پاکستان کے سربراہ فوج کو قومی ترقیاتی کونسل کی رکنیت
پاکستان اس اعتبار سے دنیا کا ایک قابل ذکر ملک ہے کہ یہاں کی فوج کو حکومت کے کاروبار میں بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔ اس ادارے کو جو آئینی اختیارات پہلے ہی سے حاصل ہیں ان کادائرہ سچ پوچھئے تو موجودہ اختیارات کے مقابلے میں بے حد محدود ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں آئینی طور پر تو اس وقت جمہوریت ہے لیکن طاقت کا اصل محور فوجی ہیڈکوارٹر ہی ہے جو راولپنڈی میں واقع ہے۔ راجدھانی اسلام آباد ہے جہاں وفاقی حکومت کے دفاتر ہیں۔ 1947 میں برطانوی سامراج کے خاتمے کے بعد جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تب سے اب تک وہاں کی تاریخ کے نصف حصے پر فوجی جنرلوں نے براہ راست حکومت کی اور باقی نصف حصے پر سیویلین حکمرانوں نے۔ لیکن سویلین حکمراں پوری آزادی سے حکومت نہ کرسکے۔ 2008 سے قبل تک تو کوئی بھی منتخب حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکی۔ باربار فوجی حکومتوں کو توڑا جاتا رہا، مارشل لاء لگتے رہے اور لمبی لمبی مدت تک لوگ جمہوریت سے محروم کئے جاتے رہے۔ اگرچہ 2008 میں آخری فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے زوال کے ساتھ جب جمہوریت ایک بار پھر بحال ہوئی تو منتخب حکومتوں نے تو پانچ سال کی مدت پوری کی لیکن خارجہ پالیسی اور بعض دوسرے اہم امور پر پھر بھی فوج ہی کا غلبہ رہا۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان سے پہلے دو وزرائے اعظم کو وقت سے پہلے ہی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ صورتحال اس لئے پیدا ہوئی کہ فوج نہ تو پاکستان پیپلز پارٹی کو پسند کرتی ہے اور نہ ہی مسلم لیگ نواز کو، کیونکہ یہ پارٹیاں سیویلین بالادستی کے لئے اصرار کرتی ہیں جو فوج کو قابل قبول نہیں۔ مبینہ طور پر اس معاملے میں عدلیہ بھی فوج کے تئیں جانبداری کا رویہ اختیار کرتی رہی۔ بہرحال گزشتہ سال جب عام انتخابات ہوئے تو فوج نے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی کہ عمران خان کی تحریک انصاف کو برسراقتدارلایا جاسکے جس میں وہ کامیاب بھی ہوئی۔
عام تاثر یہی ہے کہ عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد فوج ان پر کئے گئے اپنے احسانات کا صلہ چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ ایسے حالات بن جائیں کہ فوج کو ان امور میں بھی مداخلت کرنے کا موقع مل جائے جو اب تک اس کی دسترس سے باہر تھے۔ اسی دوران ایک ایساواقعہ بھی ہوا جو فوج کو بے حد ناگوار گذرا۔ سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج جسٹس فائز عیسیٰ کی دو رکنی بنچ نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس میں یہ کہا گیا کہ فوج اور ایجنسیوں کے بعض اہم عہدیداروں نے اپنے فرائض منصبی سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی اور سیاسی معاملات میں بے جا مداخلت کرتے ہوئے ایک مذہبی انتہاپسند تنظیم کو انتظامیہ کے خلاف اکسایا اور لاقانونیت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی۔ مذکورہ جج نے فوج کے ذمہ دار عہدیداروں کو یہ ہدایت بھی دی کہ ایسے غلط کار افسران کے خلاف وہ تادیبی کارروائی کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس جج کے خلاف فوجی ٹولہ حرکت میں آگیا اور عمران حکومت کو اس بات کے لئے ہموار کرلیا کہ وہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشیل کونسل میں کرپشن سے متعلق ایک ریفرینس داخل کرے۔ سو یہ کام ہوگیا۔ ادھر پاکستان بھر کے وکیلوں نے اس ریفرینس کے خلاف احتجاج کرنے کاالٹی میٹم دیا ہے۔ گویا ایک بار پھر عدلیہ اور فوج کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ بظاہر تو ٹکراؤ حکومت اور عدلیہ کے درمیان ہونے والا ہے لیکن دراصل مقابلہ فوج ہی سے ہے۔
مختصر یہ کہ اب جو محاذ آرائی کی فضا بن رہی ہے، اس میں ایک طرف فوج اور عمران حکومت ہے اور دوسری طرف عدلیہ اور اس کے ساتھ ممکنہ طور پر حکومت اور فوج کے تمام مخالفین ہونگے۔ ایک طرح سے طاقت آزمائی شروع بھی ہوگئی ہے۔ ایک ہی دو روز پہلے کی خبر تھی کہ آئی ایس آئی کا نیا سربراہ ایک سخت گیر فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو مقرر کیا گیا ہے حالانکہ ان کے پیشرو صرف 8 ماہ قبل اس عہدے پر بحال کئے گئے تھے اور اب تازہ ترین خبر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جو نئی قومی ترقیاتی کونسل تشکیل دی ہے اس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا کو بھی ایک رکن بنایا گیا ہے۔ یعنی پاکستان کے اقتصادی معاملات میں بھی اب فوج کو براہ راست اہم رول ادا کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
Comments
Post a Comment