موضوع : جیش اور لشکرطیبہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ایف اے ٹی ایف کا مطالبہ
گزشتہ سال جون میں دہشت گردوں کی فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے کثیر قومی ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کرلیا کیونکہ اس معاملے میں پاکستان کا رکارڈ اچھا نہیں تھا۔ اس نے ایسے قدم اٹھائے ہی نہیں جن کے تحت پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کی فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر روک لگ سکے۔ پاکستان کو یہ وارننگ بھی مل چکی تھی کہ اگر اب بھی اس کی جانب سے مؤثر کارروائیاں نہ کی گئیں تو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ مرحلہ آتا ہے تو پاکستان کی پریشانیاں اتنی بڑھ سکتی ہیں کہ اس کی معیشت پر اس کا بہت ہی ناخوشگوار اثر مرتب ہوسکتا ہے۔ بہرحال ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ نے پاکستان کو اطلاع دی ہے کہ اس کے جائزے کے مطابق پاکستان نے اس سلسلے میں ابھی تک جو کیا ہے وہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ خاص طور سے لشکرطیبہ اور جیش محمد سمیت آٹھ ممنوعہ تنظیمیں ایسی ہیں جن کے خلاف اب تک مؤثر قدم نہیں اٹھائے جاسکے ہیں۔ اپنی جائزہ رپورٹ میں ایشیا پیسیفک گروپ نے بطور خاص پاکستان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ داعش، القاعدہ، جماعت الدعوۃ ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، لشکرطیبہ، جیش محمد، حقانی نیٹ ورک اور طالبان سے جڑے عناصر کی منی لانڈرنگ اور فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان سے کہا گیا کہ ستمبر کے مہینہ تک وہ ان ہدایات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس وقت تک کوئی قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے اور اگر اس وقت تک یہ محسوس کیا گیا کہ پاکستان مؤثر قدم نہ اٹھا سکا تو اس کے بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کو جس رپورٹ سے آگاہ کیا گیا ہے وہ گزشتہ مہینہ کی ایشیا پیسیفک گروپ کے مشترکہ گروپ کی میٹنگ میں تیار کی گئی تھی۔ اس میٹنگ میں پاکستان نے اپنا Case پیش کیا تھا اور یہ تفصیل بتائی تھی کہ اس نے ایف اے ٹی ایف کی ہدایات کے مطابق کیا کیا قدم اٹھائے ہیں۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ ایشیا پیسیفک گروپ کی جانب سے اپنی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد، جس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا ہے، اب وہ ایف اے ٹی ایف کو کیا جواب دیتا ہے اور ایف اے ٹی ایف اس سے کس حد تک مطمئن ہوتا ہے۔ خود پاکستانی حکام کو یہ اندیشہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حالات ایسے بنیں کہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف کی پیلنری اور ورکنگ گروپ کی میٹنگ 16 سے 21 جون تک اورلینڈو میں منعقد ہونے والی ہے اور اسی میں کچھ تجاویز پیش کی جاسکتی ہیں۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر آنے کے لئے ایف اے ٹی ایف کے 36 ووٹنگ ممبرز میں سے کم از کم 15 ممبرز کی حمایت درکار ہوگی۔ اور اگر وہ بلیک لسٹ سے بچنا چاہے گاتو اسے کم از کم تین مزید ممبران کی حمایت کی ضرورت پیش آئے گی۔ اورلینڈو میں ایف اے ٹی ایف کی پلینری میٹنگ ہوگی، اسی میں پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگرچہ رسمی طور پر اس کا اعلان ایف اے ٹی ایف کی اگلی پلینری میٹنگ میں ہوگا جو پیرس میں 18 اور 23 اکتوبر کے دوران منعقد ہوگی۔
حالیہ دنوں میں جو جائزہ رپورٹ پیش کی گئی، وہ اس اعتبار سے بڑی اہم تھی کہ فروری میں ایف اے ٹی ایف نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ جنوری 2019 کے لئے جو نشانہ طے کیا گیا تھا اس کے پیش نظر یہ محسوس کیا گیا کہ پاکستان کو تیزی سے اپنے ایکشن پلان کا نشانہ پورا کرنا ہے، خاص طور سے اس نشانے کو پورا کرنا ہے جو مئی 2019 تک کے لئے طے کیا گیا تھا۔ اگر خدا نخواستہ طے شدہ نشانہ پورا نہ کیا جاسکا تو پاکستان کے لئے جہاں کئی طرح کی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں وہیں دیگر پریشانیوں کے علاوہ مالی اعتبار سے اس کی مشکلات زیادہ بڑھ جائیں گی اور اس کا اثر اس چھ بلین ڈالر کے اس پیکیج پر بھی پڑے گا جس کے سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف پہلے ہی پاکستان سے کہہ چکا ہے کہ اسے دہشت گردوں کی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں ایف اے ٹی ایف سے کلیرنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
پاکستان کو جس رپورٹ سے آگاہ کیا گیا ہے وہ گزشتہ مہینہ کی ایشیا پیسیفک گروپ کے مشترکہ گروپ کی میٹنگ میں تیار کی گئی تھی۔ اس میٹنگ میں پاکستان نے اپنا Case پیش کیا تھا اور یہ تفصیل بتائی تھی کہ اس نے ایف اے ٹی ایف کی ہدایات کے مطابق کیا کیا قدم اٹھائے ہیں۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ ایشیا پیسیفک گروپ کی جانب سے اپنی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد، جس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان نے ابھی تک خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا ہے، اب وہ ایف اے ٹی ایف کو کیا جواب دیتا ہے اور ایف اے ٹی ایف اس سے کس حد تک مطمئن ہوتا ہے۔ خود پاکستانی حکام کو یہ اندیشہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حالات ایسے بنیں کہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف کی پیلنری اور ورکنگ گروپ کی میٹنگ 16 سے 21 جون تک اورلینڈو میں منعقد ہونے والی ہے اور اسی میں کچھ تجاویز پیش کی جاسکتی ہیں۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر آنے کے لئے ایف اے ٹی ایف کے 36 ووٹنگ ممبرز میں سے کم از کم 15 ممبرز کی حمایت درکار ہوگی۔ اور اگر وہ بلیک لسٹ سے بچنا چاہے گاتو اسے کم از کم تین مزید ممبران کی حمایت کی ضرورت پیش آئے گی۔ اورلینڈو میں ایف اے ٹی ایف کی پلینری میٹنگ ہوگی، اسی میں پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگرچہ رسمی طور پر اس کا اعلان ایف اے ٹی ایف کی اگلی پلینری میٹنگ میں ہوگا جو پیرس میں 18 اور 23 اکتوبر کے دوران منعقد ہوگی۔
حالیہ دنوں میں جو جائزہ رپورٹ پیش کی گئی، وہ اس اعتبار سے بڑی اہم تھی کہ فروری میں ایف اے ٹی ایف نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ جنوری 2019 کے لئے جو نشانہ طے کیا گیا تھا اس کے پیش نظر یہ محسوس کیا گیا کہ پاکستان کو تیزی سے اپنے ایکشن پلان کا نشانہ پورا کرنا ہے، خاص طور سے اس نشانے کو پورا کرنا ہے جو مئی 2019 تک کے لئے طے کیا گیا تھا۔ اگر خدا نخواستہ طے شدہ نشانہ پورا نہ کیا جاسکا تو پاکستان کے لئے جہاں کئی طرح کی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں وہیں دیگر پریشانیوں کے علاوہ مالی اعتبار سے اس کی مشکلات زیادہ بڑھ جائیں گی اور اس کا اثر اس چھ بلین ڈالر کے اس پیکیج پر بھی پڑے گا جس کے سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بات چیت کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف پہلے ہی پاکستان سے کہہ چکا ہے کہ اسے دہشت گردوں کی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں ایف اے ٹی ایف سے کلیرنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
Comments
Post a Comment