ہندوستانی وزیر خارجہ کا بنگلہ دیش کا پہلا دورہ


وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس وقت بنگلہ دیش کے دورے پر ہیں۔ یہ ان کا اس ملک کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد وزیراعظم شیخ حسینہ کو اکتوبر میں ہندوستان کا سرکاری دورہ کرنے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کا دعوت نامہ پیش کرنا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ جناب جے شنکر نے کل ڈھاکہ میں وزیراعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کی جو کافی تعمیری تھی۔ اس ملاقات کا مقصد اکتوبر میں وزیراعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی ان کی ہم منصب شیخ حسینہ کے درمیان ملاقات کے لئے زمین تیار کرنا تھا۔

ڈھاکہ میں وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران جناب جے شنکر نے محترمہ شیخ حسینہ کو وزیراعظم نریندر مودی کا دعوت نامہ پیش کیا۔ ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت دینے کے لئے شیخ حسینہ نے جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ہندوستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی دہلی اکتوبر میں ان کے دورے کی منتظر ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں ایک بیان میں کہا کہ جناب جے شنکر اور محترمہ شیخ حسینہ کی ملاقات تعمیری رہی جس کے دوران آپسی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جناب جے شنکر ایک سابق سفارتکار بھی ہیں اور اس سے پہلے انہوں نے ہندوستان کے خارجہ سکریٹری کی حیثیت سے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنے پہلے دورے کے دوران انہوں نے سب سے پہلے اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب اے کے عبدالمومن سے ملاقات کی۔ دونوں وزرا خارجہ کی ملاقات ایک خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے آپسی مفاد کے مسائل کے علاوہ سکیورٹی اور اسٹریٹجک امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ہی ملک اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی تشویشات کو بھی ساجھا کیا۔

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری سے بھی کافی آگے ہیں۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جناب جے شنکر نے کہا کہ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کے ساتھ ان کی ملاقات کافی ثمر آور رہی۔ روہنگیا مسئلہ پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میانمار کی رخائن ریاست میں روہنگیاؤں کی باز آباد کاری جلد ہوگی اور ان کی مستقل وطن واپسی کےلئے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے۔ اس سے پہلے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن نے کہا تھا کہ اپنے ہندوستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران دوسرے امور کے علاوہ روہنگیا مسئلہ پر بھی تبادلہ خیال کریں گے تاکہ وہ مسئلہ جلد از جلد حل ہوجائے اور وہ لوگ اپنے وطن واپس جاسکیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو اس سے علاقہ کے استحکام پر اثر پڑسکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ میانما کی فوج کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کے بعد سات لاکھ سے زیادہ روہنگیاؤں نے ملک چھوڑ دیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش دونوں پوری کوشش کررہے ہیں کہ مسئلہ جلد از جلد حل ہوجائےتاکہ یہ لوگ وطن واپس جاسکیں۔ جناب جے شنکر نے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کو جنوبی ایشیا کے دوسرے ملکوں کے لئے مشعل راہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیراعظم مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جو اقدامات کئے گئے ان سے دونوں ملکوں کے درمیان رشتے کافی مضبوط ہوئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جون 2015 میں وزیراعظم نریندر مودی کے ڈھاکہ کے پہلے دورے کے دوران دونوں ملکوں نے سرحد سے متعلق معاہدے کو نافذ کرنے سے اتفاق کیا تھا جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان 41 سال سے جاری سرحدی تنازعہ حل ہوگیا۔

اپریل 2017 میں وزیراعظم شیخ حسینہ نے نئی دہلی کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران دفاع، نیوکلیائی توانائی، سائبر سکیورٹی اور میڈیا کے شعبوں میں 22 معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ اس کے علاوہ نئی دہلی نے بنگلہ دیش میں 17 ترقیاتی پروجیکٹوں اور بندرگاہوں کی جدید کاری کےلئے ڈھاکہ کو 2015 میں تین ارب ڈالر اور 2017 میں چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے قرض کے طور پر فراہم کئے۔

اس سال اکتوبر میں جب شیخ حسینہ ہندوستان کا دورہ کریں گی تو وہ موقع بنگلہ دیش کے بابائے قوم شیخ مجیب الرحمن کو یاد کرنے کا بھی ہوگا کیونکہ 2020 میں ان کی 100 ویں سالگرہ منائی جائے گی۔ بنگلہ دیش کی آزادی میں بھی ہندوستانی فوج کا اہم کردار رہا ہے۔ مختصر یہ کہ ہندوستان جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کےلئے بنگلہ دیش کو مضبوط اور خوشحال دیکھنے کا متمنی ہے۔


Translation: Husain Zamin

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ