سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کی خستہ حالت


رمضان پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ مسلمان ہر سال ماہ رمضان میں روزہ رکھتے ہیں اور تلاوت وعبادت کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ روزہ انسان کے اندر صبر و تحمل، اپنے نفس پر قابو پانےا ور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں غریب اور محروم لوگوں کو شریک کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے، لیکن چین کے صوبہ شن جیانگ Xinjiang کے مسلمانوں کےلئے یہ مہینہ مشکلات اور پریشانیوں سے پُر ہے۔ چین کی حکومت نے اس صوبہ کے مسلمانوں  پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کررکھی ہیں، انہیں قرآن کی تلاوت اور عبادت سے روکا جارہا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں طرح طرح کی اذیتیں دی جارہی ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس دور جدید میں چین دنیا کا شاید واحد ملک ہے، جہاں کسی مخصوص مذہب اور نسلی اقلیت کو اپنے مذہب، ثقافت اور رسم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے سے روکا جارہا ہے۔ چین نے شن جیانگ Xinjiang کے اویغور نسل کے مسلمانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے نام پر حراستی کیمپوں میں قید کررکھا ہے۔ انہیں اذیتیں دی جارہی ہیں اور مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ عالمی برادری اور حقوق انسانی کی تنظیمیں چین کے اس غیر انسانی فعل کے خلاف باربار آواز بلند کرتی رہی ہیں، لیکن چین نے ابھی تک ان کی باتوں پر توجہ نہیں دی ہے اور ان کی درخواست کو نظر انداز کرتا رہا ہے۔ در اصل چین میں اس طرح کے واقعات کی ایک تاریخ رہی ہے۔ حقوق انسانی کے محاذ پر  اس کا ریکارڈ انتہائی خراب رہا ہے۔ چین نے اپریل 1989 میںTIANANMEN تیاننمین چوک پر جمہوریت کے حامی مظاہرین کو بڑی بے رحمی سے کچل دیا تھا۔ اس کارروائی میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں احتجاجی مظاہرین ہلاک ہوئے تھے، جن میں بیشتر تعداد طلبہ کی تھی، لیکن چین کی حکومت نے ان ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں بتائی تھی، جہاں تک اویغور مسلمانوں کا تعلق ہے تو وہ بھی وقفہ وقفہ سے چین کے ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ شن جیانگ Xinjiang میں جولائی 2009 میں پیش آنے والے اسی طرح کے ایک واقعہ میں 140 لوگوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ در اصل چین کا اپنا خاص نظریہ اور پالیسی ہے۔ وہ اس کے خلاف کسی بھی عمل کو نہ صرف ناپسند کرتا ہے، بلکہ اسے جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چین تبت کی طرح شن جیانگ  کو بھی خود مختار علاقہ قرار دیتا ہے، لیکن یہاں جس طرح کے حالات ہیں وہ کسی نوآبادیاتی نظام سے مختلف نہیں ہیں، جہاں ہر طرح کی ظلم و زیادتی روا رکھی جاتی ہے۔ چین شاید یہ محسوس کرتا ہے کہ اس طرح کی پالیسی پر عمل کرکے وہ اپنے توسیع پسندانہ نظریہ کو فروغ دینےمیں کامیاب ہوجائے گا۔ اس نے نہ صرف چین کے اندر بلکہ چین کی سرحدوں سے دور بھی مخاصمانہ رویہ اختیار کررکھا ہے۔ جنوبی بحیرۂ چین پر دعویٰ کرنا اور اسے اپنا علاقہ قرار دینا نیز تائیوان کو چین کا حصہ قرار دینا اس کی واضح مثالیں ہیں۔ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ چین کی توقعات میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور وہ سرفہرست بننے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور اس کوشش میں امریکہ کے ساتھ اس کے تجارتی تنازعہ میں شدت آگئی ہے۔ چین کا اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بھی تنازعہ جاری ہے۔ ان ملکوں میں تائیوان ، فلپائن، ملیشیا، انڈونیشیا وغیرہ خاص طور سے شامل ہیں’ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ چین کی ان تمام حرکتوں کے باوجود پاکستان سے اس کی دوستی گہری ہوتی جارہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ پاکستان نے چین کے توسیع پسندانہ نظریہ کو خوش آمدید کہا ہے اور بلوچستان میں احتجاجی مظاہروں کے باوجود چین کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے۔ چین پاکستان میں اقتصادی کوریڈور کے نام پر تقریباً 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے، حالانکہ ہندوستان نے اس پر اعتراض ظاہر کیا ہے، کیونکہ ون روڈ ون بیلٹ (One Road One Belt) جموںوکشمیر کے پاکستان کے قبضے والے علاقے سے ہوکر گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے پہلے ہی اس پروجیکٹ میں شامل ہونے سےا نکار کردیا تھا۔ ان سب حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات حیران کن ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے حقوق کی بات کرنے کا ڈھونگ کرنے والے پاکستان نے چین میں اویغور مسلمانوں کی حالت زار پر مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ پاکستان کے تعلق سے عالمی سطح پر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ وہ چین کے قرض میں پھنس جائے گا، جس سے نکلنا اس کےلئے ممکن نہیں ہوگا۔ پاکستان میں جو اس وقت معاشی بحران سے دو چار ہے، اس سے یہ خدشہ درست ثابت ہوا ہے اور اب پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بھی قرض لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ دانشمندی سے کام لیتے ہوئے اپنے عوام ، اپنے ملک کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھے اور چین کی طرف سے غیر ضروری دباؤ کو مسترد کرکے اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ خوشگوار رشتے قائم کرے اور دہشت گردی کے تدارک کےلئے ان کے ساتھ مل کر کام کرے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ