موضوع:بھارت – امریکہ تجارتی تعلقات میں کشیدگی
امریکہ کے وزیر تجارت ولبرراس نے حال ہی میں ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت دنیا کا وہ ملک ہے جہاں شرح محصول سب سے زیادہ ہے۔ وہ حکومت امریکہ کے سب سے بڑے تجارتی فورم کی میٹنگ میں شرکت کیلئے نئی دہلی میں تھے۔
چین کے بعد امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ اپنے ہندوستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران جناب راس نے صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ کے نعرے ‘‘میک امریکہ گریٹ اگین’’ کو ایک بار پھر دوہرایا اور کہا کہ ہند-امریکہ رشتوں کو دوبارہ بہتر بناکر ہم امریکہ کو دوبارہ عظیم بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کیلئے بھارت کا تعاون ضروری ہے۔ تاہم ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور ان رشتوں میں کشیدگی کی زیریں روموجود ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ سے بھارت کافی فکرمند ہے۔ امریکہ نے بھارت پر ایران سے تیل درآمد کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے علاوہ وہ جی ایس پی پروگرام کے تحت بھارت کو دی جانے والی مراعات بھی ختم کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ اس سے بھی نئی دہلی کو کافی فکر لاحق ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جی ایس پی کا درجہ عالمی تجارتی تنظیم ریجیم کے تحت دیئے جانے والے درجے ‘‘سب سے پسندیدہ ملک’’ سے بالکل مختلف ہے۔ جناب راس نے متبنہ کیا کہ اگر بھارت نے امریکی اقدام کے جواب میں امریکی اشیاء پر محصول میں اضافہ کیا تو یہ عالمی تجارتی تنظیم کے ضوابط کے تحت مناسب نہیں ہوگا۔ امریکی وزیر تجارت نے مزید کہا کہ امریکہ سے درآمدہ طبی آلات پر قیمت درج کردی جاتی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں ایک رکاوٹ ہے۔ تاہم اس طرح کے تمام معاملات پر ہندوستان میں آئندہ حکومت تشکیل ہونے کے بعد تفصیل سے غوروخوض کیا جائیگا۔
خبروں کے مطابق جب جناب راس نے یہ بیان دیا کہ بھارت میں شرح محصول دنیا میں سب سے زیادہ ہے تو انکی توجہ حقیقت کی جانب مبذول کرائی گئی۔ انہیں شاید یہ بات نہیں معلوم کہ بھارت کی شرح محصول سات اعشاریہ پانچ فیصد ہے جبکہ برازیل کی دس اعشاریہ تین اور جنوبی کوریا کی 9فیصد ہے۔
امریکی وزیر تجارت اور ان کے ہندوستانی ہم منصب دونوں نے بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تجارتی تعلقات کی ستائش کی۔ ملاقات کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اشیاء اور خدمات کے شعبہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں 12 اعشاریہ 6فیصد کا اضافہ ہوا۔ 2017 میں یہ تجارت 126 ارب ڈالر کی تھی جبکہ 2018 میں بڑھ کر یہ 142 ارب ڈالر کی ہوگئی۔ فورم کی میٹنگ میں پہلی بار چھوٹے اور اوسط درجے کی تجارت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس فورم میں امریکی وزیر تجارت نے 100 تجارتی لیڈروں کے ایک وفد کی قیادت کی۔ ہندوستانی حکام کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران ان رہنماؤں نے بھارت میں بہ آسانی تجارت کرنے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس موضوع پر بھی بات چیت کی کہ امریکی مصنوعات کو ہندوستانی بازاروں میں کیسے رسائی حاصل ہو اور اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں کیسے دورکیا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت میں ای۔ کامرس کیلئے غیر ملکی راست سرمایہ کاری کے ضوابط امیزون اور والمارٹ جیسی غیرملکی کمپنیوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ ایک ایسا موضوع تھا جسے جناب راس نے نئی دہلی میں اپنی بات چیت کے دوران اٹھایا۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت کے شعبہ میں بڑھتے عدم توازن پر صدر ٹرمپ نے ماضی میں اکثر روشنی ڈالی ہے۔ مالی سال 18-2017 کے دوران امریکہ کو بھارت کی برآمدات 47 اعشاریہ 9 ارب ڈالر کی تھیں جبکہ اسی سال امریکہ سے بھارت کی درآمدات صرف 26 اعشاریہ 6 ارب ڈالر مالیت کی تھیں۔ اس کو دھیان میں رکھ کر امریکہ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے شعبہ میں عدم توازن ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے فائننشیل سروسز کی کمپنیوں کیلئے پالیسی وضع کی ہے جس کے تحت وہ مقامی سرورز میں ہی تمام ڈیٹا محفوظ رکھیں گی۔ امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ریزرو بینک کی اس پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ امریکہ بھارت کیساتھ متوازن تجارتی تعلقات چاہتا ہے لیکن اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے جی ایس پی کا درجہ واپس لیا تو بھارت جوابی کارروائی کرسکتا ہے کیونکہ ملک کے معاشی مفادات کا دفاع کرنا اس کا فرض ہے۔
Comments
Post a Comment