ہند –امریکہ تعلقات: ایک غیرضروری بیان
امریکی وزیرخارجہ جناب مائیکل پومپیو اور ہندوستانی وزیرخارجہ جناب ایس جے شنکر کی حالیہ ملاقات جہاں اس سوچ سےمتحرک تھی کہ دونوں ملکوں کے مابین ایران یا کسی اور موضوع پر غلط فہمیاں نہ پیدا ہوں،وہیں اس ملاقات کے محض ایک روز بعد امریکی صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بیان دیا ہے ،اسے کسی بھی طرح عمدہ ڈپلومیسی کے زمرہ میں نہیں رکھاجاسکتا۔ یہ بیان جاپان کے ایک بڑے اور اہم شہر اوساکا میں جی 20 کی میٹنگ کے آغاز سے ٹھیک پہلے جاری کیا گیا اور وہ بھی تب جبکہ اس میٹنگ کے دوران جناب ٹرمپ اور ہندوستانی وزیراعظم جناب نریندرمودی جمعہ کے روز آمنے سامنے ملاقات کرنے والے تھے۔ رہا سوال جناب ٹرمپ کے بیان کا تو انہوں نے بالخصوص ہارے ڈیوڈسن موٹرسائیکلوں پر ہندوستان میں 100 فی صد محصول لگائے جانے کا ذکر کیا ہے جس کی ہندوستان میں سال بھر میں اوسطاً محض 80 اکائیاں فروخت ہوتی ہیں لیکن دوسری طرف یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ ہندوستانی تمباکو پر امریکہ میں 330 فی صد محصول لگایا جاتا ہے اور اسے کسی بھی طرح مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن ان مخصوص مثالوں کو چھوڑ دیں تو یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہندوستان کے بازار میں امریکی مالوں پر لگنے والا محصول آج بھی کم ہے اور ان سے امریکی صنعت کاروں کو کوئی بیجا نقصان نہیں پہنچتا۔علاوہ اس کے، اگر ہند۔امریکہ تجارت کو ایک اجتماعی تناظر میں دیکھیں تو اہم ترین بات یہ ہے کہ امریکہ اپنی زراعت کی پیداوار کی برآمدگی پر آج بھی، یوروپی یونین کی ہی طرح، بھاری سبسڈی دے رہا ہے جس کے سبب یہ اشیا ہندوستان سمیت تیسری دنیا کے بازاروں میں لاگت سے بھی کم داموں پر بک رہی ہیں اور اس طرح تیسری دنیا کے کسانوں کو بھاری نقصان پہنچارہی ہیں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو دو دہائی سے زیادہ عرصہ سے چلا آرہا ہے اور ایک خاطر خواہ حل کا محتاج ہے جبکہ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) بھی اس طرح کے ایشوز پر اپنے اختیارات کے مناسب استعمال کا ثبوت ہی دے سکتی ہے۔ اسی سے ملتا جلتا ایک معاملہ بھی ابھی حال میں سامنے آیا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کا شعبہ ایک ایسا شعبہ ہے جس سے کرۂ ارض کا مستقبل وابستہ ہے اور اس لئے اس شعبہ میں زور دار تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں ہندوستان نے قابل ذکر ترقی کی ہے لیکن دوسری طرف آٹھ امریکی ریاستوں نے اس شعبہ میں سرگرم اپنی کمپنیوں کیلئے سبسڈی کا جوا ہتمام کر رکھا ہے اس سے ہندوستانی کمپنیوں کو نقصان ہورہا ہے۔ اس سوال کو لے کر ستمبر 2016 میں ہندوستان نے عالمی تجارتی تنظیم کے اس پینل سے رجوع کیا جس کا تعلق تنازعوں کو نمٹانے سے ہے اور ابھی حال میں اس پینل نے جو فیصلہ دیا ہے 8 امریکی ریاستوں کی طرف سے امریکی کمپنیوں کو دی جارہی سبسڈی عالمی تجارت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس کے سبب امریکی بازار میں تیسری دنیا کی کمپنیوں کو غیرمنصفانہ سلوک سے دوچار ہوناپڑتا ہے۔ اس سلسلے میں غورطلب بات یہ بھی ہے کہ ہند۔امریکہ تجارت کو لے کر کچھ اور معاملے بھی عالمی تجارت تنظیم میں زیر غور ہیں۔ مثال کیلئے ہندوستان سے فولاد اور المونیم کی بنی۔بعض اشیا کی درآمدات پر امریکہ نے یک طرفہ طور پر کسٹم ڈیوٹی بڑھا دی ہے اور اس معاملہ پر بھی عالمی تجارت تنظیم میں ہندوستان کی اپیل زیرغور ہے جس پر فیصلہ آنا بھی باقی ہے۔ اس طرح کل ملاکر دیکھیں تو 1995 میں عالمی تجارتی تنظیم کے قیام کے وقت سے ہی عالمی تجارت کے سلسلے میں بہت سے نامناسب رجحانات دیکھنے کو ملتے رہے ہیں جن کا تعلق اس امرسے ہے کہ ترقی یافتہ ملک جہاں ترقی پذیر ملکوں سے اپنے بازار کھولنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، وہیں وہ اپنے یہاں تیسری دنیا سے آنے والی اشیا اور خدمات پر طرح طرح کی مقداری اور غیرمقداری پابندیاں یا ڈیوٹی عائد کرتے ہیں اور اس طرح عالمی تجارت تنظیم کے بنیادی اصول کی، عالمی تجارت میں مساوات کے اصول کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو جناب ڈونلڈ ٹرمپ کا اوساکا میں دیا گیا بیان سرے سے نامناسب اور انصاف ومساوات کے تقاضوں کے برعکس نظرآتا ہے۔
اس درمیان جی 20 چوٹی کانفرنس کے آغاز سے پہلے وہیں اوساکا میں بریکس ملکوں نے جو میٹنگ کی اس میں ہندوستانی وزیراعظم نے مناسب طور پر سوال اٹھایا کہ 1995 سے ہی جو اہم معاملہ لٹکا پڑا ہے اسے حل کرنے کیلئے ترقی یافتہ ملکوں یا عالمی تجارت تنظیم کی طرف سے کوئی قدم آج تک کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ بات یہ ہے کہ جہاں ملکوں کے مابین اشیا کے آزادانہ لین دین میں اچھی خاصی ترقی ہوئی ہے وہیں انسانی قوتِ کی آزدانہ نقل وحمل آج بھی بہت ساری پابندیوں کی گرفت میں ہے۔ لیکن یہ بات بھی ہم سب جانتے ہیں کہ جب تک ملکوں کے مابین قوتِ محنت کی آزدانہ نقل وحمل ممکن نہیں ہوسکتی تب تک وہ بنیادی خواب ادھورےہی رہیں گے جن کو لے کر عالمی تجارت تنظیم قائم کی گئی تھی۔
Comments
Post a Comment