پاکستان کے ساتھ بات چیت کےلئے اعتماد اور سکون کا ماحول لازمی


وزیراعظم پاکستان عمران خان، ہند۔ پاک رشتوں کو بہتر بنانے اور جنوبی ایشیا کے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان کے عام انتخابات کے نتائج اپنے حق میں آتے دیکھ کر انہوں نے ہندوستان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی اپنی بات دوہرائی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ان کا یہ پیغام ہندوستان نے نہیں سنا تھا۔ یقیناً اس نے سنا تھا اور س کا نوٹس بھی لیا تھا۔ لیکن ان کے خلوص کا اندازہ تو ظاہر ہے اسی بات سے کیا جاسکتا تھا کہ ان باتوں یا عوامل کے تعلق سے ان کا کیا رویہ ہے جن کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ یقیناً یہ بات عمران خان کے علم میں ہوگی کہ بات چیت کے لئے جب بھی کوئی پیش رفت ہوتی ہے اور کچھ قدم آگے بڑھائے جاتے ہیں تو پاکستان کا کوئی نہ کوئی گروپ اس میں رخنہ ڈال دیتا ہے۔ جو گروپ رکاوٹ ڈالتے ہیں انہیں خود پاکستانی فوج کی حمایت اور پشت پناہی حاصل رہتی ہے اور اس حقیت کا اعتراف تو خود عمران خان کرچکے ہیں کہ کبھی ایسے دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی ایسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کی گئی تھی لیکن اب وہ بوجھ بن چکے ہیں اور ان کی ضرورت اب پاکستان کو نہیں ہے۔ بہرحال عمران خان کے تعلقات کو بہتر بنانے کے عزم کا بھرم اس وقت ٹوٹ گیا جب جیش محمد کے دہشت گردوں نے پلوامہ میں حملہ کرکے 40 سے زیادہ سی آر پی ایف کے جوانوں کو شہید کردیا اور نہ صرف شہید کیا بلکہ بڑے فخر کے ساتھ اس کی ذمہ داری بھی لی۔ لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان جیش محمد کی سرزنش کرنے یا اس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے کا اعلان کرنے کی بجائے یہ رٹ لگانے لگے کہ قابل عمل ثبوت پیش کیا جائے۔ پاکستانی حکمرانوں یا یوں کہئے کہ حکمرانوں کے نام پر اصل ایجنڈا نافذ کرنے والے ایسٹیبلشمنٹ کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کرتا ہے، خواہ وہ ممبئی کا لشکر طیبہ کا حملہ ہو یا پٹھان کوٹ کا جیش محمد کا حملہ! یہ بات عمران خان کے دور اقتدار میں پلوامہ حملے کے بعد بھی دوہرائی گئی۔ عمران خان کی حکومت نے کوئی تعاون نہیں کیا بلکہ ایک طرح سے جیش محمد کو کلین چٹ دینے کی کوشش کی۔ بالا کوٹ پر ہوائی اسٹرائیک کرکے ہندوستان نے دراصل یہ باور کرایا ہے کہ سرحد پار سے اس طرح کی کارروائیاں قطعی برداشت نہیں کی جائیں گی۔


بہرحال ہندوستان کے عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان نے، وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد کا پیغام تو پہلے ہی دے دیا تھا لیکن گزشتہ اتوار کو عمران خان نے اپنے ہندوستانی ہم منصب سے براہ راست فون پر رابطہ قائم کیا اور ان سے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کا جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی لانے کا جو ویژن ہے، اس میں تیزی لائی جائے گی۔ وزیراعظم مودی نے جواب میں کہا کہ اس خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی لانے کے لئے بلاشبہ آپسی اشتراک و تعاون کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ اعتماد کی فضا بحال ہو اور تشدد اور دہشت گردی کے باعث وہ ماحول خراب نہ ہو۔ مختصر یہ کہ تشدد اور دہشت گردانہ واقعات، اعتماد اور پرامن فضا قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں اور اب تک امن قائم کرنے کی ہر پیش رفت جو ناکامی سے دو چار ہوئی ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ دہشت گرد ان تمام کوششوں کو سبوتاژ کرتےرہے ہیں۔ گویا وزیراعظم مودی کی جانب سے ایک بار پھر واضح طور پر یہی پیغام دیا گیا ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت، دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ عمران خان اگر صحیح معنوں میں اس خطے میں امن اور خوشحالی کے خواہاں ہیں تو ادھر ادھر کی باتیں کرنے کی بجائے انہیں بنیادی مسئلہ پر غور کرنا چاہیے اور ایسے طریقے اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ پاکستان کی سرزمین پر سرگرم ان گروپوں کو لگام دی جاسکے جو امن اور خوشحالی لانے کی کوشش میں دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ اگر یہ دیوار ٹوٹ جائے تو کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو جنوبی ایشیا کو امن اور خوشحالی کی جانب قدم بڑھانے کی کوششوں سے روک سکے!!

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ