موضوع: عمران خان کو بشکیک سے ملنے والا پیغام
وزیراعظم پاکستان عمران خان اس وقت گھریلو سیاست میں کئی طرح کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی بدتر ہوتی ہوئی اقتصادی صورت حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان سے پہلے کے حکمرانوں نے صرف اور صرف کرپشن اور مالی بدعنوانیوں کو فروغ دیا اور ملک کے سرمائے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ بدعنوان سیاست دانوں سے ناجائز طور پر حاصل کئے گئے سرمائے کو چھین کر واپس لائیں گے۔ ممکن ہے ان کے اس طرح کے دعوے کلی یا جزوی طور پر درست بھی ثابت ہوں۔ بہرحال متعدد اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے اور کرپشن کے الزام میں مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں کچھ اور اہم واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ مثلاً عدلیہ اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کا ایک نیا ماحول دیکھنے میں آرہا ہے ۔ سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس فائز عیسیٰ کو فوج نے ایک سبق سکھانے کا بیڑا اٹھایا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ایک حالیہ فیصلہ میں فوج اور ایجنسیوں کو غیرآئینی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور سیاسی امور میں بے حد مداخلت کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ فوج نے عمران حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشیل کونسل میں ایک ریفرینس داخل کرے۔ دوسری طرف عمران حکومت اور فوج دونوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ تمام معاملات میں اہم خیال یعنی انگریزی محاورے کے مطابق ایک ہی پیج پر ہیں۔ شاید یہ بات عمران خان اپنے لیے باعث افتخار سمجھ رہے ہیں لیکن پاکستان میں سول اور ملٹری رشتوں کے تناظر میں بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات مضحکہ خیز بھی ہے۔ عمران خان نے قومی ترقیاتی کونسل میں آرمی چیف کو بھی ایک رکن بناکر ایک نئی پہل کی ہے اور اقتصادی معاملات میں بھی فوج کے رول کو نمایاں جگہ دی ہے۔ یہ تمام باتیں پاکستان کے اندرونی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں اور آنے والے وقتوں میں عمران خان کو ان تمام امور سے نمٹنا ہے۔ لیکن بین الاقوامی پیمانے پر بھی آنے والے وقتوں میں متعدد معاملات کا سامنا اسی حکومت کو کرنا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان، دہشت گردی کے سوال پر لگاتار عالمی برادری سے کٹتاجارہا ہے۔ اس کی وجہ صرف بعض پڑوسی ملکوں یا عالمی برادری کی شکایت نہیں بلکہ خود اس کے کارنامے بھی ہیں۔ پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے تعاون یا سرپرستی سے ہندوستان اور افغانستان میں دہشت گردی کا جو سلسلہ چل رہا تھا وہ اب بھی رکا نہیں ہے۔ جموں وکشمیر میں سکیورٹی فورسز اور ان کے کیمپوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے جواب میں اب ہندوستان کی طرف سے کارروائیاں ہونے لگی ہیں جن کی شاید انہیں امید نہیں تھی ۔ بہر حال ہندوستان سے یہ واضح پیغام دے دیا گیا کہ اب تحمل کا دور رخصت ہو گیا۔ ابھی چند ہی روز قبل عمران خان شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے کرغستان کی راجدھانی بشکیک گئے تھے ۔ ہندوستان کی طرح پاکستان بھی اس تنظیم کا ایک رکن ہے۔ اس کانفرنس کے اختتام پر شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن میں شامل تمام ممالک کے سربراہان حکومت کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا اس میں ایک خاص حصہ دہشت گردی کے بارے میں بھی تھا۔ نہ صرف یہ کہ ہر شکل میں فروغ دی جانے والی دہشت گردی کی سخت لفظوں میں مذمت کی گئی بلکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اس تنظیم کے ممبران اس بات کی کوشش کریں گے کہ بین الاقوامی پیمانے پر دہشت گردی سے لڑنے کے لئے ایک جامع معاہدہ تیار کرنے کے لئے اتفاق رائے قائم کیا جائے ۔ یہ کہنے کی تو ضرورت ہی باقی نہیں رہی کہ اس تنظیم کا سربراہ اس وقت چین ہے جو پاکستان کا ‘‘سدابہار دوست ’’بھی ہے ۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابھی کچھ ہی دن قبل مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہےکیونکہ چین نے بھی بالآخر اس تجویز سے اتفاق کرلیا۔
ادھرفائنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے گذشتہ دنوں اس بات کا اعلان کیا کہ پاکستان کو جیش محمد لشکر طیبہ اور ان سے وابستہ دوسرے دہشت گرد اداروں کی فنڈنگ پر روک لگانے کے لئے جن 27 اقدامات کے لئے کہا گیا تھا ان میں سے 25 کا نشانہ پورا کرنے میں پاکستان ناکام رہا ۔ تو آنے والے دنوں میں گھریلو معاملات کے ساتھ ساتھ ان تمام باتوں سے بھی عمران حکومت کو نمٹنا ہے۔ اس وقت حکومت اور فوج دونوں میں اتفاق رائے ہے۔ دیکھنا ہے اس اتفاقِ رائے کی تہہ سے کیا نکلتا ہے۔
Comments
Post a Comment