آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کا تقرر

رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے ایک سخت گیر قسم کے اعلی فوجی افسر کو پاکستان کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا نیا ڈائرکٹر جنرل مقرر کیا ہے۔ حالانکہ آئی ایس آئی کے رخصت پذیر سربراہ لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر صرف 8 ماہ قبل اس عہدے پر بحال کئے گئے تھے لیکن اچانک یہ خبر سننے کو ملی کہ ان کی جگہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر عمل میں آیا ہے حالانکہ اعلی فوجی افسروں کے تبادلے ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن جس ماحول اور جس پس منظر میں یہ تبدیلی عمل میں آئی ہے، اس سے پاکستان کے سیاسی، سماجی اور افسر شاہی حلقوں میں چہ مگوئیاں ضرور شروع ہوگئی ہیں۔ پاکستانی فوج اس ملک کا سب سے طاقتور اور با اثر ادارہ تصور کی جاتی ہے، جس نے آزادی کے بعد گزشتہ 72 سال کی تاریخ کے کم و بیش نصف حصے پر براہ راست حکومت کی اور سیویلین حکومتوں کے دور میں بھی اصل طاقت اسی کے پاس رہی۔ اسی طرح پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹلی جنس یا آئی ایس آئی کے سربراہ کا عہدہ بھی ایک انتہائی اہم عہدہ مانا جاتا ہے۔ یہ ایجنسی جس بات کے لئے سب سے زیادہ جانی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں بالخصوص ہندوستان کے خلاف اسلامی انتہاپسندوں کو استعمال کرتی رہی ہے۔ لیکن اندرون پاکستان بھی اس پر خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا، سیاسی پارٹیوں کے درمیان پھوٹ پیدا کرنا، سیاسی قیادت کو بدنام کرنا اور فوج کے حق میں فضا ہموار کرنا۔ ان باتوں کا الزام بھی اس پر لگتا رہا ہے۔ مختصراً اس کی حیثیت ایک تخریب کار ایجنسی کی رہی ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں جو عام انتخابات ہوئے تھے، ان میں بھی اس کا رول بہت زیادہ چرچہ میں رہا۔ مثلاً اس پر صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کا بھی الزام لگا۔ اس وقت پشتون تحفظ موومنٹ فوج اور آئی ایس آئی کے خاص نشانے پر ہے۔

لیفٹننٹ جنرل فیض حمید، پہلے بھی آئی ایس آئی کے ایک اہم اور بااثر افسر رہے ہیں۔ 2017 کے اواخر تک وہ اس ایجنسی سے وابستہ تھے اور انہیں کے زمانے میں فیض آباد کا وہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا جس میں انتہاپسند تنظیم تحریک لبیک پاکستان نے لاقانونیت کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا تھا اور راجدھانی کی شاہراہوں کو بلاک کیا تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے کارکنوں نے پولیس سے بھی لڑائی کی تھی اور اسے اپنے فرائض ادا کرنے سے روکا تھا۔ اسی زمانے میں فیض حمید نے نمایاں رول ادا کیا تھا۔ ان کی ایجنسی نے تو ان کی ‘خدمات’ کو سراہا تھا لیکن اصل کہانی یہ بتائی جاتی ہے کہ تحریک لبیک کی قیادت اور اس کے کارکنوں کی، فیض حمید نے حوصلہ افزائی کی تھی اور اس بات کے لئے بالواسطہ اکسایا بھی تھا کہ وہ اس وقت کی مسلم لیگ نواز حکومت کے لئے مشکل حالات پیدا کریں۔ اس وقعہ کا پاکستان کی سپریم کورٹ نے از خود نوٹس بھی لیا تھا۔ حال ہی میں اس کا فیصلہ بھی آیا تھا اور سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ فوج اور ایجنسیوں کے افسران نے سیاسی معاملات میں مداخلت کی تھی اور اس طور پر اپنے حلف کی خلاف ورزی کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے خاطی افسران کے خلاف متعلقہ محکموں کو تادیبی کارروائی کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ اس دو رکنی بنچ کی قیادت جسٹس فائزعیسیٰ نے کی تھی اور اس کی پاداش میں جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدر پاکستان کی طرف سے سپریم جوڈیشیل کونسل میں ایک ریفرینس بھی داخل کیا گیا ہے۔ ہر طرف پاکستان میں اسی بات کا چرچہ ہے کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف فوج کے کہنے پر یہ سازش رچی گئی ہے اور پاکستان کی وکلا کی برادری نے اس انتقامی کارروائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج کا بگل بجادیا ہے۔

اس پس منظر میں پاکستان کے سنجیدہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج اور ایجنسیوں نے مزید خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کے لئے لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو آئی ایس آئی کا نیا چیف مقرر کیا ہے اور یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ آنے والے وقتوں میں سکیورٹی اور قومی مفاد کے نام پر پورے پاکستان کو شدید خوف کے ماحول میں مبتلا کیا جائے گا اور ٹیپ کے بند کے طور پر یہ راگ الاپا جائے گا کہ پاکستان شدید بیرونی خطرات کی زد میں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ