موضوع : ہندوستان کو پیرس میں جی-7 سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نامہ
وزیراعظم نریندرمودی جنوبی فرانس میں بائرز کے مقام پر گروپ -7 کی اس سال 24 سے 26 اگست کے درمیان ہونے والی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ فرانس کے صدر ایمینول میکرون نے آسٹریلیا، چلی اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ہندوستان کو بھی ایک خصوصی مہمان کے طور پرمدعو کیا ہے۔ جی-7 عام طورپر عالمی برادری کے اہم رہنماؤں کو سربراہ کانفرنس کے دوران دنیا کے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے مدعو کرتا ہے۔
فرانس کی جانب سے یہ دعوت نامہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہندوستان دنیا میں ایک مضبوط معاشی اور سیاسی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ یہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان نہ صرف اسٹریٹجک شراکت داری پروان چڑھ رہی ہے بلکہ وزیراعظم نریندرمودی اور صدر میکرون کے درمیان ذاتی تعلقات بھی بہت اچھے ہیں۔
دعوت نامہ ارسال کرتے ہوئے صدر میکرون نے عالم گیریت کو فروغ دینے اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے میں ہندوستان کے کلیدی کردار کا ذکر کیا۔ قابل ذکر ہے کہ 2015 میں پیرس میں ہونے والی سی او پی -21 کی میٹنگ کے موقع پر جناب مودی اور اس وقت کے فرانسیسی صدر فرینکوا ہولانڈے نے مشترکہ طور پر بین الاقوامی شمسی اتحاد کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد جون 2017 میں ہندوستانی وزیراعظم سینٹ پیٹرس برگ میں بین الاقوامی معاشی فورم میں شرکت کے بعد جناب میکرون کو فرانس کا صدر منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد دینے کے لیے سیدھے پیرس گئے۔ پیرس کا یہ دورہ صدر ڈونل ٹرمپ کے امریکہ کو پیرس معاہدے سے الگ کرنے کے اعلان کے کافی دنوں بعد کیا گیا۔ اس وقت جناب مودی اور صدر میکرون دونوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ دونوں پیرس معاہدے کے پابند رہیں گے۔ مارچ 2018 میں صدر میکرون کے ہندوستان دورے کے دوران بین الاقوامی شمسی اتحاد کو تقویت دینے کے لیے اس کی ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
عالمگیریت اور آب وہوا کی تبدیلی کے علاوہ دہشت گردی کے مسئلہ پر بھی وزیراعظم نریندرمودی اور صدر میکرون کے خیالات ایک جیسے ہیں۔ بھارت اور فرانس دونوں ہی دہشت گردی کا شکار ہیں۔دونوں ممالک دہشت گردی کو ذرہ برابر بھی برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور اس لعنت کو شکست دینے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کررہے ہیں۔ اس ماہ کی 8 تاریخ کو مالدیپ کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ فرانس نے جناب مودی کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔
سات ملکوں کے گروپ میں کناڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ترقی یافتہ کہلاتے ہیں جن کی معیشت کافی مضبوط ہے۔ جی-7 کی سربراہ کانفرنس میں یوروپی یونین کی بھی نمائندگی ہوتی ہے۔ 1975 میں فرانس نے جی-6 کی شروعات کی تھی لیکن اگلے سال اس میں کناڈا کو بھی شامل کرلیا گیا، اس طرح یہ سات ملکوں کا گروپ بن گیا۔ 1997 میں روس کو بھی گروپ میں شامل کرلیاگیا اس طرح یہ آٹھ ملکوں کا گروپ ہوگیا لیکن 2014 میں کریمیا کو اپنی عملداری میں لینے کے باعث اسے گروپ سے باہر کردیا گیا۔
اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ گروپ نہ صرف عالمی معاشی واقتصادی ترقی پر تبادلہ خیال کرتا رہا ہے بلکہ عالمی معیشت و تجارت کے فروغ کیلئے فیصلے بھی کرتا رہا ہے۔ معیشت، سلامتی اور توانائی سے متعلق پالیسیوں میں تال میل پیدا کرنے کیلئے جی۔7 ایک اہم فورم ہے۔ تاہم اس کی افادیت پر اس وقت سوال کھڑا ہوگیا جب 1999 میں جی۔ 20 کا قیام عمل میں آیا۔ شروع میں جی۔20 کے سال میں دوبار اجلاس ہوا کرتے تھے لیکن بعد میں سال میں صرف ایک بار اس کی میٹنگیں ہونے لگیں۔ ان تمام میٹنگوں میں ہندوستان نے باقاعدہ شرکت کی ہے۔ اس کی آئندہ میٹنگ اس سال 28 سے 29 جون کے درمیان جاپان کے شہر اوساکا میں ہوگی جس میں وزیراعظم نریندر مودی شرکت کریں گے۔ جناب مودی کی جی۔7 سربراہ کانفرنس میں شرکت سے ہندوستان کی اپنے مغربی سرحدوں سے کی جارہی دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں کو کافی تقویت ملے گی۔ اس کے علاوہ کثیر ملکی متوازن تجارتی نظام کو فروغ دینے اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کے اس کے اقدامات کو بھی کافی تقویت حاصل ہوگی۔
فرانس کی جانب سے یہ دعوت نامہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہندوستان دنیا میں ایک مضبوط معاشی اور سیاسی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ یہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ ہندوستان اور فرانس کے درمیان نہ صرف اسٹریٹجک شراکت داری پروان چڑھ رہی ہے بلکہ وزیراعظم نریندرمودی اور صدر میکرون کے درمیان ذاتی تعلقات بھی بہت اچھے ہیں۔
دعوت نامہ ارسال کرتے ہوئے صدر میکرون نے عالم گیریت کو فروغ دینے اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے میں ہندوستان کے کلیدی کردار کا ذکر کیا۔ قابل ذکر ہے کہ 2015 میں پیرس میں ہونے والی سی او پی -21 کی میٹنگ کے موقع پر جناب مودی اور اس وقت کے فرانسیسی صدر فرینکوا ہولانڈے نے مشترکہ طور پر بین الاقوامی شمسی اتحاد کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد جون 2017 میں ہندوستانی وزیراعظم سینٹ پیٹرس برگ میں بین الاقوامی معاشی فورم میں شرکت کے بعد جناب میکرون کو فرانس کا صدر منتخب ہونے پر انہیں مبارکباد دینے کے لیے سیدھے پیرس گئے۔ پیرس کا یہ دورہ صدر ڈونل ٹرمپ کے امریکہ کو پیرس معاہدے سے الگ کرنے کے اعلان کے کافی دنوں بعد کیا گیا۔ اس وقت جناب مودی اور صدر میکرون دونوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ دونوں پیرس معاہدے کے پابند رہیں گے۔ مارچ 2018 میں صدر میکرون کے ہندوستان دورے کے دوران بین الاقوامی شمسی اتحاد کو تقویت دینے کے لیے اس کی ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
عالمگیریت اور آب وہوا کی تبدیلی کے علاوہ دہشت گردی کے مسئلہ پر بھی وزیراعظم نریندرمودی اور صدر میکرون کے خیالات ایک جیسے ہیں۔ بھارت اور فرانس دونوں ہی دہشت گردی کا شکار ہیں۔دونوں ممالک دہشت گردی کو ذرہ برابر بھی برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور اس لعنت کو شکست دینے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کررہے ہیں۔ اس ماہ کی 8 تاریخ کو مالدیپ کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ فرانس نے جناب مودی کے اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔
سات ملکوں کے گروپ میں کناڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ترقی یافتہ کہلاتے ہیں جن کی معیشت کافی مضبوط ہے۔ جی-7 کی سربراہ کانفرنس میں یوروپی یونین کی بھی نمائندگی ہوتی ہے۔ 1975 میں فرانس نے جی-6 کی شروعات کی تھی لیکن اگلے سال اس میں کناڈا کو بھی شامل کرلیا گیا، اس طرح یہ سات ملکوں کا گروپ بن گیا۔ 1997 میں روس کو بھی گروپ میں شامل کرلیاگیا اس طرح یہ آٹھ ملکوں کا گروپ ہوگیا لیکن 2014 میں کریمیا کو اپنی عملداری میں لینے کے باعث اسے گروپ سے باہر کردیا گیا۔
اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ گروپ نہ صرف عالمی معاشی واقتصادی ترقی پر تبادلہ خیال کرتا رہا ہے بلکہ عالمی معیشت و تجارت کے فروغ کیلئے فیصلے بھی کرتا رہا ہے۔ معیشت، سلامتی اور توانائی سے متعلق پالیسیوں میں تال میل پیدا کرنے کیلئے جی۔7 ایک اہم فورم ہے۔ تاہم اس کی افادیت پر اس وقت سوال کھڑا ہوگیا جب 1999 میں جی۔ 20 کا قیام عمل میں آیا۔ شروع میں جی۔20 کے سال میں دوبار اجلاس ہوا کرتے تھے لیکن بعد میں سال میں صرف ایک بار اس کی میٹنگیں ہونے لگیں۔ ان تمام میٹنگوں میں ہندوستان نے باقاعدہ شرکت کی ہے۔ اس کی آئندہ میٹنگ اس سال 28 سے 29 جون کے درمیان جاپان کے شہر اوساکا میں ہوگی جس میں وزیراعظم نریندر مودی شرکت کریں گے۔ جناب مودی کی جی۔7 سربراہ کانفرنس میں شرکت سے ہندوستان کی اپنے مغربی سرحدوں سے کی جارہی دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں کو کافی تقویت ملے گی۔ اس کے علاوہ کثیر ملکی متوازن تجارتی نظام کو فروغ دینے اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کے اس کے اقدامات کو بھی کافی تقویت حاصل ہوگی۔
Comments
Post a Comment