تائیوان اور ساؤتھ چائنا سی کے بارے میں چین کا امریکہ کو انتباہ
چین اور امریکہ کے مابین جاری تجارتی جنگ او ر کشیدگی کے درمیان چینی وزیر دفاع جنرل ویئی فینگے نے امریکہ کو انتہائی سخت لہجہ میں متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ جنگ چاہتا ہے تو چین جنگ کے لیے تیار ہے اور اگر مذاکرات چاہتا ہے تو چین کے دروازے کھلے ہیں۔
چینی وزیرِ دفاع نے سنگا پور میں منعقدہ علاقائی سیکیورٹی کی ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ امریکی بحریہ تائیوان اور جنوبی چین کے سمندر کے پانیوں میں مداخلت سے باز رہے۔چینی وزیر دفاع نے امریکہ کو تائیوان کے معاملے میں مداخلت پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ دنیا بھر کے لیے تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے مزیدکہا ہے کہ اگر کسی نے بھی چین کے تائیوان کے ساتھ معاملے میں مداخلت کی تو چین آخری حد تک جنگ لڑے گا۔
پیپلز لبریشن آرمی کے جنرل کی وردی میں ملبوس جنرل ویئی فینگے نے اپنی تقریر میں کہا کہ 'چین کو تقسیم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی۔ تائیوان کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا انجام بہت برا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ’چین تائیوان کو اپنے لیے ایک مقدس سرزمین قرار دیتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس کو حاصل کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ایشیا میں چینی فوجی کارروائیاں یا تعیناتیاں اس کے صرف اپنے دفاع کے لیے ہیں، تاہم وہ اپنے مفادات پر حملے کی صورت میں کسی بھی جوابی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ ’جب تک اس پر کوئی اور حملہ نہ کرے چین کسی پر حملہ نہیں کرے گا‘۔انھوں نے امریکہ کو کسی بھی تصادم کے سنگین نتائج سے متنبہ کیا اور کہا کہ دونوں فریقوں کو اس بات کا علم ہے کہ دونوں کے درمیان تصادم یا جنگ دونوں ہی کے لیے اور دنیا بھر کے لیے تباہ کن ہوگی۔‘
دنیا کے کئی ممالک کی طرح امریکہ کے تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن وہ تائیوان کا اس خطے میں بڑا حامی ہے اور تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے اسلحہ مہیا کرتا ہے۔گزشتہ روز اسی کانفرنس میں شریک امریکی وزیرِ دفاع پیٹرک شہناہن نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ خطے میں چین کے رویے کو خاموشی کے ساتھ برداشت نہیں کرے گا۔
تجارتی جنگ، امریکہ کی تائیوان کے لیے حمایت اور جنوبی چین کے سمندر کے پانیوں میں چین کی فوجی طاقت میں اضافے کی وجہ سے چین اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی حالیہ دنوں کافی بڑھ گئی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس وقت زیادہ کشیدہ ہوگئے جب امریکہ نے چین پر اقتصادی پالیسیوں میں تبدیلی کے وعدے سے انحراف کا الزام عائد کیا اور چین نے جواباً کہا تھا کہ یہ امریکہ کا ایک غیر ذمہ دارانہ الزام ہے۔اس کے بعد امریکہ نے چین کی 200 ارب ڈالرز کی مالیت کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیکس نافذ کردیا۔
دنیا کی ان دو بڑی طاقتو ں کے درمیان رسہ کشی پوری عالمی برادری کے لئے تشویش کا باعث ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ چین اور امریکا کے مابین تجارتی جنگ سے دنیا میں غربت میں اضافہ ہوگا اور دنیا رہنے کے لیے خطرناک جگہ بن جائے گی۔عالمی مالیاتی فنڈ کے چیف اکنامسٹ نے کہا ہے کہ تجارت پر پابندی سے مقامی اور بین الاقوامی معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا، گھریلو صنعتیں بند اور اشیائے صرف لوگوں کی پہنچ سے دور ہوجائیں گی۔ یہ انتہائی ہولناک منظر ہوگا۔
امریکہ اور چین کے درمیان اس کشیدگی کا آغاز گزشتہ سال اپریل میں اُس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے املاکِ دانش کی چوری کا الزام لگاکر چینی مصنوعات کی درآمد پر 50 ارب ڈالر کے اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کردیا۔
انتخابی تقریروں میں ان کا یہ جملہ صنعتی مزدوروں میں بہت مقبول ہوا کہ ”آزاد تجارت کی آڑ میں چین ہماری صنعت کی عصمت دری کررہا ہے۔“
صدر ٹرمپ کے موقف میں وزن تو ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آبادی کے اعتبار سے امریکہ دنیا کے 5 فیصد سے بھی کم ہے، تاہم توانائی سمیت دنیا کے چوتھائی سے زیادہ وسائل امریکی ڈکار رہے ہیں۔ چینیوں کو امریکہ کی اس کمزوری کا اچھی طرح اندازہ ہے۔چینیوں کویہ بھی معلوم ہے کہ چند ماہ بعد انتخابی مہم کے عروج پر پہنچتے ہی صدر ٹرمپ خود اپنی پارٹی کی جانب سے سخت دباؤ میں آجائیں گے۔ چنانچہ بیجنگ صدر ٹرمپ کی جانب سے محصولات کے جواب میں بھرپور جوابی حملے کے بجائے مچھلی، گوشت، دودھ اور زرعی اجناس پر ڈیوٹی میں اضافے اور دوسری پابندیوں کے ذریعے ری پبلکن پارٹی کو فکر میں مبتلا کررہا ہے۔ اسی کے ساتھ بازارِ حصص میں عدم استحکام سے سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔
لیکن دو گینڈوں کی لڑائی میں گھاس بری طرح مسلی جارہی ہے۔ ماہرین خطرہ ظاہر کررہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی سکڑ سکتے ہیں اور مستقبل قریب میں دنیا خوفناک کساد بازاری میں گرفتار ہوسکتی ہے۔
Comments
Post a Comment