قذافی اسٹیڈیم میں حافظ سعید پر نماز عید کی امامت کرنے پر روک
گلوبل دہشت گرد قرار دیے جا چکے جماعت الدعویٰ کے سربراہ حافظ سعید کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں نماز عیدالفطر کی امامت کرنے سے روک کر پاکستان نے عالمی برادری کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے تعلق سے سنجیدہ ہے اور اس سلسلے میں دہشت گرد تنظیموں و لیڈروں کے خلاف مناسب کارروائی بھی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ حافظ سعید نہ صرف ممبئی دہشتگردانہ حملے کا کلیدی ملزم ہے بلکہ اسے امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں رکھا ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل بھی حافظ سعید کو گلوبل دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ان حالات میں پاکستان پر گذشتہ کئی سال سے اس بات کے لیے دباؤ ہے کہ وہ حافظ سعیداور اس کی جماعت الدعویٰ سمیت جیش محمد،لشکر طیبہ اور تحریک طالبان نیز دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے دہشت گرد عناصر کے معاملے میں پاکستان کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے سبب ہی بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی خراب دور میں پہنچ گئے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے لیے انسداد دہشت گردی کا ایشو صرف عالمی برادری کو گمراہ کرکے مالی امداد حاصل کرنے یا عالمی برادری کی ممکنہ سخت کارروائی سے بچنے تک محدو دہو کر رہ گیا ہے۔
پاکستان کے اس رویے نے عالمی سطح پر اسے ایک طرف ناقابل اعتماد ملک بنادیا ہے تو دوسری طرف امریکہ اور بعض دیگر ممالک سے ملنے والی مالی امداد بھی پاکستان کو ملنی بند ہو گئی ہے۔ظاہر ہے معاشی ترقی کے لیے دی جانے والی مالی امداد کو دہشت گردوں کی سرپرستی اور پشت پناہی پر خرچ کیا جانے لگے تو دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان کی مالی امداد سے ہاتھ کھنچنے میں ہی بہتری سمجھےگا۔ایسا ہی ہو بھی رہا ہے۔بد قسمتی سے اس کا لازمی اثر پاکستانی معیشت پر پڑ رہا ہے اور پاکستانی عوام کو حکومت کی غلط پالیسیوں کے سزا معاشی بد حالی یا بحران کی شکل میں بھگتنی پڑ رہی ہے۔عالمی مالی ادروں نے پاکستان کی مالی امداد کو انسداد دہشت گردی سے مشروط کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب تک پاکستان اس معاملے میں ٹھوس اور نتیجہ خیز کارروائی نہیں کرتا اس وقت تک پاکستان کو مالی بحران سے باہر نکالنے کے لیے عالمی برادری کوئی مدد نہیں کریگی۔
دہشت گردی کی مالی اعانت پر نظر رکھنے والی تنظیم ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ دوبارہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کی کارروائی اس سلسلے کا ایک قدم ہے۔پاکستان اگر اب بھی انسداد دہشت گردی کے تعلق سے عالمی برادری کو مطمئین کرنے والی کارروائی نہیں کرتا ہے تو مذکورہ تنظیم کا دوسرا قدم پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنا ہو سکتا ہے جس کے سنگین نتائج پاکستان کی ڈگمگاتی معیشت کو تباہ کر دینگے۔اس حقیقت کا احسا س پاکستا ن کو بھی ہے۔ اسی لیے حاٖفظ سعید کو لاہور کے قذافی اسیٹیڈیم میں عید الفطر کی نماز کی امامت سے روکنے کی کارروائی عالمی برادری کے دباؤ کا نتیجہ بھی ہے۔ورنہ تو حقیقت یہ ہے کہ یہی حافظ سعید گزشتہ کئی برسوں سے اسی قذافی اسٹیڈیم میں نہ صرف نماز عید کی امامت کر رہا ہے بلکہ اپنے خطبے میں بھارت کے خلاف زہریلی تقاریر کرنے کے ساتھ مسئلہ کشمیر اٹھا کر بھی دونوں ممالک کے رشتوں کو بگاڑنے کی کوششیں کرتا رہا ہے لیکن پاکستان نے اس پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی۔اسی لیے سعید کو نماز کی امامت سے روکنے کی کارروائی پر ہی عالمی برادری کو مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے۔بلا شبہ پاکستان حکومت کی یہ کارروائی انسداد دہشت گردی کے سلسلے کا ایک قدم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب حافظ سعید کو گلوبل دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے تو اسے اب تک گرفتار کرکے اس پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا۔ممبئی دہشت گردانہ حملے کے معاملے میں بھی پاکستان کو بھارت کی طرف سے کافی ثبوت بے شمار ڈوزئیرس کی شکل مین سونپے جا چکے ہیں،لیکن نتیجہ کیا ہوا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے حافظ سعید کے خلاف تازہ کارروائی درست ہونے کے باوجود انسداد دہشت گردی کے تعلق سے پاکستان کی نیک نیتی ثابت نہیں کرسکتی۔اس کے لیے پاکستان کو مزید کارروائی کرنے کی ضرورت ہے دہشت گردوں کے خلاف صرف بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لیے کارروائی کرنا اصل مسئلے یعنی دہشت گردی کا حل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے بہت کچھ کیا جانا ضروری ہے اور پاکستان کو حافظ سعید سمیت تمام دہشت گرد لیڈروں کے خلاف بھرپور اور نیک نیتی کے ساتھ کارروائی کرنا ضروری ہے۔اس کارروائی میں ان دہشتگردوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا اور اور ان کی دیگر سرگرمیوں کو محدود کرنا بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ حافظ سعید نہ صرف ممبئی دہشتگردانہ حملے کا کلیدی ملزم ہے بلکہ اسے امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں رکھا ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل بھی حافظ سعید کو گلوبل دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ان حالات میں پاکستان پر گذشتہ کئی سال سے اس بات کے لیے دباؤ ہے کہ وہ حافظ سعیداور اس کی جماعت الدعویٰ سمیت جیش محمد،لشکر طیبہ اور تحریک طالبان نیز دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے دہشت گرد عناصر کے معاملے میں پاکستان کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے سبب ہی بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی خراب دور میں پہنچ گئے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے لیے انسداد دہشت گردی کا ایشو صرف عالمی برادری کو گمراہ کرکے مالی امداد حاصل کرنے یا عالمی برادری کی ممکنہ سخت کارروائی سے بچنے تک محدو دہو کر رہ گیا ہے۔
پاکستان کے اس رویے نے عالمی سطح پر اسے ایک طرف ناقابل اعتماد ملک بنادیا ہے تو دوسری طرف امریکہ اور بعض دیگر ممالک سے ملنے والی مالی امداد بھی پاکستان کو ملنی بند ہو گئی ہے۔ظاہر ہے معاشی ترقی کے لیے دی جانے والی مالی امداد کو دہشت گردوں کی سرپرستی اور پشت پناہی پر خرچ کیا جانے لگے تو دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان کی مالی امداد سے ہاتھ کھنچنے میں ہی بہتری سمجھےگا۔ایسا ہی ہو بھی رہا ہے۔بد قسمتی سے اس کا لازمی اثر پاکستانی معیشت پر پڑ رہا ہے اور پاکستانی عوام کو حکومت کی غلط پالیسیوں کے سزا معاشی بد حالی یا بحران کی شکل میں بھگتنی پڑ رہی ہے۔عالمی مالی ادروں نے پاکستان کی مالی امداد کو انسداد دہشت گردی سے مشروط کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب تک پاکستان اس معاملے میں ٹھوس اور نتیجہ خیز کارروائی نہیں کرتا اس وقت تک پاکستان کو مالی بحران سے باہر نکالنے کے لیے عالمی برادری کوئی مدد نہیں کریگی۔
دہشت گردی کی مالی اعانت پر نظر رکھنے والی تنظیم ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ دوبارہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کی کارروائی اس سلسلے کا ایک قدم ہے۔پاکستان اگر اب بھی انسداد دہشت گردی کے تعلق سے عالمی برادری کو مطمئین کرنے والی کارروائی نہیں کرتا ہے تو مذکورہ تنظیم کا دوسرا قدم پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنا ہو سکتا ہے جس کے سنگین نتائج پاکستان کی ڈگمگاتی معیشت کو تباہ کر دینگے۔اس حقیقت کا احسا س پاکستا ن کو بھی ہے۔ اسی لیے حاٖفظ سعید کو لاہور کے قذافی اسیٹیڈیم میں عید الفطر کی نماز کی امامت سے روکنے کی کارروائی عالمی برادری کے دباؤ کا نتیجہ بھی ہے۔ورنہ تو حقیقت یہ ہے کہ یہی حافظ سعید گزشتہ کئی برسوں سے اسی قذافی اسٹیڈیم میں نہ صرف نماز عید کی امامت کر رہا ہے بلکہ اپنے خطبے میں بھارت کے خلاف زہریلی تقاریر کرنے کے ساتھ مسئلہ کشمیر اٹھا کر بھی دونوں ممالک کے رشتوں کو بگاڑنے کی کوششیں کرتا رہا ہے لیکن پاکستان نے اس پر کبھی کوئی توجہ نہیں دی۔اسی لیے سعید کو نماز کی امامت سے روکنے کی کارروائی پر ہی عالمی برادری کو مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے۔بلا شبہ پاکستان حکومت کی یہ کارروائی انسداد دہشت گردی کے سلسلے کا ایک قدم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب حافظ سعید کو گلوبل دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے تو اسے اب تک گرفتار کرکے اس پر مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا۔ممبئی دہشت گردانہ حملے کے معاملے میں بھی پاکستان کو بھارت کی طرف سے کافی ثبوت بے شمار ڈوزئیرس کی شکل مین سونپے جا چکے ہیں،لیکن نتیجہ کیا ہوا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے حافظ سعید کے خلاف تازہ کارروائی درست ہونے کے باوجود انسداد دہشت گردی کے تعلق سے پاکستان کی نیک نیتی ثابت نہیں کرسکتی۔اس کے لیے پاکستان کو مزید کارروائی کرنے کی ضرورت ہے دہشت گردوں کے خلاف صرف بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لیے کارروائی کرنا اصل مسئلے یعنی دہشت گردی کا حل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے بہت کچھ کیا جانا ضروری ہے اور پاکستان کو حافظ سعید سمیت تمام دہشت گرد لیڈروں کے خلاف بھرپور اور نیک نیتی کے ساتھ کارروائی کرنا ضروری ہے۔اس کارروائی میں ان دہشتگردوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا اور اور ان کی دیگر سرگرمیوں کو محدود کرنا بھی شامل ہے۔
Comments
Post a Comment