موضوع:آسیہ بی بی عدالت سے بری لیکن آزادی ملی دیارغیر میں

آسیہ بی بی پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں کی رہنے والی عیسائی خاتون ہے جو چار بچوں کی ماں ہے۔ وہ محنت مزدوری کرتی تھی۔ کسی بات پر مسلمان پڑوسیوں سے اس کی کوئی حجت ہوئی جس کے بعد پڑوسیوں نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے جبکہ شروع سے آخر تک اس کا کہنا یہ تھا کہ اس نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جسے اسلام کی شان میں گستاخی کہا جاسکے۔ پاکستان میں اہانت دین قانون کو اتنا سخت بنادیا گیا ہے کہ اس کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے۔ ویسے تو اس الزام کی زد میں کوئی بھی آجاتا ہے لیکن اقلیتیں اس کا خاص نشانہ بنتی ہیں یہ قانون شروع سے ہی متنازعہ رہا ہے اور پاکستان کی سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے ایکٹیویسٹ   لگاتار اس کے خلاف احتجاج اور قانون میں مناسب ترمیم کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان کاسب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس قانون کا بے جا اور غلط استعمال ہورہا ہے اور ذاتی عداوت کی بنیاد پر بھی لوگ ایک دوسرے کو پھنساتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف انتہاپسند حلقوں نے اس قانون کے تعلق سے ماحول کو اتنا جذباتی بنادیا ہے کہ صرف الزام یا افواہ کی بنیاد پر لوگ ملزم کے خون کے پیاسےہوجاتے ہیں اور متعدد واقعات ایسے بھی ہوئے جن میں یہ دیکھا گیا کہ بپھری ہوئی بھیڑ نے ملزم کا کام تمام کردیا۔ محض الزام کی بنیاد پر گھروں میں آگ لگانے اور زندہ جلائے جانے کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں ایسے ہی ماحول میں آسیہ بی بی پر مقدمہ قائم ہوا۔ ایک نچلی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا بھی سنادی۔ صوبہ پنجاب کے ایک گورنر سلمان تاثیر نے بھی اہانت دین قانون میں مناسب ترمیم کرنے کی مانگ کی تھی۔ انہوں نے آسیہ بی بی کی پھانسی  کی سزا معاف کرانے کی بھی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں انہیں انہی کے ایک سیکورٹی گارڈ نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ تحریک لبیک پاکستان، جس نے گزشتہ عام انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا وہ سلمان تاثیر کے قاتل کے ہی خیالات کی نمائندگی کرتی ہے۔
بہرحال، آسیہ بی بی کا مقدمہ جب سپریم کورٹ میں پہنچا تو اس نے آسیہ بی بی کو الزام سے بری کردیا۔ اس پر تحریک لبیک نے پورے پاکستان میں احتجاجی  مظاہرے کئے اور ہر طرف افراتفری مچ گئی تھی۔ تحریک لبیک کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حکومت نے آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلہ پر نظرثانی کرنے کی مانگ بھی مان لی تھی۔ لیکن نظرثانی کے بعد بھی بری کئے جانے کا فیصلہ برقرار رہا۔ آسیہ بی بی رہا تو ہوگئی لیکن صحیح معنوں میں آزاد نہ ہوپائی۔ اسے سخت حفاظت میں رکھا گیا اور اب یہ سننے میں آیا ہے کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ کر کناڈا  چلی گئی جہاں اس کے خاندان کے لوگ پہلے ہی جاچکے تھے، ذرا غور کیجئے۔ یہ کیسا ماحول ہے جہاں ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اسے بے قصور قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیا اس کے باوجود وہ پاکستان میں آزاد نہیں رہ سکتی تھی۔ آزادی حاصل کرنے کے لئے اسے اپنا گھر بار اور وطن سب کچھ چھوڑ کر دیارغیر میں پناہ لینی پڑی۔ صرف آسیہ بی بی ہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ جو انتہاپسند حلقوں یا فوج اور اس کی ایجنسیوں کو پسند نہیں، انہیں پاکستان کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ اس کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ بہت سے صحافی، دانشور، سیاست داں اور فنکار ایسے ہیں جنہیں اظہار رائے کی قیمت جلاوطنی کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔ عمران خان کے نئے پاکستان میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ