اگر دہشت گردی بند نہ ہوئی تو باہمی گفتگو بھی ممکن نہیں
پاکستان نے اپنے طرز پر بھرپور سفارتی کوشش کی کہ کشمیر کے سوال پر بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراسکے لیکن اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی غیر رسمی اور بند کمرے میں ہونے والی میٹنگ کے بعد خود پاکستان کو بھی اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ عالمی برادری کشمیر معاملے کو اس طور پر نہیں دیکھتی جس طور پر پاکستان نے دکھانے کی کوشش کی۔ توقع کے عین مطابق، چین کے سوا باقی کسی ملک نے اسے بین الاقوامی مسئلہ نہ سمجھا اور بیشتر ممبران نے یہی رائے ظاہر کی کہ یہ معاملہ ہندوستان اور پاکستان کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہیے۔ البتہ عالمی برادری کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تشویش ضرور لاحق ہے کیونکہ دونوں ملک بہرحال نیوکلیائی صلاحیت کے حامل ہیں اور عالمی برادری اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پیچیدگیوں اور کشیدہ ماحول کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم سے فون پر رابطہ قائم کیا اور کشیدگی کم کرنے کی بات کہی۔ وزیراعظم مودی نے ان سے واضح لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ کشمیر سے متعلق حالیہ دنوں میں ہندوستان نے جو فیصلے کئے وہ پورے طور پر اندرونی امور کے زمرے میں آتے ہیں لیکن اسے بنیاد بناکر اس علاقے کے کچھ سیاست داں جو اشتعال انگیز باتیں کررہے ہیں اور جذبات بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں،وہ دراصل حالات کو پیچیدہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے عمران خان کو اپنا لہجہ نرم کرنے کا مشورہ بھی دیا لیکن دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ وہاں کی سیویلین حکومت کی کوئی آوازنہیں ہوتی۔ پردے کے پیچھے سے سارا کام راولپنڈی کے فوجی ہیڈ کوارٹر سے انجام دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں کشمیر کے سوال پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کافی گرجے تھے اور اب تو یہ فیصلہ بھی آ ہی گیا کہ ان کی مدت ملازمت میں پورے تین سال کی توسیع کردی گئی ہے۔ بہرحال وہ ان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان دوسروں کے اندرونی معاملات میں اگر بے جا مداخلت کرے گا تو وہ کسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی طرف سے یہ پیشکش کی ہے کہ وہ کشیدگی دور کرنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا رول ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے معاملے میں مذہب کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس لئے یہ پیچیدہ تر ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس خلوص کی ہندوستان قدر کرتا ہے کہ وہ کشیدگی دور کرنے کے حق میں ہیں لیکن ہندوستان میں مذہب کے نام پر کسی بھی علاقے میں کشیدگی کا کوئی سوال نہیں ہے کیونکہ ہندوستان آئینی طور پر اول دن سے ایک سیکولر جمہوری ملک ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو بھڑکانا اور اشتعال انگیزی کرنا پاکستانی سیاست کا بنیادی جزو رہا ہے۔ مذہب ہی کے نام پر وہاں کے عوام کو جمہوریت سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی اتنی ہی جمہوریت ہے جتنی ہندوستان کے دوسرے حصوں میں۔ پاکستان میں تو خود پاکستان کے لوگوں کو صحیح معنوں میں جمہوری حقوق حاصل نہیں۔ ایسے میں مقبوضہ کشمیر اور گلگت۔بلستان کی کیا بات کی جائے جہاں کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق تک حاصل نہیں۔ صدر ٹرمپ سے اب بھی ہندوستان کا یہی کہنا ہے کہ ہند۔امریکہ کی دوستی اور مختلف شعبوں میں ساجھیداری اپنی جگہ لیکن وہ اس بات کے لئے تیار نہیں ہے کہ کشمیر کے معاملے میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرے۔ ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ باہمی بات چیت کا راستہ کبھی بندنہیں کیا لیکن پاکستان نے ہر ہر قدم پر دہشت گردی اور دراندازی کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا۔ خود وزیراعظم مودی کی حکومت نے اپنے پہلے ہی ٹرم میں بھرپور کوشش کی کہ ہند۔ پاک تعلقات بہتر ہوں، بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کی تیاریاں ہوئیں،مذاکرات کا روڈ میپ تیار ہوا اور دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹری کی عنقریب ملاقات بھی ہونے والی تھی۔ ماحول کو مزید سازگار بنانے کے لئے وزیراعظم مودی نےکسی طے شدہ پروگرام کے بغیر افغانستان سے وطن آتے ہوئے اچانک لاہور کا دورہ کیا اور وہاں کے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی لیکن بجائے اس جذبۂ خیر سگالی کی قدر کرنے کے جواب میں ایک ہفتہ بعد ہی پٹھان کوٹ پر جیش محمد کا حملہ ہوا۔ صرف اتنا ہی نہیں کشمیر اور ایل او سی پر لگاتار شرانگیزی ہوتی رہی، اُری میں حملہ ہوا اور پھر اسی سال کے اوائل میں پلوامہ میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد ہندوستان کے ہاتھ سے صبر و تحمل کا دامن چھوٹ گیا اور اب ہندوستان کا یہ موقف ہے کہ باہمی بات چیت بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ دہشت گردانہ حملے بند نہیں ہوں گے۔
جہاں تک جموں و کشمیر کے سلسلے میں حکومت کے حالیہ انتظامی فیصلوں کا سوال ہے تو قابل اطمینان بات یہ ہے کہ چین اور پاکستان کے دوسرے چھوٹے اتحادی ملکوں کے علاوہ سب نے ہندوستان کے موقف کی تائید کی ہے اور اسے ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہی تصور کیا ہے اور اکثر ملکوں نے یہ بھی صاف محسوس کیا ہے کہ پاکستان نے موجودہ حالات کے پس منظر میں کشمیر کے معاملے کو افغانستان سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی کہا ہے کہ افغان مذاکرات کو کشمیر کے معاملے سے جوڑنے کی کوشش نے بلی کو تھیلے سے باہر لادیا۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی طرف سے یہ پیشکش کی ہے کہ وہ کشیدگی دور کرنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا رول ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے معاملے میں مذہب کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس لئے یہ پیچیدہ تر ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس خلوص کی ہندوستان قدر کرتا ہے کہ وہ کشیدگی دور کرنے کے حق میں ہیں لیکن ہندوستان میں مذہب کے نام پر کسی بھی علاقے میں کشیدگی کا کوئی سوال نہیں ہے کیونکہ ہندوستان آئینی طور پر اول دن سے ایک سیکولر جمہوری ملک ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو بھڑکانا اور اشتعال انگیزی کرنا پاکستانی سیاست کا بنیادی جزو رہا ہے۔ مذہب ہی کے نام پر وہاں کے عوام کو جمہوریت سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی اتنی ہی جمہوریت ہے جتنی ہندوستان کے دوسرے حصوں میں۔ پاکستان میں تو خود پاکستان کے لوگوں کو صحیح معنوں میں جمہوری حقوق حاصل نہیں۔ ایسے میں مقبوضہ کشمیر اور گلگت۔بلستان کی کیا بات کی جائے جہاں کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق تک حاصل نہیں۔ صدر ٹرمپ سے اب بھی ہندوستان کا یہی کہنا ہے کہ ہند۔امریکہ کی دوستی اور مختلف شعبوں میں ساجھیداری اپنی جگہ لیکن وہ اس بات کے لئے تیار نہیں ہے کہ کشمیر کے معاملے میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرے۔ ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ باہمی بات چیت کا راستہ کبھی بندنہیں کیا لیکن پاکستان نے ہر ہر قدم پر دہشت گردی اور دراندازی کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا۔ خود وزیراعظم مودی کی حکومت نے اپنے پہلے ہی ٹرم میں بھرپور کوشش کی کہ ہند۔ پاک تعلقات بہتر ہوں، بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کی تیاریاں ہوئیں،مذاکرات کا روڈ میپ تیار ہوا اور دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹری کی عنقریب ملاقات بھی ہونے والی تھی۔ ماحول کو مزید سازگار بنانے کے لئے وزیراعظم مودی نےکسی طے شدہ پروگرام کے بغیر افغانستان سے وطن آتے ہوئے اچانک لاہور کا دورہ کیا اور وہاں کے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی لیکن بجائے اس جذبۂ خیر سگالی کی قدر کرنے کے جواب میں ایک ہفتہ بعد ہی پٹھان کوٹ پر جیش محمد کا حملہ ہوا۔ صرف اتنا ہی نہیں کشمیر اور ایل او سی پر لگاتار شرانگیزی ہوتی رہی، اُری میں حملہ ہوا اور پھر اسی سال کے اوائل میں پلوامہ میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد ہندوستان کے ہاتھ سے صبر و تحمل کا دامن چھوٹ گیا اور اب ہندوستان کا یہ موقف ہے کہ باہمی بات چیت بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ دہشت گردانہ حملے بند نہیں ہوں گے۔
جہاں تک جموں و کشمیر کے سلسلے میں حکومت کے حالیہ انتظامی فیصلوں کا سوال ہے تو قابل اطمینان بات یہ ہے کہ چین اور پاکستان کے دوسرے چھوٹے اتحادی ملکوں کے علاوہ سب نے ہندوستان کے موقف کی تائید کی ہے اور اسے ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہی تصور کیا ہے اور اکثر ملکوں نے یہ بھی صاف محسوس کیا ہے کہ پاکستان نے موجودہ حالات کے پس منظر میں کشمیر کے معاملے کو افغانستان سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی کہا ہے کہ افغان مذاکرات کو کشمیر کے معاملے سے جوڑنے کی کوشش نے بلی کو تھیلے سے باہر لادیا۔
Comments
Post a Comment