موضوع: مودی کی دوسری بار حلف برداری، کابینہ نے بھی لیا حلف
عام انتخابات میں دوسری مرتبہ زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر جناب نریندر مودی نے بطور وزیراعظم حلف لیا۔ کل نئی دہلی میں راشٹرپتی بھون کے احاطہ میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں مودی کابینہ کے وزراء نے بھی حلف لیا۔ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے وزیراعظم سمیت تمام وزراء کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔حلف برداری کی تقریب میں بمسٹیک ممالک کے رہنما مہمانان خصوصی تھے۔ وزراء کی کونسل میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو واقعی باصلاحیت ہیں۔ اس حلف برداری کی تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار وزراء کی کونسل میں سابق خارجہ سکریٹری سبرامنیم جے شنکر کو شامل کیا گیا ہے۔ جناب جے شنکر نے وزارت خارجہ میں سکریٹری کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ چین سے متعلق اُمو رکے ماہر سمجھے جاتے ہیں اس لئے کابینہ میں ان کی شمولیت کافی اہم سمجھی جارہی ہے۔ بی جے پی صدر امت شاہ کو بھی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ وہ حکومت میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔
جناب مودی نے اکثر یہ بات کہی ہے کہ ملک کے لوگوں کو ان کی حکومت سے کافی توقعات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دوسری بار بھی بی جے پی کو زبردست جیت دلائی ہے۔ اسی لئے ایسے لوگوں کو وزراء کی کونسل میں شامل کیا گیا ہے جو عوام کی خواہشات پر پورا اترسکیں۔ وزراء کی کونسل کی تشکیل کا فیصلہ کرتے وقت اس میں ملک کے تقریباً تمام حصوں کی نمائندگی کا بھی دھیان رکھا گیا ہے۔ اس میں نوجوانوں کی شمولیت کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔ جناب مودی نے واضح کردیا ہے کہ ان کی حکومت کا مقصد سب کی ترقی اور اچھی حکمراانی ہے۔
اس باروزیروں کو منتخب کرتے وقت تسلسل اور تبدیلی دونوں کا دھیان رکھا گیا ہے۔ یعنی راجناتھ سنگھ، نتن گڈکری، رام ولاس پاسوان، نریندرسنگھ تومر، پیوش گوئل اور اسمرتی ایرانی وہ لوگ ہیں جو مودی کابینہ میں دوسری بار بھی وزراء کی حیثیت سے خدمت انجام دیں گے جبکہ گجیندر سنگھ شیخاوت، گری راج سنگھ اور مہندر ناتھ کا درجہ بڑھا کر انہیں کابینی وزیر بنادیا گیا ہے۔ 58 ارکان پر مشتمل وزراء کی کونسل میں 24 کابینی وزیر، 9 آزادانہ چارج اور 24 وزرائے مملکت شامل ہیں۔ عام انتخابات میں بی جے پی نے جس انداز سے کامیابی درج کی ہے وہ ثابت کرتا ہے کہ اسے تمام ریاستوں میں زبردست حمایت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت میں ملک کے تقریباً ہر حصہ کو نمائندگی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
حکومت میں پرتاپ چندر سارنگی کی شمولیت نے سب کو حیران کردیا ۔ وہ اڈیشہ کے بالاسور انتخابی حلقے میں ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ وہ صحیح معنوں میں سادگی کے ساتھ زندگی بسرکرنے والوں کی ایک عمدہ مثال ہیں۔ مہاتما گاندھی نے بھی ایسی زندگی کی وکالت کی تھی۔ جناب سارنگی کی سادگی اور عوام کے تئیں خدمات کے ان کے جذبے نے وزیراعظم سمیت بہت سے لوگوں کا دل جیت لیا ہے۔وزرا کی نئی کونسل کی حلف برداری کے ساتھ ہی 17ویں لوک سبھا کے چناؤ کا انتخابی عمل پورا ہوگیا۔اب نئی کابینہ کی پہلی میٹنگ پارلیمنٹ کا مختصر سا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کرے گی تاکہ لوک سبھا کے نئے ارکان کو حلف دلایا جاسکے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 900 ملین سے بھی زیادہ ووٹروں میں سے 67 فیصد نے جناب مودی کے ترقی کے ایجنڈے کی حمایت کی۔ ایسی حکومت جو اپنی توجہ ملک وقوم کی فلاح وبہبود پر مرکوز رکھتی ہے وہ عالمی معیشت کے لیے بھی نیک شگون ثابت ہوتی ہے۔
مودی حکومت نے دوسری مرتبہ اپنی ذمہ داری ایسے وقت میں سنبھالی ہے جب عالمی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے اور یہ بات نئی حکومت کے لیے باعث تشویش ہے۔ اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ جاری ہے اور امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے بعد خلیج فارس میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوگیا ہے، جس کا اثر ہندوستان کی افراط زر پر بھی ہوسکتا ہے۔ اپنی پہلی مدت کے دوران وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت افراط زر پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ امید ہے کہ جناب مودی اس بار بھی افراط زر کو قابو میں رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔ اس بات کی بھی امید ہے کہ کسانوں کی فلاح وبہبود کیلئے حکومت زرعی شعبہ کیلئے بھی اہم اقدامات کرے گی۔
Comments
Post a Comment