خاشفجی قتل معاملہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹ

مشہور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ سعودی عرب نژاد صحافی جمال خاشقجی کا گزشتہ 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی کونسلیٹ میں قتل ہوا تھا اور ان کی لاش کا کچھ پتہ نہیں چلا تھا چونکہ یہ حقوقِ انسانی اور اظہار رائے کی آزادی پر پڑنے والی ضرب سے جڑا ہوا مسئلہ تھا، اس لئے خاشقجی کا قتل پوری دنیا میں ایک اہم مسئلہ بنا اور چاروں طرف سے اس قتل کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں اور خاطی کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے مطالبے شروع ہوئے۔ لیکن جب کسی معاملے میں کسی نہایت اہم فرد کی شمولیت کا معاملہ ہوتا ہے تو پھر اس کی تصدیق و توثیق کے پیمانے میں کافی تضاد کی کیفیت نظر آنے لگتی ہے۔ علاوہ ازیں عالمی پلیٹ فارم پر بدلتے منظرناموں کا سلسلہ اتنا تیز ہوتا ہے کہ واقعات جو پیچھے ہوجاتے ہیں، ان پر توجہ گھٹتی چلی جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ جمال کاشقجی کے قتل کی واردات کے معاملے میں بھی ہوا اور ا س کے قاتل کے سلسلسے میں تصویر دھندلی پڑتی نظر آنے لگی۔

لیکن اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر اس پورے معاملے کو مرکزی سطح پر لاکر کھڑا کردیا ہے اور ہر طرف سے ایک بار پھر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ شروع ہوگیا ہے۔ سابق میں ترکی کی خفیہ ایجنسیوں اور دوسرے تفتیشی اداروں نے بھی اس قتل کی سازش میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف اشارہ کیا تھا اور اب اقوام متحدہ کے خصوصی تفتیش کار اور تجزیہ کار ایگنس کالا مارڈ نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں بہت وثوق سے یہ بات کہی ہے کہ بے شمار ایسے ثبوت و شواہد موجود ہیں جن کی تردید نہیں کی جاسکتی ہے کہ جمال کاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا راست ہاتھ ہے اور کالا مارڈ نے اس رپورٹ کے ساتھ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انتونیو گُٹریس سے مطالبہ کیا ہے کہ ثبوت و شواہد کی روشنی میں وہ اس سلسلے میں ایک فارمل انٹرنیشنل کرمنل تحقیق کی شروعات کریں۔

واضح ہو کہ ریاض نے پہلے تو س پورے واقعہ سے ہی اپنی ناواقفیت کا اظہار کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے قبول کیا کہ خاشقجی کا قتل، بدمعاش ایجنٹوں کے ہاتھوں ایک تفتیشی کارروائی کے دوران ہوگیا تھا اور اس میں ولی عہد کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے جو اس سلسلے میں تفتیش ہوئی تھی اور جس کو بعد میں غیر اہم بناکر رکھ دیا گیا تھا،اس کے بارے میں اقوام متحدہ کی تجزیہ کار کالا مارڈ کا کہنا ہے کہ وہ تفتیشات عالمی معیار کے مطابق نہیں ہوئی تھیں، اسی وجہ سے ترکی کے دعوؤں کے باوجود محمد بن سلمان کے سلسلے میں کارروائی آگے نہیں بڑھائی گئی۔ یہاں تک کہ ان کے مطابق بے شمار ثبوت و شواہد اور کرائم سین کی تفصیلات تک ادھر ادھر کردی گئیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے آسانی پیدا نہ ہوسکے۔اب جب کہ کالا مارڈ کی اس رپورٹ کے ساتھ بہت ساری ناقابل تردید سچائیاں سامنے آئی ہیں،تو پھر ان کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری سے اگنیس کالا مارڈ نے جو سفارش کی ہے اس کے بہ موجب ثبوت و شواہد کی روشنی میں اس امر کی تحقیق ضروری ہے کہ یہ حتمی طور پر معلوم کیا جائے کہ ولی عہد اس قتل کے سلسلے میں واقف تھے یا نہیں اور اگر تھے تو کس قدر واقف تھے اور انہیں یہ بات تفصیل سے معلوم تھی یا نہیں کہ آخر جمال خاشقجی کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا بلکہ اس سے آگے جاکر یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ خود اس قتل میں شریک تھے یا نہیں اور کیا انہوں نے اس سلسلے میں ہونے والی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی اور جس کی وجہ سے قتل کا یہ اہم معاملہ سرد خانے میں چلا گیا۔


یہ معاملہ صرف ایک سعودی عرب نژاد صحافی جمال کاشقجی کے قتل کا نہیں ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کا قتل صرف اس لئے ہوا کہ وہ حقوق انسانی کی پامالی پر اپنی آواز اٹھاتا تھا اور سعودی شاہی رویوں پر تنقید کرتا تھا بلکہ قتل کے پورے معاملے کو سامنے لانے اور مجرم کی نشاندہی کرنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں اظہار رائے کی آزادی کو مستحکم کرنا اور حقوق انسانی کی پامالی کے خلاف ایک موثر آواز کو معتبر بنانا، وقت کی سب اے اہم ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ