ایف اے ٹی ایف گروپ کی جانب سے پاکستان کی سرزنش
ہندوستان کے خلاف ویسے تو پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں ہمہ وقت جاری رہتی ہیں اور اپنی کوششوں کو کامیاب ثابت کرنے کی دھن میں وہاں کے سفارت کار دروغ گوئی سے کام لینے میں بھی کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ کشمیر کے معاملے میں حالیہ دنوں میں پاکستانی سفارت کاروں نے اپنی سفارتی گراوٹ کا ایسا عریاں مظاہرہ کیا ہے کہ خود ہی بے نقاب ہوگئے۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی غیر رسمی بند کمرےمیں ہونے والی میٹنگ کو اپنی شاندار فتح قرار دے کر اور دھنڈورا پیٹ کر انہوں نے اپنی جو سبکی کرائی ، اس سے شاید انہیں کوئی سبق نہیں ملا۔ اسی دوران ایک اور مضحکہ خیز بات یہ ہوئی کہ پاکستان کے سفیر برائے سری لنکا بہت دور کی کوڑی لائے اور یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ صدر سری لنکا نے کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک ‘‘منتازعہ علاقہ’’قرار دیا ہے۔ لیکن سری لنکا کی حکومت نے پاکستانی سفیر کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے فوراً ہی اس کی تردید کی کہ صدر نے اس سلسلے میں ایسا کچھ کہا نہیں ہے۔ کیا پاکستان ن کے ارباب اختیاراس طرح کی جھوٹی خبریں پھیلا کر عالمی برادری میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی ساکھ اور اعتبار کا بحال ہونا کچھ اتنا آسان نہیں ہے۔ ساکھ انہی کی بحال ہوتی ہے جنہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنی ان غلط یا منفی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ایسے قدم اٹھائیں جن کے تحت وہ اپنی پالیسیوں کو مثبت خطوط پر چلاسکیں۔ بہرحال یہ تو ان کی سفارتی سرگرمیوں کی ایک مثال ہے۔ اگر دہشت گردی کے حوالے سے بات کی جائے تو اس محاذ پر تو پاکستان کا رکارڈ اتنا پست ہے کہ کوئی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ عالمی برادری میں ہر طرف سے اسے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر قدم اٹھائے اور اپنے یہاں ممنوعہ گروپوں کی محفوظ پناہ گاہیں بند کرائے لیکن سچ پوچھیئے تو اسے دہشت گردی ختم کرنے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان میں سرگرم متعدد گروپوں کو عالمی دہشت گرد گروپ قرار دیا گیا ہے لیکن پاکستان نے ان خطرناک گروپوں کے خلاف سوائے کچھ دکھاوے کی کارروائیاں کرنے اور عالمی برادری اور عالمی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے اور کچھ نہیں کیا ہے۔ دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے اس کو FATFکی طرف سے لگاتار وارننگ ملتی رہی۔ اسے گرے لسٹ میں شامل کیا جاتا رہا لیکن اس کے باوجود اس نے ایکش پلان کے وضع کردہ نکات کے تحت کارروائی نہیں کی۔ FATFنے جب اسے گرے لسٹ میں شامل کیا تھا تو کئی سال وہ اس لسٹ میں شامل رہا۔ بے دلی سے تھوڑی بہت کارروائیاں کرکے اور زیادہ مؤثر کاروائیوں کا وعدہ کرکے وہ لسٹ سے باہر تو نکلا لیکن پھر بھی وہ اپنے وعدوں پر کھرا نہیں اترا۔ بالآخر اپنی گزشتہ میٹنگ میں FATFنے اسے ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کیا اور اس بار اسے یہ سخت وارننگ بھی دی کہ اگر اس نے آنے والے اکتوبر تک مطلوبہ کارروائیاں نہیں کیں تو اسے قطعی طور پر بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ اکتوبر کا مہینہ اب زیادہ دور نہیں ہے۔FATFکے ایشیا پیسفک گروپ نے جو اس کے 9علاقائی گروپوں میں سے ایک ہے، کینبیرا میں اپنی ایک میٹنگ بلائی جس میں پاکستان کی کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ یہ میٹنگ 18سے 23اگست تک چلی۔ میٹنگ کے بعد یہ پایا گیا کہ پاکستان کے لئے دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ پر قدغن لگانے کے لئے جو نشانہ مقرر کیا گیا تھا، اسے پورا کرنا تو درکنار، بیشتر معاملات میں اس نے انتہائی سست روی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لہٰذا ایشیا پیسفک گروپ نے اس کی ناقص کارکردگی کے باعث اسے انتہائی نچلی سطح کی فہرست میں شامل کیا ہے جو بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کے مترادف ہے۔ اگرچہ ایشیا پیسفک گروپ کی فائنل رپورٹ اکتوبر میں شائع ہوگی لیکن 5ستمبر کو اس کی ایک اور میٹنگ ہوگی جس میں پاکستان کی 15مہینوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی FATFکے پلینری اجلاس کے لئے ضروری سفارشات پیش کی جائیں گی۔ یہ اجلاس پیرس میں 18سے23اکتوبر تک چلے گا۔ اس کے بعد ہی FATFیہ فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جائے یا ابھی رکھا جائے یا پھر اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔ پاکستان اس بات کی پوری کوشش کرے گا کہ ترکی ، چین اور ملیشیا کی مدد سے وہ کچھ رعایت حاصل کرے لیکن ایشیا پیسفک گروپ نے گزشتہ جمعہ کو جو پاکستان سے متعلق فیصلہ کیا ہے اس کے پیش نظر گرے لسٹ سے باہر نکلنا پاکستان کے لئے مشکل ہوگا۔
Comments
Post a Comment