موضوع: حکومت کا ترقی کی رفتار پر توجہ مرکوز رکھنے کا فیصلہ
پارلیمانی انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد قومی جمہوری اتحاد کی حکومت ملک کی معیشت کو مزید فروغ دینے کے لئے پوری طرح تیار ہے تاکہ روزگار پیدا کرنے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بات واضح کردی ہے کہ ان کی حکومت ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے معاشی شعبہ میں اصلاحات کے لئے پابند عہد ہے۔ نیتی آیوگ میں ماہرین معاشیات اور دیگر شعبوں کے ماہرین کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے ملک کی معیشت کو مسابقتی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ غیر ملکی راست سرمایہ کاری میں اضافہ ہوسکے۔
محنت و روزگار، زراعت، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے ساتھ وزیراعظم کی یہ ملاقات کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ نئی حکومت کی جانب سے 5 جولائی کو مکمل بجٹ پیش کئے جانے سے چند روز قبل کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں شرکت کرنے والوں کو پانچ گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ وہ روزگار، زراعت، برآمدات، تعلیم، صحت اور پانی کے ذرائع کے بارے میں نئے خیالات پیش کرسکیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روزگار کی پیداوار اور معیشت کی تیز رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے ایک موثر لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اپنی پہلی مدت کے دوران مودی حکومت کو معیشت کو فروغ دینے کے زبردست چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا اور معیشت کو فروغ دینے کے مقصد سے حکومت کو بہت سے اقدامات کرنے پڑے تھے۔ حکومت کی محنت اور اس کے اصلاحی اقدامات کے نتیجہ میں ہندوستانی معیشت دنیا کی سب سے تیز ترقی کرنے والی معیشت بن گئی اور اب جب قومی جمہوری اتحاد نے دوسری مدت کے لئے لجام حکومت سنبھالی ہے تو اسے ایک بار پھر معیشت کو دیرپا ترقی دینے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ لوگوں کو کافی امید ہے کہ آنے والے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں صَرف اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے حکومت کے منصوبوں کا ذکر ضرور ہوگا۔
اس وقت بینکوں کی جو صورتحال ہے، حکومت کی اس پر بھی توجہ ہوگی۔ اپنی پہلی مدت کے دوران مودی حکومت نے بینکوں کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے انسالونسی اینڈ بینکرپسی کوڈ جیسے قانون بنائے تھے۔ ان اقدامات سے بینک کے شعبہ میں صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے اور امید ہے کہ نئی وزیر خزانہ اس عمل کو مزید تقویت بخشیں گی تاکہ قرضوں کی فراہمی مزید آسان ہوسکے۔
ملک کی معیشت کے بارے میں پیش اندازی کی گئی ہے کہ وہ تقریباً 7 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔ اس طرح اس کا دنیا میں سب سے تیز ترقی کرنے والی معیشت کا درجہ برقرار رہے گا۔ امید ہے کہ حکومت ان بڑے شعبوں میں بھی ترقی کو نئی زندگی دینے کے اقدامات کرے گی جہاں ترقی کی رفتار کافی سست ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو اپنی دوسری مدت کے دوران معیشت کے شبعہ میں اصلاحات کے لئے زبردست اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت اس وقت سرکاری کمپنیوں سے جو سرمایہ کشی کررہی ہے ، اسے جاری رکھنا ہوگا۔ اسے جی ایس ٹی نظام کو بھی مزید آسان بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ صنعتوں کے لئے قرض کی فراہمی کو بھی آسان کرنا ہوگا۔ اسی کے ساتھ ساتھ حکومت کو درآمدات پر محصولات میں بھی کمی کرنی پڑے گی اور چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث برآمدات کے جو مواقع پیدا ہوئے ہیں، اس کا بھی فائدہ اٹھانا ہوگا۔
ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ چاہتی ہے کہ ہندوستان دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے تو اسے معیشت کے شعبہ میں زبردست اصلاحات کرنی ہوں گی۔ ملک کو املاک، محنت اور زمین کے شعبوں میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے اور حکومت کو محسوس ہورہا ہے کہ اگر ان شعبوں میں اصلاحات نہ کی گئیں تو مصنوعات سازی اور خدمات کے شعبوں میں ملک پیچھے رہ جائے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک زمین کے بازار کو آزاد نہیں کیا جاتا، ملک کی مصنوعات سازی کا شعبہ عالمی سطح کا نہیں بن سکتا۔ اس کے ساتھ ہی لیبر مارکٹ میں لچیلا پن بھی اختیار کیا جانا چاہیے ۔ زراعت ایک اور شعبہ ہے جہاں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ معیشت کے مختلف شعبوں میں بڑی اصلاحات سے نہ صرف ترقی میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
Comments
Post a Comment