موضوع : وزیر اعظم نریندرمودی کا مالدیپ اور سری لنکا کا دورہ

دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعدنریندر مودی نے ہفتہ کے اواخر میں مالدیپ اور سری لنکا کا دورہ کیا۔ ان کے اس دورے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنی ‘‘پڑوسی پہلے’’ اور‘‘علاقہ میں سب کی سلامتی اور ترقی’’ کی پالیسی کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔‘‘پڑوسی پہلے’’ کی پالیسی پر عمل پیراہوتے ہوئے بھی جناب مودی اپنی پہلی مدت کے دوران مالدیپ کا سرکاری دورہ نہیں کر سکے تھے کیونکہ وہاں سیاسی تعطل بر قرار تھا جو اکتوبر2018 میں ابراہیم محمد صالح کے صدر منتخب ہونے کے بعد ہی دور ہو سکا۔ اسی سال نومبر میں ہندستانی وزیراعظم صدر ابراہیم محمد صالح کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے مالدیپ گئے۔دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے بیرونی دورے کے لئے جناب مودی کا مالدیپ کو منتخب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان بحر ہند میں واقع اس جزائری ملک کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات اور مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

اس دورے میں وزیر اعظم مودی کو مالدیپ کا اعلیٰ ترین اعزاز‘‘رول آف نشان عزا لدین’’ سے نوازا گیا ۔ دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے مالدیپ کی پارلیمنٹ ‘مجلس’ سے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں جناب مودی نے ایک ایسی دنیا کے بارے میں اپنا ویژن پیش کیا جہاں جمہوریت کا بول بالا ہو اور جہاں سب کو برابر کا درجہ حاصل ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بحر ہند کے علاقہ میں دیرپا امن و ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہندوستانی وزیر اعظم نے مالدیپ کے اسپیکر محمد نشید اور نائب صدر فیصل نسیم سے بھی بات چیت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مامون ریفارم موومنٹ کے رہنما مامون عبدالقیوم،جمہوری پارٹی کے رہنماقاسم ابرہیم اور عدالت پارٹی کے لیڈر عمران عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔ ان رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران مالدیپ میں جمہوریت کو فروغ دینے اور مخلوط حکومت کو بر قرار رکھنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم کے اس دورے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ وزیر اعظم کے اس دورے کو نہایت کامیاب قرار دیا گیا ہے ۔ دورے کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں صدر صالح نے ہندوستان کی ‘‘پڑوسی پہلے’’ کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی حکومت دونوں ملکوں کےدرمیان کثیر جہتی اور سود مند شراکت داری کو فروغ دینے کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کی دعویداری کی بھی حمایت کی۔ صدر صالح نے 21-2020کے لئے بھی ہندوستان کے لئے غیر مستقل سیٹ کی بھی حمایت کی ۔ امید ہے کہ وزیر اعظم کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

مالدیپ سے وطن واپس ہوتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کے روزچند گھنٹوں کے لئے سری لنکا میں بھی رکے۔ کولمبو میں اپنے چار گھنٹے کے قیام کے دوران جناب مودی نے صدر میتری پالا سری سینا ، وزیر اعظم رانل وکرما سنگھے، کابینہ کے مختلف اراکین، اپوزیشن لیڈر مہندا راج پکشے اور تمل نیشنل الائنس کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔انہوں نے ایسٹر سنڈے کے موقع پر دہشت گردانہ حملوں میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے سینٹ انتھونی چرچ کا بھی دورہ کیا۔

وزیر اعظم کے اس مختصر سے دورے کا مقصد سری لنکا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا جہاں زبر دست دہشت گردانہ حملے ہوئے تھے جس میں تقریباً 250 لوگوں کی جانیں تلف ہوئی تھیں۔ جناب مودی پہلے بیرونی لیڈر ہیں جنہوں نے ایسٹر سنڈے کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد وہاں کا دورہ کیا ہے۔ صدر سری سینا نے جناب مودی کا کولمبو کا دورہ کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے سری لنکا کی معاشی اور تجارتی ترقی میں مدد ملے گی۔ ایسٹر سنڈے کے موقع پر جب دہشت گردانہ حملے ہوئے تو اس سے سیاحت کے شعبہ پر کافی منفی اثر پڑا اور وہ بری طرح متاثر ہوا۔ صد سری سینا نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے دنیا کو یہ مثبت پیغام جائے گا کہ ملک میں سلامتی کی صورتحال کافی اچھی ہے اور لوگ گھومنے کی غرض سے یہاں آ سکتے ہیں۔ اپنی ملاقات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر سری سینا نے دہشت گردی کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس دورے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پڑوسی ملکوں سے نہ صرف دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں تعاون کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ بحری سلامتی کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ