیں حملہ کررہے ہیں اور ان کے نشانے پر بطور خاص افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے لوگ اور سرکاری افسران ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ سیویلین بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہورہے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جو سمجھوتہ ہوگا اس میں یہ بات بھی شامل ہوسکتی ہے کہ طالبان، افغانستان نمائندوں سے بھی بات چیت کریں گے حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ اس گروپ نے اب تک حکومت افغانستان کے نمائندوں سے کسی طرح کی بات چیت کرنے سے مسلسل انکار کیا ہے۔ دراصل طالبان والے افغانستان کی آئینی طور پر قائم کی گئی حکومت کو قطعی خاطر میں نہیں لاتے۔ کئی بار اشرف غنی حکومت نے جنگ بندی کی پیشکش کی اور عملاً بھی بعض مرتبہ یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن طالبان کی ایک ہی رٹ رہی کہ اشرف غنی کی حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔ اس لیے اس سے بات چیت نہیں کی جاسکتی لیکن ساتھ ہی یہ بوالعجبی بھی دیکھی گئی کہ خود امریکہ سے بات چیت کرنے میں انہیں کبھی پس و پیش نہیں رہا اور بالآخر انہوں نے بات چیت کی بھی اور وہ بات چیت اختتام پذیر بھی ہوئی۔ اسی صورت میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا صحیح معنوں میں افغانستان میں امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد امن کا ماحول قائم ہوسکے گا؟ اسی سے جڑا ہوا یہ سوال بھی ہے کہ عنقریب وہاں جو صدارتی انتخاب ہونے والا ہے، اس کا کیا ہوگا؟ کیا طالبان کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت ہوگی؟ آثار تو یہی بتاتے ہیں کہ طالبان اپنے آپ کو افغانستان کا سب سے مضبوط اعلی اور افضل گروپ تصور کرتے ہیں اور اقتدار کے ڈھانچے میں دوسروں کے لئے کسی اہم یا مساوی رول کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ اب تک طالبان اور امریکہ کے مابین جو بات چیت ہوئی ہے، ان سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ طالبان نے سیز فائر سے متعلق کوئی واضح بات کہی ہے حالانکہ امریکہ یہ مطالبہ کرتا رہا کہ طالبان سیز فائر کا اعلان کرے اور افغان حکومت سے بات چیت کا سلسلہ بھی شروع کرے لیکن طالبان کی طرف سے کسی بات کا وعدہ ابھی تک نہیں کیا گیا، غرضیکہ امریکہ اور طالبان کی بات چیت کا دور اختتام پذیر ہونے کے باوجود افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے اب بھی کنفیوژن کا ماحول ہے۔ چونکہ طالبان سے بات چیت کرنے کے معاملے میں امریکہ نے پاکستان سے تعاون بھی حاصل کیاہے اس لئے یہ اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ آنے والے وقتوں میں افغانستان میں ہوا کا رخ کیا ہونے والا ہے۔ طالبان کی حمایت اور سرپرستی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پہلے بھی کرتا رہا ہے۔ اس لئے امکان اسی بات کا ہے کہ گھوم پھر کر بالا دستی طالبان ہی کو حاصل ہوگی۔
Comments
Post a Comment