ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں ٹرمپ کی سخت بیانی نامناسب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے ہندوستان، چین اور روس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور الزام عاید کیا ہے کہ ان ملکوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے معاملے میں کچھ خا ص نہیں کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ملکوں نے اس خطے کو ایک ایسے علاقے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سانس لینا ناممکن ہو گیا ہے۔ جبکہ امریکہ کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہاں صاف ستھری ہوا ہے۔ انھوں نے ایک برطانوی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے 2017 میں ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سے امریکہ کے الگ ہو جانے کے لیے ان ملکوں کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہندوستان، چین اور روس میں نہ تو صاف ہوا ہے اور نہ ہی پینے کا صاف پانی۔ ان ملکوں میں آلودگی یعنی پولیوشن بھی بہت ہے۔ ان کا یہ بیان حیرت انگیز نہیں ہے۔ کیونکہ ان کو پیرس معاہدے سے الگ ہو جانے کا کوئی نہ کوئی جواز تو پیش کرنا ہی تھا۔ ان کے اس بیان سے یہ امید ختم ہو گئی کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں مذکورہ ملکوں کے تعلق سے اپنا لب و لہجہ نرم کر یں گے۔ اگر ہم ٹرمپ کے بیان کو دیکھیں تو واضح طور پر یہ محسوس ہوگا کہ وہ ماحولیات اور موسم کو ایک دوسرے کے مساوی یا ایک دوسرے کا مترادف سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ ماحولیاتی حدت کچھ اور ہے اور موسمی تبدیلی کچھ اور۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ موسم تبدیل ہو گیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ دونوں طریقوں سے بدلتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے انھیں موسم اور ماحولیات کے فرق کا شعور نہیں ہے۔ اور یہ بات دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر کی زبان سے نکلی ہے۔ گویا ٹرمپ آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی کو ایک ہی سمجھ رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے سلسلے میں مختلف ملکوں کی کارکردگی کا مشاہدہ کریں تو پائیں گے کہ خود ٹرمپ کو شاید اپنے ملک کی کارکردگی کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ وہ دوسرے ملکوں کو تو ماحولیاتی تبدیلی کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن یہ دیکھنا گوارہ نہیں کرتے کہ خود ان کے ملک کا ٹریک ریکارڈ کیا رہا ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے جہاں ماحول بہت صاف ستھرا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ گرین ہاوس گیس خارج کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ یہ گرین ہاوس گیس دنیا میں آلودگی پھیلانے اور ماحول کو کثیف بنانے میں اہم ادا کرتی ہے۔ گرین ہاوس گیسوں کے اخراج کا ماحولیات پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ لیکن شاید ٹرمپ اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ امریکہ پہلے بھی اس سے انکار کرتا رہا ہے کہ وہ بھی ماحولیاتی تبدیلی کا ذمہ دار ہے۔ اب بھی وہ اسی موڈ میں نظر آتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا مذکورہ بیان اس اندیشے کو قوی کرنے کے لیے کافی ہے کہ امریکہ ترقی پذیر ملکوں میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کرنے میں فراخ دلی نہیں دکھائے گا۔ جس طرح ٹرمپ نے امریکہ کو پیرس معاہدہ سے الگ کر دیا اسی طرح وہاں کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش 2011 میں کیوٹو پروٹوکل سے الگ ہو گئے تھے۔ اسی طرح سینئر بش نے یہ بیان دیا تھا کہ امریکہ کے طرز زندگی کو بدلنے پر گفتگو نہیں ہو سکتی۔ ان کا یہ بیان ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بیانات میں ایک بدنام بیان ثابت ہوا تھا۔ بہر حال دنیا سینئر اور جونئر بش کے دور سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ ادھر ایک طرف جہاں ٹرمپ نے اپنے ملک کی کوئلہ صنعت کو نئی زندگی دینے کی کوشش کی ہے وہیں ہندوستان اور چین نے اپنی معیشتوں کو کاربن گیسوں سے مبرا کرنے کا طویل مدتی پلان بنایا ہے۔ ہندوستان نے 2030 تک کوئلہ اور تیل کے بغیر اپنی چالیس فیصد بجلی پیداوار کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ یہ مقدار امریکہ کی مقدار سے دس فیصد زیادہ ہے۔ یوروپی یونین نے بھی کچھ ایسا ہی نشانہ مقرر کیا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ کی کم از کم چودہ ریاستوں کے گورنروں نے دنیا کو یہ یقینی دہانی کرا رکھی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اوبامہ دور کے پروگراموں کو الٹ دینے کی پالیسی کے باوجود وہ ملک کے ماحولیات کو صاف ستھرا بنانے کی کوشش کریں گے۔ متعدد عالمی اداروں نے بھی ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں اپنے کردار کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو پیرس معاہدہ سے الگ کیا تھا تو ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک غیر ملکی دورے کے موقع پر کہا تھا کہ پیرس معاہدہ رہے یا نہ رہے ہندوستان آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے اپنے وعدے کا پابند ہے۔ اس وقت کی ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی ہندوستان کے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے روایتی انکاری موڈ سے باہر آئیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے دوسرے ملکوں کو مورد الزام ٹھہرانے کا رویہ ترک کریں۔
Comments
Post a Comment