موضوع: خلیج فارس میں فوجوں کا اجتماع

گزشتہ ہفتے خیلج عمان میں تیل کے دو ٹینکروں پر حملے کے جواب میں امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ خیلج میں سکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے وہ مزید ایک ہزار فوجی وہاں بھیج رہی ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے سال مئی میں دو ہزارپندرہ میں ہوئے نیوکلیائی معاہدے سے امریکہ کے الگ ہوجانے اور ایران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے بعد سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا کہ اگر کوئی ایران کی ان صنعتوں کے ساتھ تجارت کرتا ہے جن پر پہلے سے ہی پابندیاں عائد ہیں تو ان پر بھی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ ایران نے بھی معاہدے پر دستخط کرنے والے یوروپی ممالک، خصوصاً برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے اپیل کی کہ وہ امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت پر پڑنے والے اثرات کم کرنے کیلئے مناسب اقدامات کریں۔ تہران نے کہاکہ اگر معاہدے پر دستخط کرنے والے دوسرے ملکوں نے ایسا نہیں کیا تو ایران بھی معاہدے سے الگ ہونے پر مجبور ہوجائے گا۔ ایران کی اس اپیل کے بعد امریکہ نے پندرہ سو فوجیوں کو خلیج میں تعینات کردیا۔ خلیج میں فوجوں کا اس طرح کا اجتماع علاقہ کے امن واستحکام کیلئے نیک شگون بالکل نہیں ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ خلیج عمان میں تیل کے ٹینکروں پر حملے میں وہ ملوث نہیں ہے تاہم امریکہ اور سعودی عرب اس حملے کیلئے تہران کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاض اور واشنگٹن مئی میں فجیرہ کے ساحل پر تیل کے چار ٹینکروں پر ہوئے حملے کیلئے بھی تہران کو ذمہ دار بتا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حوثیوں کی ایران حمایت کررہا ہے جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں مخلوط فوجیں حوثیوں پر حملے کررہی ہیں۔

اس سال مئی میں سعودی آرامکو کی ایک آئل پائپ لائن پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے حوثیوں نے ایک میزائل سے جنوبی صوبے نجران میں اَبْہا ہوائی اڈے پر حملہ کیا جس میں 26 افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد ریاض نے الزام لگایا کہ سعودی عرب میں حملے کرنے کیلئے ایران حوثی باغیوں کو نہ صرف اسلحے فراہم کررہا ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کررہا ہے۔

خلیج عمان میں ایک ہزار مزید فوجی بھیجنے کے امریکی فیصلہ کو انہیں سب واقعات کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ اضافی فوجیں بھیجنے کے فیصلہ کا اعلان کرتے ہوئے کارگزار وزیردفاع پیٹرک شناہن نے کہاکہ یہ فیصلہ ایران کے جارحانہ برتاؤ کے پیش نظر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات ضرور کہی کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا لیکن علاقہ میں امریکی فوجیوں اور مفادات کی حفاظت کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی جیسی عالمی طاقتیں فکرمند ضرور ہیں لیکن ان ملکوں نے اس سلسلہ میں ابھی تک کوئی خاص پہل نہیں کی ہے۔ ہاں جاپان کے وزیراعظم شینزوابے نے اسی ماہ تہران کا دورہ ضرور کیا اور ایران کو باور کرانے کی کوشش کی کہ اسے امن واستحکام برقرار رکھنے کیلئے ایک تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاہم ایران اپنے موقف پر برقرار ہے۔ اس نے کسی بھی دھمکی کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے خلاف اسے خود کا دفاع کرنے کا پورا اختیار ہے۔ تہران نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کیلئے اس کے پاس پوری صلاحیت ہے۔ روس اور چین نے بھی خلیج فارس میں حالیہ امریکی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اکیلا نہیں ہے اور اگر کوئی سنجیدہ واقعہ پیش آتا ہے اور کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو علاقہ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ اسی دوران خبر ہے کہ ایران نے امریکہ کا ایک ڈرون مار گرایا ہے۔ جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ایسا کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ایران کی اس کارروائی سے علاقہ میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔


خلیج فارس کی موجودہ صورتحال بھارت کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔ علاقہ میں امن واستحکام کا برقرار رہنا بھارت کیلئے بہت ضروری ہے کیونکہ یہاں اس کے توانائی کے اپنے مفادات ہیں۔ اس کے علاوہ آٹھ اعشاریہ پانچ ملین سے زیادہ ہندوستانی خلیج میں رہ رہے ہیں۔ بھارت کو ان کی فلاح وبہبود کی بھی فکر ہے۔ علاقے کے تمام ملکوں کے ساتھ بھارت کے اسٹریٹجک ، سیاسی اور تجارتی رشتے ہیں جو کافی مضبوط ہیں۔ نئی دہلی کے تہران اور ریاض کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں۔ اس لئے بھارت کو امید ہے کہ متعلقہ ممالک علاقہ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے تمام کوششیں کریں گے اور تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعہ تلاش کریں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ