دہشت گردی کے مضر اثرات سماجی زندگی پر



عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کے نتیجہ میں بے قصور لوگ ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں اور ان حملوں میں بچے بوڑھے ،جوان ،مرد اور عورتیں سبھی شامل ہوتے ہیں۔بلا شبہ فوری طور پر تو یہی مناظر دیکھنے میں آتے ہیں لیکن دہشت گردی ایک ایسی لعنت ہے جس کے اثرات بڑے دیر پا اور ہمہ گیر نوعیت کے ہوتے ہیں۔ خاص طور سے ایسے سماج بطور خاص متاثر ہوتے ہیں جن میں مختلف فرقوں اور نسل کے لوگ بستے ہیں اور روایتی طور پر ایک دوسرے سے کسی نہ کسی سطح پر جڑے ہوتے ہیں۔دہشت گردی مذہب کے نام پر فروغ دی جائے یا نسل کے نام پر یا کسی بھی عنوان سے اسے پروان چڑھایا جائے یہ انسان اور انسانی تہذیب کی تباہی کا سامان فراہم کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی پیمانے پر دہشت گردی نے کافی تباہی اور تاراجی مچائی ہے۔ ہندوستان ان ملکوں میں شامل ہے جن کا شروع ہی سے یہ موقف رہا ہے کہ دہشت گردی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لئے پوری عالمی برادری کو مشترکہ طور پر نہ صرف جدو جہد کرنی چاہئے بلکہ اس کی جڑوں تک پہنچ کر اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہندوستان خود بھی ایک لمبے عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اسے اس بات کا پورا اندازہ ہے کہ یہ سماجی زندگی کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔

سری لنکا میں کچھ عرصہ قبل جو متعدد گرجا گھروں اور مہنگے ہوٹلوں میں زبر دست دھماکے ہوئے اور جس کے نتیجہ میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ، ان میں جو عناصر ملوث تھے ان کے بارے میں چھان بین کا کام چل رہا ہے ۔ اس کے پیچھے آئی ایس کا ہاتھ تو تھا ہی لیکن بعض مقامی انتہا پسند تنظیموں کے بھی ملوث ہونے کی خبر ہے۔ سری لنکا کا معاشرہ بھی ایک ملا جلا معاشرہ ہے جس میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 10/9فیصد بتایا جاتا ہے۔ مذکورہ حملوں کے بعد بعض ایسی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان حملوں کے رد عمل کے طور پر حالات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ 9 مسلم وزراء اور کم سے کم دو گورنروں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیاہے ۔ خبروں کے مطابق بودھ دھرم کے ماننے والے بعض رہنماؤں یا راہبوں نے بعض مسلم وزراء پر الزام لگایاکہ انہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی تھی یا ان کے رابطے میں تھے۔ ایک بودھ راہب جو ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں ایک مشہور بودھ عبادت گاہ کے قریب بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے اور انہوں نے دو وزراء کو برخاست کئے جانے کا مطالبہ کیا ۔ بعض دیگر افراد نے بھی مسلم مخالف نعرے لگائے۔ بہر حال اب یہ خبر آئی ہے کہ نو مسلم وزراء اور دو گورنر مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔ گویا کل 11افراد نے حکومت سے استعفیٰ دیا ہے۔دہشت گرد گروپوں سے رابطے کاالزام تو ایک یا دو وزیروں کے خلاف لگایا گیا ہے لیکن دو گورنرز سمیت 11عہدیداروں نے استعفیٰ دیا ہے اور ان کا کہناہے کہ ان کے استعفیٰ کے بعد چھان بین کا کام آزادانہ طور پر آگے بڑھے گا اور حقائق عوام کے سامنے آئیں گے۔ ان وزراء نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حکومت سے مستعفیٰ ہونے کے باوجود حکومت کے ساتھ بوقت ضرورت تعاون کریں گے۔ سری لنکا سے یہ خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ بعض عناصر وہاں کا ماحول خراب کرنے کے لئے فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے رہے ہیں۔

بہر حال چھان بین کا سلسلہ تو جاری ہے اور امید ہے کہ سری لنکا کی حکومت آزادانہ اور غیر جانب دارانہ طور پر حقائق کا پتہ لگائے گی۔ جو لوگ اس میں ملوث پائے جائیں گے انہیں قرار واقعی سزا بھی ملے گی۔ یہاں ہم اس پہلو کو بطور خاص اجاگر کرنا چاہیں گے کہ ایک دہشت گردی کی لعنت کئی انداز سے اور کئی سطح پر کسی بھی سماج میں زہر گھولنے کاکام کر سکتی ہے اور سماجی تانے بانے کو بکھیر بھی سکتی ہے۔ امید ہے کہ سری لنکا کی حکومت اور چھان بین کرنے والی ایجنسیاں ان تمام پہلوؤں پر باریکی سے نظر رکھیں گی تاکہ دہشت گردوں کے ان عزائم کو ناکام بنایا جا سکے جن کے تحت وہ سماج میں بکھراؤ اور نفرت کے ماحول کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ تمام مذہبی اور نسلی گروپوں کو بھی دانشمندی اور سوجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے تعصب اور نفرت کی چنگاری کو بجھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

******

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ