موضوع: پومپئو۔ لیوروو ملاقات- امن کی ایک پیش رفت
جب امریکی وزیر خارجہ مائک پومپئو نے روس کا دورہ کیا اور اپنے روسی ہم منصب Sergei Lavarov اور صدر پوتن سے بات چیت کی تو یہ ملاقات اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ روس سے کشیدگی ختم کرنے کی غرض سے ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ حالیہ برسوں میں روس اور امریکہ کے درمیان چھوٹے پیمانے کی نئی جنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو بین الاقوامی برادری اس کا نوٹس لیے بغیر نہ رہ سکی۔ امریکہ میں خارجہ پالیسی کا تجزیہ کرنے والے حلقے کے بیشتر افراد اسے چھوٹے پیمانے کی سرد جنگ سے تعبیر نہیں کرنا چاہیں گے، کیونکہ وہ روس کو اتنا طاقتور ملک نہیں تصور کرتے بلکہ وسیع تر سوویت یونین کا محض ایک چھوٹا حصہ سمجھتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں بھی جب امریکہ کا باشعور طبقہ امریکہ اور روس کی نیوکلیائی برابری کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کررہا تھا، تب بھی بیشتر امریکی انتظامیہ کے لوگ روس کو امریکہ کا ہم پلہ قرار دینے میں پس و پیش کرتے تھے۔ دو خیموں میں بٹے اقتدار کے ڈھانچے کا جھکاؤ بہر حال امریکہ کی جانب تھا کیونکہ اسے اقتصادی سطح پر استحکام اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں برتری حاصل تھی۔ آج بھی امریکہ میں مشکل ہی سے کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ روس ایک نئی توانائی کے ساتھ واپس آیا ہے۔ کوئی بھی اسے ایسے طاقتور ملک کی حیثیت سے نہیں مانتا جو اپنی نیو کلیائی اور میزائل کے بل پر امریکہ کے وجود کو ہلاسکے، لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی برادری سابق سپرپاور (روس) اور موجودہ سپر پاور امریکہ کے درمیان جاری چھوٹے پیمانے کی سرد جنگ کی حقیقت سے واقف ہے۔ ایران کے نیوکلیائی معاہدے کی روس حمایت کررہا ہے۔ وہ شامی حکومت کی بھی پشت پناہی کررہا ہے اور وینزویلا کی Maduro حکومت کی بھی اس نے حالیہ دنوں میں حمایت کی ہے۔ان حقائق کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات بہ آسانی سمجھ میں آتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ان ملکوں کی حکومتوں میں تبدیلی لانا اگر ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے۔
اس سے قبل صورتحال یہ تھی کہ جب روس نے جنوبی Ossetia ،جارجیا اور مشرقی Ukraine میں اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا اور حتیٰ کہ اس سے آگے بڑھ کر کریمیا کو اپنے اندر ضم کرلیا تو امریکہ اس وقت صرف تماشائی بنا دیکھتا رہا۔ ا سنے کچھ پابندیاں تو ضرور عائد کیں، لیکن روس کو روکنے یا ا س کے ان کاموں کو بے اثر بنانے میں ناکام رہا۔
اپنے پیش رو بارک اوبامہ ہی کی طرح صدر ٹرمپ نے بھی اس بات کی کوشش کی کہ روس سے نئے سرے سے تعلقات استوار کریں، لیکن امریکہ کی گھریلو سیاست نے انہیں ولادیمیر پوتن کے تئیں اپنے رویئے سخت کرنے پر مجبور کردیا، جنہیں کئی بار وہ ایک طاقتور لیڈر کے طور پر تسلیم بھی کرچکے تھے۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران یہ الزام بھی لگا تھا کہ وہ ہلیری کلنٹن پر اپنی برتری ثابت کرنے کےلئے روس روابط کا سہارا لے رہے ہیں۔
Mueller کی چھان بین رپورٹ کے ذریعہ جب ڈونلڈ ٹرمپ کو اس الزام سے بری قرار دے دیا گیا تو وزارت خارجہ نے پہلا کام یہ کرنا چاہا کہ روس سے تعلقات بہتر بنانے کےلئے بے اعتمادی کی فضا کو دور کیا جائے۔ سو پومپئو-لاویرو ملاقات سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ روس اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔امریکی کوششوں کی کئی پرتیں ہیں۔ ایک تویہ کہ روس اور چین کے درمیان قربت نہ بڑھے کیونکہ حالیہ دنوں میں دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، اگر امریکہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے واشنگٹن اس پوزیشن میں آجائے گا کہ وہ تجارتی معاملات میں چین سے سخت قسم کی سودرے بازی کرسکے، اسی صورت میں ایران پر امریکہ کا دباؤ بھی بہتر طور پر کام کرسکے گا، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی یہ کوششیں زیادہ بار آور ہوتی نظر نہیں آتیں۔ روس یوروپ کے ساتھ توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کا فائدہ اٹھارہا ہے۔ دوسری طرف ایٹلانٹک کے اُس پار کے ممالک کی بڑھتی ہوئی دوریوں کا کا خاموشی سے مشاہدہ کررہا ہے کیونکہ Natoکے حوالے سے جو جارحانہ قسم کے بیانات ٹرمپ نے دیئے ہیں اس سے وہ ممالک ناراض ہیں، اس سے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے متاثر ہورہے ہیں۔ روس کو اس بات کا بھی خوب فائدہ پہنچ رہا ہے کہ اس نے چین سے اسٹریٹجک اور توانائی کی پارٹنر شپ قائم کررکھی ہے۔ امریکہ نے اپنے مخالفین کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعہ نقصان پہنچانا چاہا ہے، اس کا ایک اثر یہ بھی ہوا ہے کہ کئی ملکوں میں روسی ہتھیاروں کی فروخت پر روک لگی ہے۔ مثلاً ہندوستان اور ترکی میں اس کے اسلحے نہیں خریدے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ روس پر ان باتوں کا ناخوشگوار اثر پڑا ہے۔
بہر حال امریکہ اور روس کے درمیان اگر تعلقات بہتر ہوتے ہیں اور باہمی تعاون بڑھتا ہے تو یہ اچھی بات ہوگی، اس سے بین الاقوامی پیمانے پر استحکام پیدا ہوگا۔ ہندوستان کے حق میں بھی یہی اچھا ہوگا، کیونکہ امریکہ -روس کشیدگی کا نشانہ ہندوستان بھی بنا ہے۔ ہندوستان امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے زمانے میں کسی ایک فریق کا ہوکر نہیں رہا تھا اور اب امریکہ -روس کشیدگی میں بھی وہ کسی ایک کے حق میں فیصلہ نہیں کرسکتا۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ہندوستان میں ہتھیاروں کی فروخت کو وسعت دے، لیکن اسے روس سے ہتھیار خریدنے پر پابندی نہیں عائد کرنی چاہے۔ امریکہ اگر پابندی عائد کرتا ہے اور یہ شرط لگاتا ہے کہ ہندوستان روس سے S-400میزائل نہ خریدے تو اس سے ہند-امریکہ تعلقات خطرے میں پڑجائیں گے، اگر روس اور امریکہ کے تعلقات بہتر جاتے ہیں تو یہ ہندوستان کےلئے اچھی بات ہوگی۔
Comments
Post a Comment