موضوع: اوساکا میں برکس رہنماؤں کی غیر رسمی ملاقات


جاپان کے شہر اوساکا میں گروپ -20 کی سربراہ کانفرنس کل شروع ہوئی۔ برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ کے رہنماؤں نے اس کانفرنس سے ہٹ کر ملاقات کی۔ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی، برازیل کے صدر جیئر بولسوناروروس کے صدر ولادیمیر پوتن، چین کے صدر شی جنپنگ اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما پھوسانے جاپان کو گروپ -20 کی صدارت کے لئے مبارکباد پیش کی اور میزبان ملک نے کانفرنس میں بحث کے لئے جن موضوعات کا انتخاب کیا اس کے لئے اس کی تعریف کی۔ قابل ذکر ہے کہ ان موضوعات میں تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ، آب و ہوا کی تبدیلی، صحت خدمات کی فراہمی اور دیرپا ترقی شامل ہیں۔

ملاقات کے دوران برکس کے رہنماؤں نے محسوس کیا کہ دنیا کی معاشی ترقی میں استحکام آچکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس سال کے اواخر میں اور آئندہ برس اس میں تھوڑی بہتری آئے گی۔ تاہم یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی اور تجارتی جنگ کے درمیان معیشت کی ترقی کی رفتار میں تیزی آئے گی۔ برکس کے ان رہنماؤں نے بین الاقوامی تجارت کی دیرپا ترقی کے لئے دنیا میں موافق معاشی ماحول کی ضرت پرزور دیا۔

پچھلی ایک دہائی کے دوران برکس مملکوں نے عالمی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق 2030 تک عالمی معیشت کی ترقی میں ان کا اہم اور کلیدی کردار رہے گا۔ڈھا نچہ جاتی اصلاحات کے نفاذ سے برکس کی ترقی کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ برکس ملکوں کے درمیان آپسی تجارت کے فروغ سے بین الاقوامی تجارت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ان رہنماؤں نے کھلے بازاروں، معیشت میں لچک، اقتصادی استحکام ، بہتر معاشی پالیسی اور پبلک-پرائیویٹ شراکتداری کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ برکس تنظیم شفاف، غیر جانبدارانہ، آزاد اور سب کی شمولیت والی بین الاقوامی تجارت کے لئے پابند عہد ہے۔ ان کا خیال تھا کہ یک طرفیت اور ملکی صنعتوں کو بیرونی مال پر تحفظ فراہم کرنے کا عمل عالمی تجارت تنظیم کے جذبے اور اصولوں کے خلاف ہیں۔ ان رہنماؤں نے تجارت سے متعلق بین الاقوامی قانون اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے تئیں اپنے عہد کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی تجارت تنظیم کے ساتھ قانون پر مبنی تجارتی نظام کی حمایت کا اعلان کیا تاہم انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت تنظیم میں گفت و شنید کا ایجنڈا متوازن ہونا چاہئے جس پر بے باکی کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جاسکے۔

برکس نے بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ کو مالی امداد فراہم کرنے اور دیرپا ترقی کے لئے نیو ڈیولپمنٹ بینک کی ستائش کی۔ تنظیم کے رہنماؤں نے رکن ممالک میں بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے سلسلہ میں جو مسائل ہیں انہیں حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی دفاتر قائم کرکے نیو ڈیولپمنٹ بنک کو اور مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے رکن ممالک کی کرنسیوں میں وسائل منظم کرنے کی بینک کی پہل کا خیر مقدم کا۔ ان رہنماؤں نے دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے جامع اور مسلسل کوشش کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی۔ انہوں نے یہ بات دہرائی کہ اپنی سرزمین پر دہشت گرد گروپوں کو مالی معاونت کے خلاف سخت کارروائی کرنا تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے۔

برکس کی تنظیم ایک ایسے نظام کی حمایت کرتی ہے جس میں ترقی کے ساتھ گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کرنے کے اقدامات بھی کئے جاتے ہوں۔ وہ توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کی حمایت کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ توانائی تک سبھی کی رسائی ہو۔ برکس کے تمام ممالک پیرس معاہدے کے نفاذ کے پابند عہد ہیں۔ مثبت نتائج کے حصول کے لئے آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کی کلائمٹ ایکشن سمٹ اس سال ستمبر میں ہونے والی ہے۔ برکس اس سربراہ کانفرنس کا بے صبری سے انتظار کررہا ہے۔

اس سال تنظیم کی سربراہ کانفرنس برازیل کے شہر براسیلیا میں ہوگی۔ کانفرنس کا موضوع ہے ‘‘اکونامک گروتھ فار این انو ویٹیو فیوچر’’۔تنظیم یہ تسلیم کرتی ہے کہ جب تک اختراع کی کوشش نہیں کی جائے گی ترقی حاصل کرنا مشکل ہوگی۔ تنظیم نے ابھرتی ٹیکنالوجیوں اور ڈیجیٹلازیشن سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے سے متعلق اپنی عہد بستگی کا اظہار کیا۔

تنظیم کے رہنماؤں نے سائنس و ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں رکن ملکوں کے درمیان جاری تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ