ہندوستان کا 2019 کا فیصلہ
بالآخر 23 مئی کو لمبے انتظار کے بعد لوک سبھا کے انتخابات کے نتائج سامنے آنے لگے۔ گنتی شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی پورے طور پر یہ اندازہ ہوگیا کہ بی جے پی کی قیادت میں نیشنل ڈیمو ٹریٹک الائنس یعنی NDAکی حکومت بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار سنبھالنے جارہی ہے۔7 مرحلوں میں انتخابات کے انعقاد اور ان کے نتائج کے اعلان کے درمیان کم و بیش ڈیڑھ ماہ کا عرصہ تھا۔ ظاہر ہے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں جہاں 90 کروڑ کے قریب رائے دہندگان ہوں وہاں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور پرامن انتخابات منعقد کرانے میں متعلقہ اداروں کو بھرپور توجہ صرف کرنی پڑتی ہے۔ یہ بات بہر حال قبل اطمینان ہے کہ تشدد کے اکادکا واقعات کے باوجود پورے ملک میں انتخابات پرامن ماحول میں ہوئے اور نتائج کے اعلان کے بعد بھی ماحول پرامن اور خوشگوار رہا۔ جہاں ایک طرف کامیاب ہونے والی پارٹیوں اور امیدواروں میں خوشی اور جشن کا ماحول رہا۔ وہیں شکست سے دوچار ہونے والی پارٹیوں نے پورے وقار کے ساتھ اپنی ہار کو تسلیم کیا اور کامیاب ہونے والوں کو مبارکباد بھی دی۔
ہندوستانی جمہوریت نے کم و بیش 70 سال کے عرصہ میں ارتقا کی کئی منزلیں طے کی ہیں۔ اس درمیان کبھی ایک پارٹی کی حکومت بھی رہی اور کبھی مخلوط حکومتیں بھی رہیں۔ مخلوط حکومتوں نے کبھی اپنی پانچ سال کی مدت پوری کی اور کبھی وقت سے پہلے ہی ٹوٹ بھی گئیں۔ ایسا کئی بار ہوا۔ مخلوط حکومت کی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً بعض پارٹیوں کے پروگرام اور نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ دباؤ ہوتا ہے اور بعض اوقات سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں، لیکن ہندوستان جمہوریت کی ایک ایسی تجربہ گاہ ہے، جہاں کے ہر تجربہ نےجمہوریت کو مزید پختہ کیا۔ 1999 سے 2004 تک ایک مخلوط حکومت تھی وہ بھی NDAکی حکومت تھی، جس میں متعدد چھوٹی بڑی پارٹیاں شامل تھیں۔ اس حکومت کی قیادت بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی نے کی تھی اور پہلی بار مخلوط حکومت نے اپنی پوری پانچ سال کی مدت پوری کی تھی۔ اس کے بعد 2004 میں جب انتخابات ہوئے تھے تو اس وقت بھی قومی پیمانے پر مخلوط حکومت ہی قائم ہوئی تھی۔ یہ کانگریس کی قیادت میں UPAکی حکومت تھی ، اس نے بھی پانچ سال کی مدت پوری کی۔2009 میں پھر دوسری بار یو پی اے کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے بھی پانچ سال کی مدت پوری کی۔ اس حکومت کے سربراہ ڈاکٹر منموہن سنگھ تھے جو عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات بھی ہیں۔اس حکومت کے بعد 2014 میں جب عام انتخابات ہوئے تو نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت بنی، اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تنہا اتنی سیٹیں جیتی تھیں کہ وہ اپنے طور پر بھی حکومت بنا سکتی تھی، لیکن نریندرمودی کی قیادت میں تمام اتحادی پارٹیوں نے اس میں شمولیت اختیار کی اور اس حکومت نے بڑی مضبوطی سے پانچ سال کی مدت پوری کی۔ اب جو 2019 کے انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو اس سے یہی اندازہ ہوا کہ ملک بھر میں نریندرمودی سب سے مقبول رہنما ہیں اور انہی کی قیادت میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت چلانے کےلئے عوام کی بھاری اکثریت نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ کم و بیش 7 دہائیوں کے درمیان ہندوستانی جمہوریت پختہ سے پختہ تر ہوئی۔ اس درمیان جمہوریت کا تسلسل بھی قائم رہا۔ بنیادی قدریں بھی فروغ پاتی رہیں اور ارتقا کی منزلیں طے کرنے کے ساتھ ساتھ نئی سوچ اور نئے خیالات بھی راہ پاتے رہے۔
آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستان مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ ملی جلی اور منصوبہ بند معیشت سے لے کر آزاد منڈی تک کا اس نے تجربہ کیا اور آج دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ اس نے عالمی سیاست اور عالمی اداروں میں بھی اپنے لیے ایک خاص جگہ بنائی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں بھی جب دنیا دو خیموں میں بٹی ہوئی تھی ، ہندوستان نے عالمی سیاست میں اہم رول ادا کیا تھا۔ آج بھی وہ عالمی پیمانے پر اہم سیاسی رول ادا کرے گا۔ 2019 کا یہ فیصلہ جہاں ایک مستحکم حکومت کےلئے ایک بڑا مینڈیٹ ہے وہیں اس بات کا اشاریہ بھی ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان عالمی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا ایک مضبوط ملک ہوگا۔
ہندوستانی جمہوریت نے کم و بیش 70 سال کے عرصہ میں ارتقا کی کئی منزلیں طے کی ہیں۔ اس درمیان کبھی ایک پارٹی کی حکومت بھی رہی اور کبھی مخلوط حکومتیں بھی رہیں۔ مخلوط حکومتوں نے کبھی اپنی پانچ سال کی مدت پوری کی اور کبھی وقت سے پہلے ہی ٹوٹ بھی گئیں۔ ایسا کئی بار ہوا۔ مخلوط حکومت کی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً بعض پارٹیوں کے پروگرام اور نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ دباؤ ہوتا ہے اور بعض اوقات سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں، لیکن ہندوستان جمہوریت کی ایک ایسی تجربہ گاہ ہے، جہاں کے ہر تجربہ نےجمہوریت کو مزید پختہ کیا۔ 1999 سے 2004 تک ایک مخلوط حکومت تھی وہ بھی NDAکی حکومت تھی، جس میں متعدد چھوٹی بڑی پارٹیاں شامل تھیں۔ اس حکومت کی قیادت بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی نے کی تھی اور پہلی بار مخلوط حکومت نے اپنی پوری پانچ سال کی مدت پوری کی تھی۔ اس کے بعد 2004 میں جب انتخابات ہوئے تھے تو اس وقت بھی قومی پیمانے پر مخلوط حکومت ہی قائم ہوئی تھی۔ یہ کانگریس کی قیادت میں UPAکی حکومت تھی ، اس نے بھی پانچ سال کی مدت پوری کی۔2009 میں پھر دوسری بار یو پی اے کی حکومت قائم ہوئی اور اس نے بھی پانچ سال کی مدت پوری کی۔ اس حکومت کے سربراہ ڈاکٹر منموہن سنگھ تھے جو عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات بھی ہیں۔اس حکومت کے بعد 2014 میں جب عام انتخابات ہوئے تو نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت بنی، اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تنہا اتنی سیٹیں جیتی تھیں کہ وہ اپنے طور پر بھی حکومت بنا سکتی تھی، لیکن نریندرمودی کی قیادت میں تمام اتحادی پارٹیوں نے اس میں شمولیت اختیار کی اور اس حکومت نے بڑی مضبوطی سے پانچ سال کی مدت پوری کی۔ اب جو 2019 کے انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو اس سے یہی اندازہ ہوا کہ ملک بھر میں نریندرمودی سب سے مقبول رہنما ہیں اور انہی کی قیادت میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت چلانے کےلئے عوام کی بھاری اکثریت نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ کم و بیش 7 دہائیوں کے درمیان ہندوستانی جمہوریت پختہ سے پختہ تر ہوئی۔ اس درمیان جمہوریت کا تسلسل بھی قائم رہا۔ بنیادی قدریں بھی فروغ پاتی رہیں اور ارتقا کی منزلیں طے کرنے کے ساتھ ساتھ نئی سوچ اور نئے خیالات بھی راہ پاتے رہے۔
آزادی کے بعد سے اب تک ہندوستان مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ ملی جلی اور منصوبہ بند معیشت سے لے کر آزاد منڈی تک کا اس نے تجربہ کیا اور آج دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ اس نے عالمی سیاست اور عالمی اداروں میں بھی اپنے لیے ایک خاص جگہ بنائی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں بھی جب دنیا دو خیموں میں بٹی ہوئی تھی ، ہندوستان نے عالمی سیاست میں اہم رول ادا کیا تھا۔ آج بھی وہ عالمی پیمانے پر اہم سیاسی رول ادا کرے گا۔ 2019 کا یہ فیصلہ جہاں ایک مستحکم حکومت کےلئے ایک بڑا مینڈیٹ ہے وہیں اس بات کا اشاریہ بھی ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان عالمی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا ایک مضبوط ملک ہوگا۔
Comments
Post a Comment