موضوع: کشمیر معاملے کو افغانستان سے جوڑنے کی، پاکستان کی ناکام کوشش 

جموںوکشمیر کی تنظیم نو کے سلسلے میں ہندوستان نے جو انتظامی فیصلہ کیا تھا، اس کے بعد پاکستان نے جو رد عمل ظاہر کیا، اسی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کی سفارتی کوششیں تیز تر ہوجائیں گی اور وہ اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی بھر پور کوشش کرے گا، سو اس واقعے کے بعد یہ دیکھا گیا کہ اس نے گھبراہٹ کے عالم میں ہر وہ پینترہ استعمال کرنے کی کوشش شروع کردی، جس سے بین الاقوامی برادری اس جانب متوجہ ہوسکے، حالانکہ یہ بھی صاف ظاہر ہوگیا کہ اس کی یہ تمام بے سر پیر کی تگ و دو بے سود ثابت ہوں گی۔ پاکستان کی بوکھلاہٹ کا ایک کھلا ہوا ثبوت یہ بھی ہے کہ اس نے ایک طرح کی دھمکی یہ دی ہے کہ وہ اپنی مغربی سرحد یعنی افغانستان سے ملنے والی سرحد سے اپنی فوجیں ہندوستان کی سرحد کی طرف منتقل کرسکتا ہے، اس کا ایک مقصد امریکہ کو یہ باور کرانابھی ہوسکتا ہے کہ طالبان کے ساتھ امریکہ کی جو بات چیت چل رہی ہے، اس میں رخنہ پڑے گا اور وہ ہندوستان پر کسی طرح کا دباؤ ڈالے گا، لیکن پاکستانی حکام اور سفارت کار یہ بھول رہے ہیں کہ کشمیر سے متعلق ہندوستان کا جو فیصلہ ہے وہ ہندوستان کا سو فیصد اندرونی معاملہ ہے اور اس معاملے میں وہ نہ تو کسی ملک کی مداخلت قبول کرے گا اور نہ ہی کسی کی ثالثی کےلئے تیا رہوگا۔

پاکستان کے سفیر برائے امریکہ سعد مسعود خان نے نیویارک ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ کشمیر کا معاملہ افغانستان سے قطعی مختلف ہے اور وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا نہیں چاہتے ،لیکن نیویارک تائمز کے مطابق انھوںنے یہ بات زور دے کر کہی کہ مغربی سرحد پر ہماری فوجیں مضبوطی سے تعینات ہیں، لیکن اگر مشرقی سرحد پر حالات خراب ہوئے تو ہمیں ادھر توجہ دینا ہوگی، یعنی ہندوستان کی سرحد پر فوجیں تعینات کرنی پڑیں گی۔ پاکستانی سفیر کی اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ ایک طرف وہ ہندوستان کو وارننگ دینا چاہتے ہیں تو دوسری طرف امریکہ کو دھمکانا چاہتے ہیں۔ ایسی دھمکیاں جنرل مشرف کے زمانے میں امریکہ کو بار بار دی جاتی تھیں اور یہ کہا جاتا تھا کہ اگر پاکستان کی مشرقی سرحد پر کوئی مہم جوئی ہوتی ہے تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے معذور ہوگا۔ گویا صدر ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلانے کے لیے جو طالبان سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیاتھا اور اس کی وجہ سے پاکستان کو جو تھوڑی سی رعایت ملی ہے، اس وجہ سے اس کے حوصلے کچھ اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ اس نے اپنے طور پر کچھ اندازے کررکھے ہیں اور پرانے حربے استعمال کررہا ہے۔ بہر حال اس حربے کا استعمال وہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کے خلاف اگر کرنا چاہتا ہے تو اسے کوئی کامیابی نہیں ملے گی۔ امریکہ اس پر کیا رخ اختیار کرے گا اور پاکستان کے ساتھ اس کی کیا ڈیل ہوگی وہ تو امریکہ اور پاکستان جانیں، لیکن اس بات کی اسے قطعی امید نہیں کرنی چاہئے کہ ہندوستان پر ان دھمکیوں یا وارننگ کا کوئی انثر پڑے گا۔

پاکستان کو بھی اندازہ ہے کہ عالمی برادری اور خود پاکستان کے دوست ممالک بھی کشمیر معاملے کو افغانستان سے جوڑنے کے حق میں نہیں ہیں، لیکن وہ اپنی سعی رائیگاں سے باز نہیں آرہا ہے۔ ترکی سے ایران اور ملیشیا تک، ہر جگہ اس نے اپنی سفارتی دوڑ لگائی، لیکن کہیں سے اس معاملے میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہورہی ہے۔ سب سے زیادہ دھچکا تو اسے یہ لگا کہ اس کے عرب اور خلیجی اتحادی بھی کشمیر سے متعلق معاملات میں اس طور پر نہیں سوچ رہے ہیں، جس طور پر پاکستان سوچ رہا ہے۔ انھوں نے ہندوستان کے ساتھ اپنے معمول کے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ پاکستان کے سفیر دنیا بھر کے میڈیا اور تھنک ٹینک وغیرہ سے رابطہ قائم کرنے اور ان کے سامنے ہندوستان کی نام نہاد جارحانہ کاوشوں کا ذکر کرنے میں مصروف ہیں، لیکن انہیں کتنی کامیابی ملے گی، اس کا اندازہ خود پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بعض باتوں سے بخوبی ہوجاتا ہے۔

چند دنوں قبل مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد شہر میں انھوں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں احمقوں کی جنت میں نہیں رہنا چاہئے۔ اہل پاکستان یہ نہ سمجھیں کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل ہمارے لیے پھولوں کا ہار لے کر انتظار کرے گی اور نہ ہی کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے موقف کی حمایت کرے گی۔ نہ تو 5بڑے ممالک ہمارے موقف کی حمایت میں آئیں گے اور نہ ہی اسلامی ملک کشمیر کے معاملے میں ہندوستان کے خلاف صف آرا ہوں گے۔ ہندوستان ایک بہت بڑا مارکیٹ ہے اور اس سے سب کے مفادات وابستہ ہیں۔ انھوں نے پاکستانیوں کو واضح پیغام دیا کہ جذبات بڑھاکانا بہت آسان ہے۔ اعتراض کرنا اس سے بھی آسان، لیکن ایک مسئلہ کو سمجھ کر اسے آگے لے جانا پیچیدہ کام ہے۔ آگے وہ لوگ آپ کےلئے ہار لے کر نہیں کھڑے ہیں۔ اب اسے پاکستان کے وزیر خارجہ کا اظہار حقیقت سمجھا جائے یا یہ کہا جائے کہ شاہ محمود قریشی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں ہوں اپنی شکست کی آواز

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ