موضوع: بین الاقوامی ملایاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کو قرض کی منظوری

کئی مہینوں کی لمبی بات چیت کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بالآخر پاکستان کو قرض دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم  کے معاشی معاملات کے مشیر ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ اسلام آباد میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ٹیم کے ساتھ پاکستان کے آخری دور کی بات چیت کے بعد اس  مالی امداد کو منظوری ملی۔ معاہدے کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو آئندہ تین برسوں کے دوران چھ ارب ڈالر فراہم کرے گا، تاکہ وہ اپنے معاشی بحران سے نمٹ سکے۔ اس وقت پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور قرض چکانے اور معیشت کو پٹری پر لانے کےلئے اسے 18 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
آٹھ ماہ قبل جب عمران خان ملک  کے وزیراعظم بنے تھے‘ تو انھوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے سخت شرائط رکھیں تو وہ اس سے مالی امداد حاصل نہیں کریں گے۔ اس وقت انھوں نے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوستوں پر زیادہ بھروسہ کیا تھا، لیکن آئی ایم ایف نے اپنی شرائط نرم نہیں کیں بلکہ اس میں اضافہ کرتا گیا اور عمران خان کو بالآخر اس کی تقریباً ہر شرط ماننی پڑی۔ ان شرائط میں آمدنی بڑھانے کیلئے ٹیکسوں کی شرحوں میں اضافہ، وسیع تر ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور سبسڈیزمیں کٹوتی شامل ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کئی بار یہ بات کہی تھی کہ وہ نہ تو ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کریں گے اور نہ ہی بجلی اور گیس کے دام بڑھائیں گے، کیونکہ اس سے عام لوگوں کو کافی پریشانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف آمدنی میں گراوٹ آئے گی، بلکہ افراط زر میں بھی اضافہ ہوگا۔ ملک میں ضروری اشیاء کی چیزوں کی قیمتوں میں پہلے ہی کافی اضافہ ہوچکا ہے اور ایسا کرنے سے عوام کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف کی شرائط منوانے میں فائننشئل ٹاسک کے دباؤ نے بھی اپنا کردار ادا کیا، کیونکہ پاکستان اس کی گرے لسٹ میں پہلے ہی شامل ہے اور اگر ضروری ہوا تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے گا۔
پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے وزیر خزانہ اسد عمر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر طارق باجوا کو ان کے عہدوں سے ہٹایاجانا اور ان کی جگہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سابق اہلکاروں کو مقرر کرنا اس بات کی جانب صاف اشارہ کرتا  ہے کہ ملک کی معیشت خستہ حال ہے۔ کل گھریلو پیداوار کی شرح میں کافی کمی آئی ہے اور یہ گرکر تین اعشاریہ 9 فیصد پہنچ گئی ہے، جہاں تک افراط زر کا تعلق ہے تو وہ بڑھ کر 9 اعشاریہ چار فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے اور وہ گرکر صرف 9 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
ایسی صورتحال میں عمران خان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لیں۔ شرائط ماننے کے بعد اب پاکستان کو سخت معاشی ڈسپلن کی  ضرورت ہوگی۔ پاکستان کو اب دہشت گردی پر قابو پانا ہوگا، تاکہ پرامن ماحول میں ترقیاتی پروجیکٹوں کیلئے فنڈ جاری کیے جاسکیں، اس کے علاوہ اب تمام سیاسی فیصلے شہری انتظامیہ کو لینے ہوں گے اور فوج کو ملک کی سیکورٹی کی طرف دھیان دینا ہوگا، جو اس کی ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں دہشت گر دنتطیموں کی مالی اعانت سے بین الاقوامی برادری کو کافی تشویش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دوسرے ملکوں سے قرض حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ابھی حال ہی میں صوبۂ بلوچستان کے شہر گوادر میں دہشت گردوں نے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کو نشانہ بنایا، اس حملے میں، جس کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی، پانچ افراد مارے گئے۔ اس سے پہلے اسی صوبے کے ایک دوسرے شہر ہرنئی (Harnai) میں  دہشت گردوں نے ایک بس سے 14 مسافروں کو اتار کر ہلاک کردیا۔ مہلوکین میں پاکستان بحریہ کے اہلکار شامل تھے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کافی عرصہ سے جاری ہے، جس کی قیادت بلوچستان لبریشن آرمی کررہی ہے۔ اس صوبے کے لوگوں کو شکایت ہے کہ یہاں تمام قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں اور یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن پھر بھی اسے نظر انداز کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ملک کا سب سے پچھڑا ہوا علاقہ بن کر رہ گیا ہے۔
بلوچستان کے عوام چین-پاکستان اقتصادی راہداری کی بھی مخالفت کررہے ہیں، جس کا زیادہ تر حصہ صوبے سے ہوکر گزرتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس راہداری کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا ہے۔ صوبے کے ہوٹل پر جو حملہ ہوا وہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں کے لوگ چین کے راہداری پروجیکٹ کے سخت مخالف ہیں۔ قابل ذکر ہے اپنے تجارتی دورے کے دوران زیادہ تر چینی شہری اسی ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں۔بحرحال بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی امداد سے پاکستان کو معاشی پریشانی سے وقتی نجات ضرور مل جائے گی، لیکن دائمی نجات کیلئے اسے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے اور دہشت گردی کو ہرحال میں ختم کرنا ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ