موضوع : ہندوستان خطہ میں امن اور خوشحالی کی تلاش میں
ہندوستان آبادی اور رقبے کے اعتبار سے جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہے اوراگر معیشت کی بات کی جائے تو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے ۔ اس کی کوشش ہے کہ یہ پورا خطہ امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔کم و بیش تین دہائی قبل جنوب ایشیائی ممالک کی ایک علاقائی تنظیم قائم ہوئی تھی جس میں ہندوستان پاکستان ،بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال،بھوٹان اور مالدیپ شامل تھے۔بعد میں افغانستان کو بھی شامل کر لیا گیا اور اس طرح اس تنظیم کے کل آٹھ ممالک رکن بنے ۔ اس تنظیم سے بہت امیدیں وابستہ تھیں اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اس خطے کے یہ ممالک اگر آپس میں اشتراک و تعاون کریں گے تو علاقے میں ترقی اور خوشحالی کا ایک ایسا ماحول قائم ہوگا جس سے تمام ممالک یکساں طور پر فیضیاب ہوں گے لیکن بد قسمتی سے اس تنظیم نے اتنے لمبے عرصے بعد بھی کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کی۔ اکثر ہندوستان اور پاکستان کے کشیدہ رشتے رکاوٹ بن جاتے ہیں اور اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے مسلسل دہشت گردی کو فروغ دیا جاتا رہا جس کے باعث نہ صرف ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں لگا تار گراوٹ آتی رہی بلکہ علاقے کے لئے اجتماعی ترقی کے لئے بنائے جانے والے منصوبوں میں بھی رخنہ پڑتا رہا ۔گزشتہ تین چار برسوں سے ہند -پاک رشتوں میں آنے والی کشیدگی کے باعث اس کی کانفرنس بھی نہیں ہوئی اور تعطل کی فضا اب بھی بر قرار ہے۔لیکن ترقی کی رفتار کو ایک جگہ روکا تو نہیں جا سکتا۔ علاقے کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی کے لئے دوسرے متبادل کی تلاش بھی جاری رہی۔ چنانچہ فیصلہ یہ کیا گیا کہ خلیج بنگال سے جڑے ہوئے ملکوں میں جن کے درمیان آسانی سے کنکٹوٹی پیدا کی جا سکتی ہے۔آپسی اشتراک و تعاون کو فروغ دیا جائے۔ اسے بمسٹیک کا نام دیا گیا ہے اور اس میں بنگلہ دیش ،ہندوستان،میانمار،سری لنکا،تھائی لینڈ،نیپال اور بھوٹان شامل ہیں۔ ان میں بیشتر ممالک وہ ہیں جو سارک کے بھی رکن ہیں لیکن جنوب مشرقی ایشیا کے میانمار اور تھائی لینڈ بھی شامل ہیں۔
صرف پاکستان کی دہشت گردی سے متعلق مخصوص حکمت عملی کے باعث پورے جنوبی ایشیا کے ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے کاموں میں رخنے پڑ رہے ہیں اور سارک تنطیم تعطل کا شکار بنی ہوئی ہے۔ لیکن کوششیں جاری ہیں تاکہ ترقیاتی سر گرمیوں اور پیش رفت کا فائدہ زیادہ سے زیادہ ممالک اٹھا سکیں۔ وزیراعظم مودی نے اپنی تقریب حلف برداری میں بمسٹیک ممالک کےسر براہان حکومت کو مدعو کیا تھا۔ دوبارہ حکومت کا کارو بار سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے مالدیپ اور سری لنکا کا دورہ کیا۔ ان دونوں دوروں کے لئے وہ ایک ساتھ سفر پر نکلے تھے اور سری لنکا کا دورہ مکمل کرکے وہ وطن واپس لوٹ آئے۔مالدیپ میں کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ہندوستان نے مالدیپ کی ترقی اور خوشحالی کے کاموں میں اپنی طرف سے بھر پور تعاون اور اشتراک دینے کا یقین دلایا۔ اور یہ بھی یقین دلایا کہ اس خطے کو کمزور یا ڈانوا ڈول کرنے کی ہر کوشش کو نا کام بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے دہشت گردی سے پیدا شدہ حالات کا بطورخاص ذکر کیا اور کہا کہ دائمی امن کے لئے اس لعنت کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔
وزیر اعظم کے دورے کا آخری مرحلہ سری لنکا میں ختم ہوا۔ مئی کے مہینہ میں وہاں کے گرجا گھروں اور مہنگے ہوٹلوں پر زبر دست دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اپنے دورے کے درمیان وزیر اعظم نے نہ صرف سری لنکا کے تئیں اظہار یکجہتی کیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی تائید اور حمایت کا یقین دلایا اور ہر سطح پر تعاون کرنے کے عزم کا بھی مظاہرہ کیا۔ سری لنکا پر ہونے والے حملے کے بعد اس ملک میں قدم رکھنے والے کسی پہلے غیر ملکی رہنما کا یہ دورہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مصیبت کی گھڑی میں ہندوستان پورے طور پر سری لنکا کے ساتھ کھڑا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور امن کی راہ میں اس وقت دہشت گردی سب سے بڑی لعنت کے طور پر ہمارے سامنے ہے اور اس کا مقابلہ بھی مشترکہ کوششوں سے کیا جانا چاہئے۔ غرضیکہ وزیر اعظم مودی کے دورۂ مالدیپ اور سری لنکا سے نہ صرف آپسی اعتماد اور یقین بحال ہوا ہے بلکہ متعلقہ ممالک میں امن و استحکام اور خوشحالی کے حوالے سے نئے عزائم اور نئے ولولے بھی جاگے ہیں۔
Comments
Post a Comment