آئی ایم ایف کی امداد: پاکستان کیا پائے گا کیا کھوئے گا؟
بالآخروہی ہوا جس کی سیاسی مبصرین توقع کررہے تھے۔ مہینوں تک پاکستان کی تگ و دو کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے پاکستان کو 6؍ارب ڈالر کی امداد دینا منظور کرلیا ہے جو کہ شائستگی کی زبان میں قرض کا دوسرا نام ہے۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے 8؍ ارب ڈالر کی مدد مانگی تھی جب کہ اسے صرف 6؍ ارب ڈالر دیئے گئے ہیں۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آئی ایم ایف کی اس نام نہاد مدد کے سہارے کیا پاکستان اس اقتصادی بحران سے باہر نکل سکتا ہے جس میں وہ ان دنوں مبتلا ہے؟ اگر یہ عالمی بینک، آئی ایم ایف، چین ، سعودی عرب اور دوسرے ملکوں سے لئےگئے قرضہ جات کو جوڑ کر دیکھیں تو آئندہ 15 جون تک پاکستان کی قرض داری مع سود 90 ؍ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس صورت میں 6؍ ارب ڈالر کی مدد پاکستان کے بحران کو عبور کرنے میں کتنی مدد پہنچائے گی اس کا قیاس بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔
لیکن اسی دوران آئی ایم ایف کی جو شرطیں پاکستان کو پوری کرنی ہوں گی، ان کے سبب یہ طے ہے کہ عام پاکستانی کی زندگی ایک جہنم زار بننے کے درپے ہے ، یہ اور بات ہے کہ عام شہری آج بھی کوئی بہت خوشحال نہیں ہیں۔ مثال کے لئے آئی ایم ایف کی ایک شرط یہ ہے کہ بجلی اور گیس کی سپلائی پر جو سبسڈی دی جارہی ہے وہ ختم یا کم کی جائے اور اس کے سبب ان کے اور ان پر مشتمل اشیاء و خدمات کے داموں میں چہار طرف اضافے ممکن ہیں۔ اسی طرح ایک اور شرط ہے عوام کو مختلف ٹیکسوں میں جو 700؍ ارب ڈالر کی رعایت حاصل ہے وہ ختم کی جائے اور یہ قدم بھی عوام کی مشکلات میں زبردست اضافہ کرسکتی ہے۔ مزہ کی بات یہ ہے کہ 700؍ ارب ڈالر کی ٹیکس چھوٹ کی شرط محض 6 ؍ارب ڈالر کی نام نہاد مدد پانے کے لئے قبول کی گئی ہے۔
اسی طرح ایک اور شرط کے مطابق پاکستان کو بینک سود کی شرح کو بڑھا کر 12 فیصد کرنا ہوگا جو عوام کے لئے ضرب کاری ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک تو اس سے مکان بنوانے یا خریدنے یا چھوٹے کام دھندے شروع کرنے کے لئے بینک قرض کے طلبگار متاثر ہوں گے اور دوسرے صنعت و حرفت اور زراعت پر بھی ا س کے نامناسب اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
واقعی جیسا کہ پاکستان کی حزب مخالف کی پارٹیوں کا خدشہ ہے اس کے سبب کل ملا کر پاکستان کی اپنی سیاسی واقتصادی خود مختاری مجروح ہوسکتی ہے اور بعض پارٹیوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کسی مرحلہ میں آئی ایم ایف اپنے کسی پسندیدہ شخص کے وزیر اعظم بنائے جانے کا مطالبہ پیش کرے۔خیر اگر بات اس حد تک نہیں بڑھتی تو بھی یہ تو ممکن ہے کہ عوام کی پیٹھ کے پیچھے آئی ایم ایف بجٹ یا ہر منصوبہ کو پارلیمنٹ سے پہلے اس کے سامنے پیش کئے جانے کا مطالبہ کرے۔ کچھ ملک آج یہی کررہے ہیں اور وہ عالمی بینک یا آئی ایم ایف سے اپنے بجٹ کی توثیق کرانے کے بعد اسے عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے پیش کرتے ہیں جو کہ جمہوریت کے نام پر جمہوریت کی کھلی ہوئی توہین ہے۔ان تمام اقدامات کے سبب یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستانی روپیہ کا بھاؤ بے حد گر سکتا ہے اور اس سال کے آخر تک ایک امریکی ڈالر 160؍ سے165؍ پاکستانی روپیوں کے برابر ہوسکتا ہے۔ جب کہ آج وہ 142؍روپے کے آس پاس ہے۔ لیکن پھر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس کا اندازہ بھی بخوبی اور بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ اس کا کل ملا کر یہ نتیجہ نکلے گا کہ بین الاقوامی بازار میں پاکستان کو برآمدات سے ہونے والی آمدنی حقیقی معنوں میں کم ہوگی اور ڈالروں میں پاکستان کی درآمدت کے دام بے تحاشہ بڑھیں گے جس کے سبب عوام کی زندگی اجیرن بن کر رہ جائے گی۔
علاوہ ازیں عوام کو رجھانے کے لئے جناب عمران خان نے ابھی دو ماہ پہلے مارچ میں بڑے پیمانے پر سماجی خدمات کی ایک اسکیم شروع کرنے کا جو اعلان کیاتھا کہ اس سے عوام کی آمدنی اور عوام کے معیار زندگی میں اضافہ ہوگا، اسے تو اب بھول ہی جانا بہتر ہوگا۔ یوں بھی انہوں نے اس منصوبہ کا اعلان تب کیا تھا جب ان کی سرکار آئی ایم ایف سے قرض کی شرطوں پر گفتگو میں مصروف تھی۔ اس سے تو بس یہی قیاس ہوتا ہے کہ موصوف کا یہ اعلان عوام اور سیاسی پارٹیوں کی مخالف کی دھار کو کند کرنے کے لئے ہی کیا گیا تھا۔
جو بھی ہو یہ بات طے ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ حالیہ قرض پاکستان کی مشکلوں کو حل کرنے کی بجائے اس میں اضافہ ہی کرے گا۔ غرضیکہ جب تک پا کستان اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائے ،تب تک اس کے پاس اتنی رقم کبھی نہیں بچے گی کہ وہ اسے پیداواری کاموں میں لگا کر عوام کو معمولی سی راحت بھی پہنچا سکے اور موجودہ بحران سے باہر آسکے۔
لیکن اسی دوران آئی ایم ایف کی جو شرطیں پاکستان کو پوری کرنی ہوں گی، ان کے سبب یہ طے ہے کہ عام پاکستانی کی زندگی ایک جہنم زار بننے کے درپے ہے ، یہ اور بات ہے کہ عام شہری آج بھی کوئی بہت خوشحال نہیں ہیں۔ مثال کے لئے آئی ایم ایف کی ایک شرط یہ ہے کہ بجلی اور گیس کی سپلائی پر جو سبسڈی دی جارہی ہے وہ ختم یا کم کی جائے اور اس کے سبب ان کے اور ان پر مشتمل اشیاء و خدمات کے داموں میں چہار طرف اضافے ممکن ہیں۔ اسی طرح ایک اور شرط ہے عوام کو مختلف ٹیکسوں میں جو 700؍ ارب ڈالر کی رعایت حاصل ہے وہ ختم کی جائے اور یہ قدم بھی عوام کی مشکلات میں زبردست اضافہ کرسکتی ہے۔ مزہ کی بات یہ ہے کہ 700؍ ارب ڈالر کی ٹیکس چھوٹ کی شرط محض 6 ؍ارب ڈالر کی نام نہاد مدد پانے کے لئے قبول کی گئی ہے۔
اسی طرح ایک اور شرط کے مطابق پاکستان کو بینک سود کی شرح کو بڑھا کر 12 فیصد کرنا ہوگا جو عوام کے لئے ضرب کاری ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک تو اس سے مکان بنوانے یا خریدنے یا چھوٹے کام دھندے شروع کرنے کے لئے بینک قرض کے طلبگار متاثر ہوں گے اور دوسرے صنعت و حرفت اور زراعت پر بھی ا س کے نامناسب اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
واقعی جیسا کہ پاکستان کی حزب مخالف کی پارٹیوں کا خدشہ ہے اس کے سبب کل ملا کر پاکستان کی اپنی سیاسی واقتصادی خود مختاری مجروح ہوسکتی ہے اور بعض پارٹیوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کسی مرحلہ میں آئی ایم ایف اپنے کسی پسندیدہ شخص کے وزیر اعظم بنائے جانے کا مطالبہ پیش کرے۔خیر اگر بات اس حد تک نہیں بڑھتی تو بھی یہ تو ممکن ہے کہ عوام کی پیٹھ کے پیچھے آئی ایم ایف بجٹ یا ہر منصوبہ کو پارلیمنٹ سے پہلے اس کے سامنے پیش کئے جانے کا مطالبہ کرے۔ کچھ ملک آج یہی کررہے ہیں اور وہ عالمی بینک یا آئی ایم ایف سے اپنے بجٹ کی توثیق کرانے کے بعد اسے عوام کے منتخب نمائندوں کے سامنے پیش کرتے ہیں جو کہ جمہوریت کے نام پر جمہوریت کی کھلی ہوئی توہین ہے۔ان تمام اقدامات کے سبب یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستانی روپیہ کا بھاؤ بے حد گر سکتا ہے اور اس سال کے آخر تک ایک امریکی ڈالر 160؍ سے165؍ پاکستانی روپیوں کے برابر ہوسکتا ہے۔ جب کہ آج وہ 142؍روپے کے آس پاس ہے۔ لیکن پھر اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس کا اندازہ بھی بخوبی اور بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ اس کا کل ملا کر یہ نتیجہ نکلے گا کہ بین الاقوامی بازار میں پاکستان کو برآمدات سے ہونے والی آمدنی حقیقی معنوں میں کم ہوگی اور ڈالروں میں پاکستان کی درآمدت کے دام بے تحاشہ بڑھیں گے جس کے سبب عوام کی زندگی اجیرن بن کر رہ جائے گی۔
علاوہ ازیں عوام کو رجھانے کے لئے جناب عمران خان نے ابھی دو ماہ پہلے مارچ میں بڑے پیمانے پر سماجی خدمات کی ایک اسکیم شروع کرنے کا جو اعلان کیاتھا کہ اس سے عوام کی آمدنی اور عوام کے معیار زندگی میں اضافہ ہوگا، اسے تو اب بھول ہی جانا بہتر ہوگا۔ یوں بھی انہوں نے اس منصوبہ کا اعلان تب کیا تھا جب ان کی سرکار آئی ایم ایف سے قرض کی شرطوں پر گفتگو میں مصروف تھی۔ اس سے تو بس یہی قیاس ہوتا ہے کہ موصوف کا یہ اعلان عوام اور سیاسی پارٹیوں کی مخالف کی دھار کو کند کرنے کے لئے ہی کیا گیا تھا۔
جو بھی ہو یہ بات طے ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ حالیہ قرض پاکستان کی مشکلوں کو حل کرنے کی بجائے اس میں اضافہ ہی کرے گا۔ غرضیکہ جب تک پا کستان اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائے ،تب تک اس کے پاس اتنی رقم کبھی نہیں بچے گی کہ وہ اسے پیداواری کاموں میں لگا کر عوام کو معمولی سی راحت بھی پہنچا سکے اور موجودہ بحران سے باہر آسکے۔
Comments
Post a Comment