موضوع:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت پر زور

ادارۂ اقوام  متحدہ کا قیام 74 سال قبل عمل میں آیا تھا ۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد ایک عالمی ادارے کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی تھی۔ گزشتہ صدی میں دنیا دو تباہ کن جنگوں سے تباہ اور تاراج ہوئی تھی اور اس احساس نے اقوام عالم کو مجبور کیا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ دنیا کو کس طرح فسطائیت، جنگ پسندی اور ہلاکتوں سے محفوظ رکھا جائے کہ آئندہ ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے واقعات دوبارہ نہ پیش آئیں۔ 74 سال کے عرصہ میں یہ عالمی ادارہ بتدریج مستحکم اور منظم ہوا اور اس کے متعدد ذیلی ادارے بھی قائم ہوئے جو مختلف شعبہ زندگی میں عالمی پیمانے پر انسانی فلاح اور معیار زندگی  کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ فلاحی کاموں کے علاوہ اس ادارے کا بنیادی کام امن عالم کو یقینی بنانا اور جنگ اور کشیدگی کے ماحول کو دور کرنارہا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جنگ اور قتل وغارت گری کا سلسلہ بالکل رُک گیا اور ہر طرف امن وامان قائم ہوچکا ہے۔ بلاشبہ مختلف علاقوں میں اب بھی کشیدگی کا ماحول ہے اور ناخوشگوار واقعات بھی ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ادارے نے امن وامان برقرار رکھنے کی کوششیں بہت کی ہیں۔ کم از کم دوسری جنگ عظیم کے بعد، اب تک اتنی بڑی اتھل پتھل نہیں پیدا ہوئی ہے کہ اس طرح کے ہولناک مناظر سامنے آئے ہوں، جیسے 1939 اور 1945 کے درمیان دیکھنے میں  آئے تھے۔ کم از کم ایک ادارہ ایسا تو موجود ہے جہاں اقوام عالم مل بیٹھتی ہیں اور مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرتی ہیں۔ 1945 سے اب تک دنیا کا منظرنامہ کافی بدل چکا ہے۔ سردجنگ کا ماحول بھی ختم ہوچکا ہے اور ایک کثیر قومی عالمی منصفانہ نظام کے قیام کی کوششیں ہورہی ہیں۔ پہلے دنیا دو بڑے خیموں میں بٹی ہوئی تھی لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کثیر قومی ماحول کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ دنیا کے حالات 75/74 سال کے مقابلے میں کافی بدل چکے ہیں۔ بعض ممالک ترقی کی کئی منزلیں طے کرچکے۔ غیر ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر قوموں کی صف میں شامل ہوگئے اور ترقی پذیر ممالک، ترقی یافتہ ہونے کے قریب پہنچ چکےہیں۔ نوآبادیاتی نظام بھی ختم ہوچکا ہے اور بیشتر ممالک آزاد ہیں۔ ادارۂ اقوام متحدہ کو یقیناً بدلتے ہوئے حالات کا آئینہ دار بھی ہونا چاہئے۔ اسے زیادہ سے زیادہ جمہوری بنانے کے لئے مناسب نمائندگی بھی ملنی چاہئے۔ تاکہ کسی بھی خطے اور براعظم میں یہ احساس نہ پیدا ہو کہ اس کی مناسب نمائندگی نہیں ہورہی ہے۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ میں ہمیشہ ایک مثبت رول ادا کیا ہے۔ خاص طور سے جن کوششوں سے امن عالم کو تقویت ملتی ہو ان میں تو اس نے نمایاں رول ادا کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی توسیع کی ضرورت کئی دہائیوں سے محسوس کی جارہی ہے۔ ابھی تک اس کے مستقل ممبران کی تعداد میں بھی اضافہ نہیں ہوا۔ ہندوستان بعض دوسرے اہم ممالک کی طرح بجا طور پر اس کی رکنیت کا دعویدار ہے۔ خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اقوام عالم کی طرف سے اب اس دعوے کی پرزور انداز سے وکالت کی جانے لگی ہے۔ چنانچہ حال ہی میں اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل نمائندے نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اقوام متحدہ کو دنیا کا بہتر اور نمائندہ ادارہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سیکوریٹی کونسل  کو بھی مستحکم نمائندہ کونسل بنایا جائے جس میں ہندوستان اور اس کے ساتھ جرمنی، جاپان اور برازیل جیسے ملکوں کی نمائندگی لازمی طور پر ہونی چاہئے۔ اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل سفیر نے یہ بھی کہا کہ فرانس کی اولین اور اسٹریٹیجک ترجیحات میں یہ بات شامل ہے کہ ان ممالک کو ہرحال میں سیکوریٹی کونسل کی میز پر بطور مستقل رکن لایا جائے۔ فرانسیسی سفیر کے مطابق توسیع شدہ اور نمائندہ ادارے کا تصور ان ممالک کے بغیر ادھورا ہی نہیں بلکہ غیرنمائندہ بھی سمجھا جائے گا۔ بہرحال بات چیت چل رہی ہے اور سلامتی کونسل کی دونوں طرح کی رکنیت کے لئے جس دستاویز کا خاکہ تیار ہورہا ہے اس کے لئے 90 فیصد سے بھی زیادہ اراکین نے تحریری طور پر یہی کہا ہے کہ موجودہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے سیکوریٹی کونسل کی مساویانہ طور پر توسیع لازمی امر بن چکی ہے۔ امید ہے ان خطوط پر سرگرمی سے بات آگے بڑھے گی اور مناسب قدم اٹھائے جائیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ