موضوع:ہند۔نیپال تعلقات کی نئی بلندیاں
نیپال کے دار الحکومت کٹھمنڈو میں حال ہی میں ہند۔نیپال مشترکہ کمیشن کی پانچویں میٹنگ ہوئی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کی۔ میٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے ہندوستانی وزیرخارجہ ایس جے شنکر ڈھاکہ سے کٹھمنڈو پہنچے تھے جہاں انہوں نے بنگلہ دیش کے رہنماؤں کے ساتھ آپسی دلچسپی کے امور اور علاقائی مسئلوں پر تعمیری بات چیت کی۔ کٹھمنڈو کی میٹنگ میں ہندوستان اور نیپال کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
مشترکہ کمیشن کی میٹنگ سے قبل جناب جے شنکر نے نیپال کے وزیراعظم کے پی اولی سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نریندر مودی کے اس سال مئی میں دوبارہ وزیراعظم بننے کے بعد کسی بھی ہندوستانی وزیر کا نیپال کا یہ پہلا دورہ تھا۔ نیپال کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اعلیٰ سطحی دوروں سے نیپال اور بھارت کے درمیان تعلقات کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال اپریل میں وزیراعظم اولی نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم مودی اسی سال مئی اور اگست میں نیپال کے دورے پر گئے تھے۔ ہند۔نیپال مشتترکہ کمیشن نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی امداد سے موتی ہاری۔ املیکھہ گنج پٹرولیم پائپ لائن اور زلزلہ کے بعد نووا کوٹ اور گورکھا ضلعوں میں نجی مکانات کی تعمیر نو مکمل کر لی گئی ہے۔ ہندوستان نے دو وزیروں کی موجودگی میں دو اعشاریہ چار پانچ ارب نیپالی روپے کاایک چیک نیپال کے حوالے کیا تاکہ مکانات کی تعمیر نو پر جو پیسے خرچ ہوئے ہیں ان کی ادائیگی ہوسکے۔ ہندوستان نے نیپال کے ترائی علاقہ میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے 500کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کٹھمنڈو کو 80اعشاریہ سات ایک کروڑ روپے کا ایک اور چیک پیش کیا گیا۔ اس پروجکٹ کے تحت ہلاکی سڑکوں کے چار قطعے تیار کر لئے گئے ہیں جن کا صرف افتتاح ہونا باقی ہے۔ اس موقع پر نیپال کے فوڈ ٹکنالوجی اینڈ کوالٹی کنٹرول محکمہ اور ہندوستان کے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرس اتھارٹی کے درمیان ایک مفاہمت نامہ پر بھی دستخط کئے گئے۔
جناب جے شنکر اور ان کے نیپالی ہم منصب ہردیپ گیاولی دونوں نے سرحد کی دونوں جانب ریلوے پروجکٹوں کے جیانگر۔جنک پور اور جوگ بنی۔براٹ نگر سیکشنوں میں کام کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہا رکیا۔ انہوں نے براٹ نگر میں مربوط چوکی کی تعمیر کی پیش رفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اولی کے بھارت دورے کے دوران رکسول اور کٹھمنڈو کے درمیان بجلی کی ریل لائن بچھانے، آبی گزرگاہوں کے پروجکٹ شروع کرنے اور زراعت کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دونوں وزراء نے ان تینوں شعبوں میں بھی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ہندوستان اور نیپال کی مشترکہ ٹیموں نے اس بات کا مطالعہ کر لیا ہے کہ رکسول اور کٹھمنڈو کے درمیان ریلوے لائن ممکن ہے یا نہیں جبکہ نیپال کے نرائنی اور کوسی ندیوں میں اوسط درجے کی کشتیوں کے لئے آبی گزرگاہوں کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ دونوں وزراء نے ہندوستان اور نیپال کے درمیان امن ودوستی کے 1950کے معاہدے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ فریقین نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ تجارت اور رہگزر سے متعلق معاہدوں کا جائزہ لینے کا عمل جلد ختم ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے بڑے کراسنگ پوائنٹوں پر بنیادی ڈھانچوں کی جدید کاری جاری رہنی چاہئے۔
بار بار کے سیلاب اور ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحدی علاقوں کے پانی میں ڈوب جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ کمیشن نے سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھنے والی مشترکہ ٹیم کی سفارشات پر کارروائی کرنےپررضامندی ظاہر کی۔
یہ میٹنگ تقریباً تین سال کے وقفہ کے بعد منعقد کی گئی تھی۔ اس سے پہلے مشترکہ کمیشن کی میٹنگ اکتوبر 2016میں نئی دہلی میں ہوئی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کے لئے مشترکہ کمیشن کا میکینزم 1987میں قائم کیا گیا تھا۔ لیکن یہ کئی برسوں تک بالکل ساکت رہا۔ کٹھمنڈو کے اپنے دورے کے دوران جناب جے شنکر نے صدر بدیا دیوی بھنڈاری سے بھی ملاقات کی۔ امید ہے کہ مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں فریقین نے جو عہد کئے ہیں ان سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید فرو غ حاصل ہوگا۔
مشترکہ کمیشن کی میٹنگ سے قبل جناب جے شنکر نے نیپال کے وزیراعظم کے پی اولی سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نریندر مودی کے اس سال مئی میں دوبارہ وزیراعظم بننے کے بعد کسی بھی ہندوستانی وزیر کا نیپال کا یہ پہلا دورہ تھا۔ نیپال کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اعلیٰ سطحی دوروں سے نیپال اور بھارت کے درمیان تعلقات کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال اپریل میں وزیراعظم اولی نے ہندوستان کا دورہ کیا تھا جس کے بعد وزیراعظم مودی اسی سال مئی اور اگست میں نیپال کے دورے پر گئے تھے۔ ہند۔نیپال مشتترکہ کمیشن نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی امداد سے موتی ہاری۔ املیکھہ گنج پٹرولیم پائپ لائن اور زلزلہ کے بعد نووا کوٹ اور گورکھا ضلعوں میں نجی مکانات کی تعمیر نو مکمل کر لی گئی ہے۔ ہندوستان نے دو وزیروں کی موجودگی میں دو اعشاریہ چار پانچ ارب نیپالی روپے کاایک چیک نیپال کے حوالے کیا تاکہ مکانات کی تعمیر نو پر جو پیسے خرچ ہوئے ہیں ان کی ادائیگی ہوسکے۔ ہندوستان نے نیپال کے ترائی علاقہ میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے 500کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کٹھمنڈو کو 80اعشاریہ سات ایک کروڑ روپے کا ایک اور چیک پیش کیا گیا۔ اس پروجکٹ کے تحت ہلاکی سڑکوں کے چار قطعے تیار کر لئے گئے ہیں جن کا صرف افتتاح ہونا باقی ہے۔ اس موقع پر نیپال کے فوڈ ٹکنالوجی اینڈ کوالٹی کنٹرول محکمہ اور ہندوستان کے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرس اتھارٹی کے درمیان ایک مفاہمت نامہ پر بھی دستخط کئے گئے۔
جناب جے شنکر اور ان کے نیپالی ہم منصب ہردیپ گیاولی دونوں نے سرحد کی دونوں جانب ریلوے پروجکٹوں کے جیانگر۔جنک پور اور جوگ بنی۔براٹ نگر سیکشنوں میں کام کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہا رکیا۔ انہوں نے براٹ نگر میں مربوط چوکی کی تعمیر کی پیش رفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم اولی کے بھارت دورے کے دوران رکسول اور کٹھمنڈو کے درمیان بجلی کی ریل لائن بچھانے، آبی گزرگاہوں کے پروجکٹ شروع کرنے اور زراعت کے شعبہ میں تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دونوں وزراء نے ان تینوں شعبوں میں بھی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ہندوستان اور نیپال کی مشترکہ ٹیموں نے اس بات کا مطالعہ کر لیا ہے کہ رکسول اور کٹھمنڈو کے درمیان ریلوے لائن ممکن ہے یا نہیں جبکہ نیپال کے نرائنی اور کوسی ندیوں میں اوسط درجے کی کشتیوں کے لئے آبی گزرگاہوں کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ دونوں وزراء نے ہندوستان اور نیپال کے درمیان امن ودوستی کے 1950کے معاہدے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ فریقین نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ تجارت اور رہگزر سے متعلق معاہدوں کا جائزہ لینے کا عمل جلد ختم ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے بڑے کراسنگ پوائنٹوں پر بنیادی ڈھانچوں کی جدید کاری جاری رہنی چاہئے۔
بار بار کے سیلاب اور ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحدی علاقوں کے پانی میں ڈوب جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ کمیشن نے سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھنے والی مشترکہ ٹیم کی سفارشات پر کارروائی کرنےپررضامندی ظاہر کی۔
یہ میٹنگ تقریباً تین سال کے وقفہ کے بعد منعقد کی گئی تھی۔ اس سے پہلے مشترکہ کمیشن کی میٹنگ اکتوبر 2016میں نئی دہلی میں ہوئی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کے لئے مشترکہ کمیشن کا میکینزم 1987میں قائم کیا گیا تھا۔ لیکن یہ کئی برسوں تک بالکل ساکت رہا۔ کٹھمنڈو کے اپنے دورے کے دوران جناب جے شنکر نے صدر بدیا دیوی بھنڈاری سے بھی ملاقات کی۔ امید ہے کہ مشترکہ کمیشن کی میٹنگ میں فریقین نے جو عہد کئے ہیں ان سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید فرو غ حاصل ہوگا۔
Comments
Post a Comment