پاکستانی فوج کا بجٹ میں تخفیف کرنے کا منصوبہ
شاید پہلی بار یہ سننے میں آرہا ہے کہ پاکستانی فوج نے ایک سال کے لئے اپنے اخراجات میں تخفیف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ دفاعی اخراجات میں تخفیف کرنے سے جو رقم پس انداز کی جائے گی وہ قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پاکستان کے دفاعی اخراجات کا معاملہ یہ رہا ہے کہ قومی آمدنی کی ایک بہت بڑی رقم اس مد کے لئے مخصوص کی جاتی ہے جس پر کسی کو سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی اور عام طور پر اس پر بحث بھی نہیں ہوتی گویا ایک طرح سے اندرون پاکستان دفاع کے شعبہ کے لئے مخصوص کئے جانے والے سرمائے کو کسی طرح کے احتساب یا سوال وجواب سے بالاتر تصور کیا جاتا ہے اور اگر کوئی سوال کرنے کی جرأت بھی کرتا ہے تو اسے پاکستان کی سیکوریٹی کے لئے خطرہ اور ملک کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ بیشتر مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی اقتصادی بدحالی کی ایک بہت بڑی وجہ یہی رہی ہے کہ فوجی بجٹ اتنا زبردست ہوتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور پروجیکٹ پر خاطر خواہ توجہ صرف نہیں ہوپاتی۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ 2018 میں پاکستان دنیا کے ان 20 سب سے بڑے ملکوں میں شامل تھا جنہوں نے سب سے زیادہ رقم دفاعی اخراجات کے لئے مختص کی تھی۔ یہ رقم 11.4 بلین ڈالر کے بقدر تھی۔ 2018 میں فوج پر جو رقم خرچ ہوئی وہ پاکستان کی مجموعی گھریلو پیداوار کے چار فیصد حصہ کا احاطہ کرتی تھی۔ 2004 کے بعد یہ سب سے اونچی سطح تھی۔ دنیا میں اپنی فوج پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والا ملک امریکہ ہے جس نے گزشتہ سال 649 بلین ڈالر کی رقم مختص کی تھی۔ گزشتہ ایک دہائی کے عرصہ میں اس نے اپنے دفاعی اخراجات میں 17فیصد کی تخفیف کی ہے۔
بہرحال، موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج نے ایک سال کیلئے اپنے بجٹ میں تخفیف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑی اور انوکھی بات تصور کی جارہی ہے۔ اس کا مقصد یہ بتایا جارہا ہے کہ فوج، سویلین حکومت کے ساتھ اس بات کے لئے تعاون کرنا چاہتی ہے کہ وہ موجودہ اقتصادی بحران پر کچھ قابو پاسکے۔ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائرکٹرجنرل، میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں یہ کہا ہے کہ دفاعی بجٹ میں یہ تخفیف رضاکارانہ طور پر کی جارہی ہے اور ایسا ایک سال کے لئے کیا جارہا ہے۔ ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے دفاع اور سیکوریٹی کے معاملات متاثر نہیں ہونگے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں وضاحت کی کہ یہ تخفیف کس حد تک ہوگی۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے فوج کی اس بات کے لئے ستائش کی ہے کہ اس نے ازخود رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ میں تخفیف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے فوج کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ فوج کے شکرگزار ہیں کہ بہت سارے چیلنجز کے باوجود اس نے یہ قدم اٹھایا۔ یہ رقم نئے انضمام شدہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے ترقیاتی کاموں پر استعمال ہوگی۔
پاکستان اس وقت جس اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اس میں اس طرح کے اقدامات واقعی کسی حد تک راحت کا سامان فراہم کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں آج کل سیاسی سطح پر یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ چونکہ عمران خان کی حکومت پر چاروں طرف سے تنقید ہورہی ہے کہ وہ اقتصادی بحران کو دور کرنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔ خاص طور سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ہونے والے حالیہ سمجھوتے کے باعث عام لوگوں کی مشکلات مزید بڑھنے والی ہیں، لہٰذا فوج نے یہی مناسب سمجھا کہ کسی طور پر عمران خان پر ایک طرح کا احسان جتائے تاکہ وہ اس کے احسان تلے دبے رہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال کے عام انتخابات میں فوج نے مبینہ طور پر عمران خان کے حق میں فضا ہموار کی تھی اور انہیں برسراقتدار لانے میں اسی نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ شاید اسی لئے پاکستانی فوج نے اپنی سخاوت کا ثبوت دیا اور اپنے بجٹ میں تخفیف کا اعلان کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ ہرحال میں انہیں اقتدار میں رکھنا چاہتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر واقعی فوج کو پاکستانی معیشت کو بہتر بنانے کی اتنی ہی فکر ہوتی تو وہ ایسا قدم پہلے بھی کچھ اٹھاسکتی تھی۔ تاہم اسے ایک اچھا قدم ہی مانا جائے گا۔ لیکن صرف ایک سال کے لئے دفاعی بجٹ میں تخفیف کا فیصلہ محض ایک علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر واقعی پاکستانی معیشت کو مستحکم بنانا ہے تو اس کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پڑے گی۔ علامتی یا عارضی نوعیت کے فیصلوں سے عدم توازن کو دور نہیں کیا جاسکتا۔
بہرحال، موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج نے ایک سال کیلئے اپنے بجٹ میں تخفیف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑی اور انوکھی بات تصور کی جارہی ہے۔ اس کا مقصد یہ بتایا جارہا ہے کہ فوج، سویلین حکومت کے ساتھ اس بات کے لئے تعاون کرنا چاہتی ہے کہ وہ موجودہ اقتصادی بحران پر کچھ قابو پاسکے۔ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائرکٹرجنرل، میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں یہ کہا ہے کہ دفاعی بجٹ میں یہ تخفیف رضاکارانہ طور پر کی جارہی ہے اور ایسا ایک سال کے لئے کیا جارہا ہے۔ ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے دفاع اور سیکوریٹی کے معاملات متاثر نہیں ہونگے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں وضاحت کی کہ یہ تخفیف کس حد تک ہوگی۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے فوج کی اس بات کے لئے ستائش کی ہے کہ اس نے ازخود رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ میں تخفیف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے فوج کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ فوج کے شکرگزار ہیں کہ بہت سارے چیلنجز کے باوجود اس نے یہ قدم اٹھایا۔ یہ رقم نئے انضمام شدہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے ترقیاتی کاموں پر استعمال ہوگی۔
پاکستان اس وقت جس اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے اس میں اس طرح کے اقدامات واقعی کسی حد تک راحت کا سامان فراہم کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں آج کل سیاسی سطح پر یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ چونکہ عمران خان کی حکومت پر چاروں طرف سے تنقید ہورہی ہے کہ وہ اقتصادی بحران کو دور کرنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے۔ خاص طور سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ہونے والے حالیہ سمجھوتے کے باعث عام لوگوں کی مشکلات مزید بڑھنے والی ہیں، لہٰذا فوج نے یہی مناسب سمجھا کہ کسی طور پر عمران خان پر ایک طرح کا احسان جتائے تاکہ وہ اس کے احسان تلے دبے رہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال کے عام انتخابات میں فوج نے مبینہ طور پر عمران خان کے حق میں فضا ہموار کی تھی اور انہیں برسراقتدار لانے میں اسی نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ شاید اسی لئے پاکستانی فوج نے اپنی سخاوت کا ثبوت دیا اور اپنے بجٹ میں تخفیف کا اعلان کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ ہرحال میں انہیں اقتدار میں رکھنا چاہتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر واقعی فوج کو پاکستانی معیشت کو بہتر بنانے کی اتنی ہی فکر ہوتی تو وہ ایسا قدم پہلے بھی کچھ اٹھاسکتی تھی۔ تاہم اسے ایک اچھا قدم ہی مانا جائے گا۔ لیکن صرف ایک سال کے لئے دفاعی بجٹ میں تخفیف کا فیصلہ محض ایک علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر واقعی پاکستانی معیشت کو مستحکم بنانا ہے تو اس کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پڑے گی۔ علامتی یا عارضی نوعیت کے فیصلوں سے عدم توازن کو دور نہیں کیا جاسکتا۔
Comments
Post a Comment