موضوع:کلبھوشن جادھو کی قونصلر تک رسائی کے معاملے میں غیر ضروری تاخیر
کم و بیش 3 ہفتہ قبل دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت برائے انصاف نے کلبھوشن جادھو کیس میں ہندوستان کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ 17جولائی کو عدالت نے تقریباً اتفاق رائے سے یہ کہا تھا کہ 2017 میں ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کی گرفتاری کے فوراً بعد پاکستان نے ہندوستان کو اس گرفتاری کی اطلاع نہیں دی تھی اور نہ ہی ہندوستانی ہائی کمیشن کو یہ حق دیا کہ وہ ملزم سے مل کر اس کے لئے قانونی نمائندگی فراہم کرنے کا انتظام کر سکے۔ اس طرح پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو ان کے قانونی حق سے محروم رکھا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے ایسا کر کے ویانا کنونشن کی کھلی ہوئی خلاف ورزی کی تھی ۔ لیکن اس فیصلے کے اِتنے دن بعد بھی پاکستان کی طرف سے جادھو کی قونصلر تک رسائی کو آسان بنانے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ البتہ چند روز قبل پاکستان کی وزارت خارجہ نے یہ پیشکش کی تھی کہ اسلام آباد میں دوپہر کے وقت جادھو ہندوستانی کمشنر سے ملاقات کر سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی کہ جوکچھ ہوگا وہ سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں ہوگا اور اس ملاقات کے دوران اس کمرے میں ایک پاکستانی افسر بھی موجود رہے گا۔ ظاہر ہے یہ شرط کسی بھی حال میں ہندوستان کیلئے قابل قبول نہیں تھی کیونکہ یہ بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کے منافی تھی۔ سو ہندوستان نے اس پیشکش کو مسترد کردیا اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اس شرط پر نظر ثانی کرے۔ دراصل ہندوستان کی تشویش کے تین خاص پہلو ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے جادھو کی قونصلر تک پوری اور غیر مشروط رسائی کو ممکن بنانے کے لئے پاکستان غیر ضروری طور پر تاخیر کر رہا ہے جو اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین ادارہِ عدل کے فیصلے کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے۔
اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کا رویہ اس معاملے میں انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔ اس رویہ کی وجہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی عدالت کے مجموعی فیصلے کے مطابق مقدمہ کی پوری کارروائی پر نظر ثانی کرنے اور کارروائی کو آگے بڑھانے سے کترا رہا ہے۔ اپنے طور پر اس نے فوجی عدالت میں جو مقدمہ چلایا تھا اور دہشت گردی اور جاسوسی کے الزام میں جادھو کو جو پھانسی کی سزا سنائی تھی اس کو وہ کسی نہ کسی بہانے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ اس کے رویہ سے صاف ظاہر ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان جس طرح کی شرطیں عائد کرنا چاہتا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ تمام باتیں جان سکے جو جادھو ہندوستانی افسروں کو بتانا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے پاکستان نے اپنے یہاں لوگوں کو جادھو اور اس مقدمہ کے تعلق سے گمراہ کن باتیں بتائی ہیں۔ خاص طور سے ان کے نام نہاد اقبالیہ بیان کی جو بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہے اس پر وہ پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ اسی لئے وہ اس خیال سے خاصا بے چین ہے کہ کہیں جادھو اقبالیہ بیان کے حوالے سے پاکستانی حکام کی غلط بیانیوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی قلعی نہ کھول دیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ پاکستان یہ قطعی نہیں چاہتا کہ کلبھوشن جادھو ایسی باتیں ہندوستانی افسران کو بتائیں جن سے پاکستان کے جھوٹ کا پردہ فاش ہو سکے اور جس مقدمہ کی کارروائی اس نے اپنی ایک فوجی عدالت میں چلائی تھی اور جس کے تحت پھانسی کی سزا ہوئی تھی ، وہ منھ کے بل الٹ جائے۔اسی لئے وہ جادھو کی قونصلر تک پوری رسائی کی سہولیات فراہم کرنے سے کترا رہا ہے اور خواہ مخواہ ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔ لیکن ٹال مٹول کی یہ پالیسی بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کی دھجیاں اڑانے کے مترادف تصور کی جائے گی۔
در اصل بین الاقوامی عدالت نے اپنے فیصلے میں جو کلیدی بات کہی تھی اس سے پاکستان کی کنگارو طرز کی عدالت کی حقیقت آشکار ہو گئی ہے۔ جادھو کی قونصلر تک رسائی کی راہیں پورے طور پر بند کر کے اور ہندوستان اور ہندوستانی ہائی کمیشن کو اندھیرے میں رکھ کر مقدمہ کے کھوکھلے پن کو اس نے خود ہی طشت ازبام کر دیا تھا اور بین الاقوامی عدالت نے بادی النظر میں اسی کا نوٹس لے کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا تھا۔ پاکستان کی بوکھلاہٹ کی بنیادی وجہ یہی ہے اور اسی لئے وہ سست روی کی پالیسی اختیار کررہا ہے لیکن شاید وہ یہ بھول رہا ہے کہ یہ معاملہ عالمی عدالت ہی میں نہیں آیا بلکہ عالمی پیمانے پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ اسے وہ اس مقدمہ جیسا سمجھنے کی غلطی نہ کرے جیسا وہ ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں کے خلاف اسلام آباد کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت میں قائم کر کے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔
Comments
Post a Comment