ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طر ف سے شمالی وزیرستان میں ہونے والی ہلاکتوں کی چھان بین کرانے کا دباؤ


حالیہ دنوں میں پشتون کارکنوں کی تنظیم پشتون تحفظ موؤمنٹ کو بدنام کرنے اور کارکنوں کو کچلنے کی جو کوششیں پاکستان کی سیکورٹی فورسیز کی جانب سے ہوئی ہیں، اس کے باعث نہ صرف پاکستان کے تمام انصاف پسند حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے بلکہ عالمی پیمانے کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سخت احتجاج کیا ہے۔ مجموعی طو رپر بھی پورے پاکستان میں بدنظمی اور لاقانونیت اتنی زیادہ بڑھی ہے کہ سنجیدہ حلقوں میں عمران حکومت کی کارکردگی پر سوالوں کی بوچھار ہونے لگی ہے۔ ہر طرف سے یہی سوال کیا جارہا ہے کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل جو بلند بانگ دعوے کئے تھے کہ وہ پاکستان کو ایک فعال جمہوریت بنائیں گے ، اصل طاقت پارلیمنٹ کو دلائی جائے گی ، اظہار رائے پر قطعی کوئی پابندی نہیں ہوگی، میڈیا بالکل آزاد ہوگا اور آزاد عدلیہ کے قیام کو یقینی بنایاجائے گا ۔وہ تمام کے تمام وعدے اور دعوے صرف دعوے یا خواب ثابت ہوئے۔ ایک ممتاز صحافی اور سابق سفارت کار واجد شمس الحسن نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے تباہ کن اثرات صاف نظر آنے ہی لگے ہیں لیکن اس ضمن میں ان کے ایک انتخابی وعدے کو لوگ ابھی تک نہیں بھولے ہیں کہ وہ بھلے ہی خودکشی کریں گے لیکن بیل آؤٹ کے لئے کاسۂ گدائی لے کر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہےکہ 2008 میں بحالی جمہوریت کے بعد لُولی لنگڑی جمہوریت ہی سہی، کام تو کررہی تھی اور پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کے دوران سیاسی قیدی بناکر لوگوں کو جیل میں تو نہیں بند کیا گیا تھا لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے ایک معزز رکن علی وزیر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں کو تشدد کے لئے اکسایا تھا اور انہوں نے سیکورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا جبکہ ان کے ایک دوسرے رفیق کار محسن داور نے جو خود بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، اس دعوے کو سختی سے جھٹلا یا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ دونوں ممبران پارلیمنٹ جنہوں نے جو قومی اسمبلی میں ترمیم پیش کرنے اور اسے منظور کرانے میں نمایاں رول ادا کیا تھا، وہ احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں، خود پاکستانی فوج کے ترجمان آصف غفور پر الزام ہے کہ وہ ان معزز ممبران کو بدنام کررہے ہیں ۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کے کارکن پر امن مظاہرے کررہے تھے لیکن خودفوج نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ۔ دونوں مذکورہ ممبران پارلیمنٹ پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم کے ایک جلوس کی قیادت کررہے تھے ۔ یہ واقعہ خر قمر کا ہے جو شمالی وزیرستان میں واقع ہے۔ سیکورٹی فورسیز کا الزام ہے کہ انہوں نے چیک پوائنٹ پر حملہ کیا جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گولیاں سیکورٹی فورسیز نے چلائیں جس کے نتیجہ میں کئی افراد ہلاک ہوئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ نہ صرف پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعہ کی مذمت کررہی ہیں اور یہ الزام لگارہی ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے بلکہ تمام سنجیدہ حلقوں نے بھی اس واقعہ پر احتجاج کیا ہے۔ ہلاک ہونے والے پی ٹی ایم کے رکن تھے، پی ٹی ایم کی ایک کارکن اور انسانی حقوق کی ایکٹی وسٹ گلالئی اسماعیل پر بھی جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں۔ ڈبلن کی انسانی حقوق کی تنظیم فرنٹ لائن ڈیفنڈرس نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گلالئی اسماعیل کے خلاف لگائے ہوئے الزامات فی الفور واپس لے اور ان کو اور ان کے خاندان کے لوگوں کو سیکیورٹی فراہم کرے۔

دوسری طرف امنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں ہونے والے واقعے کی جلد از جلد آزادانہ طور پر جانچ کرائے تاکہ اصل صورت حال کا پتہ چل سکے۔ اگر یہ رپورٹ درست ہے کہ فوج کے ہاتھوں غیر قانونی طو ر پر پشتون کا رکن ہلاک ہوئے تو یہ بے حد سنگین واقعہ ہے۔ امنسٹی انٹرنیشنل سے وابستہ جنوبی ایشیا کی ریسرچر رابعہ محمود کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے لہذا سچائی کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے۔ یہ تمام واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فوج کی حمایت سے برسراقتدار آنے والی عمران حکومت لا اینڈ آرڈر کے محاذ پر بھی بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ