موضوع: افغانستان میں صدارتی انتخاب کے موقع پر بڑے حملوں کا امکان

اٹھائیس ستمبر کو افغانستان میں صدارتی انتخاب ہونے والا ہے۔ یہ الیکشن ایک ایسے وقت پر ہورہا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے دوحہ میں ہونے والی بات چیت اپنے اہم اور آخری مراحل میں پہنچنے والی ہے۔ لیکن ایک بات بڑے واضح طور پر یہ محسوس کی گئی ہے کہ جہاں تک طالبان کا سوال ہے تو اس گروپ کو افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے قطعی کوئی فکر لاحق نہیں ہے۔ اسے اگر کوئی فکر ہے تو بس یہ کہ کسی صورت امریکہ کی قیادت میں غیرملکی فوجیں پورے طورپر افغانستان سے واپس چلی جائیں تاکہ اس کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنے کی راہیں ہموار ہوسکیں۔افغانستان میں بہرحال اس وقت ایک آئینی طورپر منتخب حکومت کام کررہی ہے لیکن طالبان کی لیڈرشپ نہ تو اس سے بات چیت کے لیے راضی ہوئی اور نہ ہی تشدد کا راستہ ترک کیا۔ امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے مابین جیسے جیسے بات چیت آگے بڑھی ویسے ویسے طالبان کے حملے بھی بڑھتے گئے۔ جہاں تک امریکہ کی بات ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اچانک فیصلے کرنے اور پھر اچانک یوٹرن لینے کے لیے بھی مشہور ہیں، پہلے تو افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کیا۔ اس نئی پالیسی کا ایک اہم عنصر یہ تھا کہ وہ پاکستان کو طالبان کا سب سے بڑا حامی اور سرپرست گردانتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اس نے طالبان سے لڑنے کے لیے امریکہ سے کروڑوں ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد وصول کی اور بدلے میں امریکہ سے جھوٹ بولا اور اسے دغا دی۔ لیکن پھر اچانک ان کے تیور بدل گئے اور انہیں افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی فکر لاحق ہوئی اور دوحہ میں طالبان سے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے بات چیت شروع کردی۔ بات چیت کے کئی راؤنڈ چلے اور اب وہ سلسلہ اپنے آخری مراحل تک پہنچنے والا ہے۔ ادھر افغانستان میں صدارتی انتخابات کی تیاریاں ہورہی ہیں لیکن تشدد کی ایک ایسی لہر سی چل رہی ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ تمام آثار اور قرائن یہی بتاتے ہیں کہ صدارتی الیکشن کے لیے جو ریلیاں اور اجتماعات ہوں گے انہیں بڑے پیمانے پر تشدد کا نشانہ بنایا جائےگا۔ اس کا عندیہ اس وقت بھی ملاتھا جب گزشستہ 28 جولائی کو نائب صدر کے عہدے کے امیدوار امراللہ صالح کے دفتر پر حملہ ہوا۔ یاد رہے کہ امراللہ صالح ہمیشہ طالبان کی ہٹ لسٹ پر رہے کیوں کہ وہ نہ صرف طالبان کی تشدد پسندی کے سب سے بڑے مخالف رہے ہیں بلکہ وہ افغانستان کے خفیہ محکمے کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ صدراشرف غنی کی انتخابی ٹیم کے ایک اہم رکن ہیں۔ اس حملے میں 80 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ خود مسٹر صالح بھی بال بال بچے تھے۔ سیکورٹی سے وابستہ عملہ نے کئی گھنٹوں تک بندوق برداروں کا مقابلہ کیا اس کے بعد ہی انہیں بچایا جاسکا۔ لیکن وہ شدید طور پر زخمی ہوئے تھے، لیکن وہ کوئی آخری حملہ نہیں تھا، حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ بدھ یعنی 7 اگست کو کابل میں واقع پولیس کمپاؤنڈ کے دروازے پر زبردست دھماکہ ہوا اور پوری فضا دھوئیں سے سیاہ ہوگئی۔ ابتدائی خبروں کے مطابق 15 افراد ہلاک اور 150 کے قریب زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں میں متعدد کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مہلوکین کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ افغانستان کی وزارت داخلہ کے مطابق یہ دھماکہ ایک کاربم سے ہوا تھا لیکن خود طالبان کا کہنا ہے کہ یہ ٹرک بم تھا جس کی تائید افغانستان کے سیکورٹی عملہ نے بھی کی ہے۔ اس حملے میں جو لوگ ہلاک ہوئے ان میں سیویلین کی تعداد 100 کے قریب تھی باقی مہلوکین میں پولیس اور سیکورٹی کے عملہ کے لوگ تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ